تری پورہ: باغی حملہ، آٹھ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمال مشرقی ریاست تری پورہ میں علیحدگی پسند باغیوں نےآٹھ افراد کو گولی مار کر ہلا ک کردیا ہے۔ باغیوں نے رات میں ایک گاؤں پر حملہ کیا تھا۔اس واقعے میں ایک درجن افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ آدھی رات کے قریب آل تری پورہ ٹائیگر فورس کے ایک گروپ نے شانتی پارہ گاؤں پر حملہ کیا اور کئی افراد کو گھر سے باہر لاکر گولی مار دی۔ اس واقعے کی دہشت سے جب گاؤں کے باشندے بھاگنے لگے تو باغیوں نے اندھا دھند گولیاں چلا نی شروع کردیں۔ اس میں سات افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ ایک کی موت ہسپتال میں ہوئی ہے۔ مرنے والے تمام افراد کا تعلق بنگالی بنکر برادری سے ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ چار زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ باغی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ تری پورہ کے چیف پولیس افسر جی ایم سری واستو نے الزام لگایا ہے کہ باغیوں نے بنگلہ دیش کے کلنگا ٹیلہ علاقے میں پناہ لے رکھی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش حکام نے باغیوں کے بعض ٹھکانوں کو تباہ کیا ہے لیکن وہ پوری طرح سے انہیں ختم نہیں کر رہے ہیں۔ ہندوستان یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں میں سرگرم کئی باغی گروپوں نے بنگلہ دیش میں اپنے ٹھکانے مضبوط کرلیے ہیں اور وہ اپنی کاروائیاں وہیں سے انجام دیتے ہیں۔لیکن بنگلہ دیش اس الزام کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں میں علحیدگی پسند باغی ایک مدت سے فوج اور حکومت سے نبردآزما ہیں۔ یہ ریاستیں پندرہ اکتوبر سنہ انیس سو انچاس کو بھارت میں ضم ہوئيں تھیں۔ یہاں تشدد میں کچھ کمی دیکھی گئی تھی۔ لیکن حال میں اس میں اضافہ ہوا ہے اور انٹیلیجنس ایجنسیز نے خبر دار کیا ہے کہ اکتوبر کے ماہ تک مزید تشدد کا اندیشہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||