BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 January, 2006, 12:12 GMT 17:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’باغیوں سے نمٹنا فوج کا کام نہیں‘

 جنرل جوگندر جسونت سنگھ
باغیوں سے نمٹنا ریاستی پولیس کی ذمہ داری ہے
بھارتی فوج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ فوج ملک کے مشرقی، وسطی اور جنوبی علاقوں میں ماؤ نواز باغیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جنرل جوگندر جسونت سنگھ کا کہنا تھا کہ بہتر یہی ہو گا کہ فوج کو ماؤ نواز باغیوں کے مقابلے پر نہ اتارا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی پولیس کو ان باغیوں سے نمٹنا چاہیے اور فوج کو صرف حکومت کو ان معاملات پر مشورہ دینا چاہیے۔

جنرل سنگھ نے کہا کہ’ بھارتی وزارتِ داخلہ باغیوں کے زیرِ اثر ریاستوں کی پولیس کے درمیان تعاون بڑھانے کے سلسلے میں متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کے شمال مشرقی علاقے میں ہتھیار ڈالنے والے علیحدگی پسند ان خصوصی بٹالینوں میں ضم ہو جائیں گے جو ماحول کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں۔

جنرل جسونت سنگھ نے بتایا کہ دو ہزار آسامی افراد پر مشتمل ریاستی فوج کی دو ماحولیاتی بٹالینیں اس وقت کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ یہ بٹالین شجر کاری، دریاؤں کے کناروں کی مضبوطی اور دیگر ماحولیاتی بچاؤ کے کام کر رہی ہے۔ جب یہ تجرباتی کام صحیح طریقے سے ہو جائے گا تو فوج دیگر شمال مشرقی ریاستوں کے افراد کو ان بٹالینوں میں شامل کرنے کی تجویز دے گی‘۔

اس سے قبل ہزاروں علیحدگی پسند باغیوں کو بارڈر سکیورٹی فورس اور سی آر پی ایف جیسی وفاقی پارلیمانی فورس میں نوکری دی گئی تھی لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ یہ افراد کسی ماحولیاتی کام میں حصہ لیں گے۔

جنرل سنگھ کا خیال ہے کہ اس قسم کے کام میں مصروف ہونے سے ان باغیوں کی آبادکاری اور معاشرے میں واپسی میں آسانی ہوگی۔

بھارت میں گزشتہ چند ماہ کے دوران ماؤ نواز باغیوں کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور نومبر میں 1000 کے قریب باغیوں نے جہان آباد کی جیل پر حملہ کر کے اپنے 400 ساتھیوں کو رہا کروا لیا تھا۔ اس واقعے میں سات افراد مارے گئے تھے جبکہ تیس برس سے جاری ماؤ نواز باغی تحریک میں مجموعی طور پر ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں
بارودی سرنگ، 24 فوجی ہلاک
04 September, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد