کیا اس رات کی صبح ہوگی ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں خواتین کی ایک تنظیم نے بھارت اور پاکستان کے جنگی قیدیوں کی رہائی کے لئے امن مارچ کا اہتمام کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ برسوں سے دونوں ممالک کے قیدی ایک دوسرے کی جیلوں میں بے بسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور اب بدلتے حالات میں ان کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے تا کہ وہ اپنی زندگی کے آخری لمحات اپنے گھر میں گزار سکیں۔ جنگ میں بیوہ ہونے والی خواتین کی تنظیم " وار ویڈوز ایسوسی ایشن " نے بھارت اور پاکستان کے ان فوجیوں کی یاد میں امن مارچ کیا جو 1965 اور 1971 کی جنگ میں لاپتہ ہو گئے تھے۔ اس موقع پر کافی تعداد میں خواتین دلی کے تاریخی انڈیا گیٹ پر جمع ہوئیں۔ ان کے پوسٹرز اور بینروں پر لکھا تھا کہ ہمارے قیدی جو پاکستانی جیلوں میں قید ہیں یا وہ جو ہندوستان میں قید ہیں انہیں واپس کیا جائے۔ اس موقع پر ایسوسی ایشن کی نائب صدر میرا کھّنہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا کہنا تھا کہ ’جس طرح ہندوستان کے 54 جنگی قیدی 1971 سے پاکستانی جیلوں میں ہیں اسی طرح پاکستان کے جنگی قیدی بھی ہندوستان کی جیلوں میں ضرور قید ہونگے۔فی الوقت دونوں ممالک کے درمیان امن کا ماحول ہے اور حالات بدل رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ان قیدیوں کے متعلق بات ہونی چاہیے اور ان کی رہائی میں مشکلات نہیں آنی چاہیئں‘۔ اس جلوس میں شریک ایک بزرگ خاتون سومن پروہت نے بتایا کہ انکے شوہر فلائٹ لیفٹیننٹ منوہر پروہت سن 1971 کی جنگ کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 33 سال سے وہ انکی منتظر ہیں۔ لیکن انکی واپسی کی کوئی خبر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جانتی ہے کہ وہ زندہ ہیں لیکن اس نے انکی رہائی کے لیے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ انہیں صرف اتنی ہی اطلاع ہے کہ وہ جیل میں ہیں۔ انڈیا گیٹ پر جمع ہونے والی زیادہ تر خواتین کا کوئی نہ کوئی رشتہ دار یا تو جیل میں تھا یا پھر لاپتہ ہے۔اس دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ میڈیا سے بات چیت کے دوران کئی مرتبہ انکی آنکھیں نم ہوگئیں۔ اپنے غم کی داستان بیان کرتے ہوئے ایسی ہی ایک غم زدہ خاتون نے بی بی سی کو بتایا ’میرے شوہر انڈین ایئر فورس میں فائٹر پائلٹ تھے اور 1971 کی جنگ کے بعد سے وہ پاکستان کی جیل میں ہیں۔ اس وقت میں پاکستانی عوام، وہاں کے حکمرانوں اوراپنی حکومت سے ان قیدیوں کی رہائی کی اپیل کرتی ہوں۔ یہ قیدی اپنی جوانی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار چکے ہیں۔ لیکن اگر وہ رہا ہو جائیں تو شاید وہ اپنی زندگی کی شام اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گزار سکیں گے‘۔ ایک بوڑھے باپ نے اپنے جوان گم شدہ بیٹے کی داستان بتاتے ہوئے کہا کہ کارگل کی جنگ کے بعد انکے بیٹے کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ اسکی عمر صرف بائیس برس تھی اور وہ کہاں ہے کسی کو پتہ نہیں۔ زیادہ تر لوگوں کا کہنا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن مذاکرات سے حالات بہتر ہوئے ہیں اور اگر دونوں ملکوں کی حکومتیں انسانی ہمدردی کے تحت اس مسئلے پر غور کریں تو دونوں جانب کے قیدی اپنے لواحقین کے ساتھ اپنی باقی زندگی گزار سکیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||