بھارتی فوج، خودکشیوں کی زد میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماضی میں ہندوستانی فوج کے جوانوں پر کئی فلمیں بنیں اور کئی نغمے بھی لکھے گۓ لیکن ان دنوں فوج کے جوانوں کا ذکر ديگر وجوہات سے ہو رہا ہے۔ اس مہینے کے آغاز ميں فوج کے ایک لفٹیننٹ کرنل پنکج جھا نے خود کشی کر لی تھی۔ آج بھی انکی والدہ اس حادثے کو سمجھ نہیں پا رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں نہیں پتہ کیا ہوا۔ اس کی گھر والوں اور بیوی سے کوئی لڑائی نہیں تھی۔ ہمیں امید ہے کہ فوج اسکی موت کی تفتیش کرے گی‘۔ 38 سالہ پنکج جھا گزشتہ 14 برس سے فوج میں تھے۔ ابھی پنکج جھا کی موت کی تحقیقات کی جا رہی تھیں کہ ایک اور جوان نے پنکھے سے لٹک کر خودکشی کر لی۔ اس برس پنکج جھا کے علاوہ کیپٹن سنیت کوہلی ، میجر شوبھا رانی، لفٹیننٹ سشمیتا چیٹرجی جیسے کئی جوانوں نے خود کشی کی ہے۔ وزیر دفاع اے کے انٹونی نے فوجیوں ميں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی تفتیش کے لئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس سال کے اعدادوشمار پر نظر ڈالنے پر خودکشی کے علاوہ ایک ایک اور مسئلہ سامنے آیا ہے۔ ایک جوان نے اپنے ساتھی جوان یا اپنے افسر کی جان لے لی۔ اعدادو شمار پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے واقعات میں ہلاک ہونے والے جوانوں کی تعداد شدت پسندوں کے حملوں میں مارے گئے جوانوں کی تعداد سے تقریباً دُگنی ہے۔
2006 میں 72 جوان شدت پسندوں کےحملے میں مارے گئے جبکہ 102 جوانوں نے خودکشی کی۔ اس کے علاوہ 23 فوجی ایک دوسرے کی گولی کا نشانہ بنے اور نوجوانوں نے اندھا دھند گولہ باری میں بھی اپنی جانیں گنوائی ہیں۔ ان سب واقعات کے پیچھے جو وجہ بتائی گئی، وہ تھی ’ ذہنی دباؤ‘۔ ہندوستانی فوج کے جوان جموں کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میں ہر روز مختلف قسم کی جھڑپوں کا سامنا کرتے ہیں۔ سابق میجر جنرل افسر کریم کہتے ہیں ’آج کی تاریخ میں نئی رجمنٹس مثلاً قومی رائفلز میں نتائج پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ ان کی ترقی اسی پر منحصر ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ تمغوں اور اعزازات کا انحصار بھی نتائج پر ہے۔ تینوں جنگوں میں حصہ لینے والے میجر جنرل (ریٹائرڈ) افسر کریم مزید کہتے ہیں کہ ’ہمارے وقت میں ہمیں اپنے جوانوں کا نام معلوم ہوتا تھا اور یہ بھی پتہ ہوتا تھا کہ ان کا گھر کہاں ہے۔ ہم ان کے لواحقین سے بھی ملاقات کیا کرتے تھے لیکن آج وہ بات نہیں رہ گئی ہے‘۔ ماضی جب فوج کو درمیانے طبقے والے لوگوں کو اچھی نوکری فراہم کرنے والا ادارہ سمجھا جاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے کیونکہ نجی شعبوں میں اچھی نوکریاں موجود ہیں اور تنخواہ بھی اچھی ملتی ہے۔ گھر اور اپنے عزیز و اقارب سے دور رہنا فوجیوں کے لیے مختلف قسم کی مشکلات پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح ازدواجی زندگی کی ضروریات پوری کرنا بھی فوجیوں کے لیے بڑا چیلنج بن جاتا ہے اور یہ جوان ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ماہرِ نفسیات اچل بھگت کا کہنا ہے کہ ’فوج کے جوانوں کے لیے مشورے اور حوصلہ افزائی کا نظام بنانے کی ضرورت ہے‘۔ فوج کے ترجمان ایس کے سلوجا کے بقول فوجی ایک دوسرے کو اس وقت ہلاک کرتے ہیں جب انہيں لگتا ہے کہ ان کے افسر انہیں اذيت پہنچا رہے ہیں یا پھر جب ان کے درمیان سخت بحث ہو جاتی ہے۔ لیکن فوج کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ’حال ہی میں فوج اور افسر کے درمیان رابطے کو بہتر بنایا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے افسران، ماہرینِ نفسیات اور مذہبی رہنماؤں کی مدد لی جارہی ہے‘۔ افسروں اور فوجیوں کے درمیان بہتر تعلقات قائم کرنے کے لیے اچھے رابطے اور خاندان کی طرح مل جل کر زندگی گزارنا مدد گار ثابت ہوسکتا ہے لیکن بالآخر اصلاح فوج کو خود کرنی ہوگی۔ | اسی بارے میں فوج میں خود کشی پر کمیٹی قائم10 December, 2006 | انڈیا فوج میں ہر سال سو خود کشیاں04 November, 2006 | انڈیا ’ڈیوٹی کا کرب‘، فوجی ہلاک29 October, 2006 | انڈیا فوج میں مسلمانوں کے سروے پر تنازعہ 13 February, 2006 | انڈیا ’باغیوں سے نمٹنا فوج کا کام نہیں‘04 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||