BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 August, 2006, 15:16 GMT 20:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جموں: حج کوٹہ میں کمی پرتشویش

ریاست کے سرمائی دارالحکومت جموں میں پچھلے دو دنوں سے عازمین حج کا کوٹہ بڑھانے کے لیئے مظاہرے ہو رہے ہیں۔
ہندوستان کی مرکزی حکومت کی جانب سے اس برس عازمین حج کے کوٹے میں کمی کیئے جانے کے سبب جموں و کشمیر میں ریاستی حکومت کو لوگوں کے اشتعال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک اس سال ریاست کے مختلف علاقوں سے تیرہ ہزار افراد نے حج پر جانے کی درخواستیں دی ہیں جبکہ ریاست کے لیئے عازمین کی تعداد صرف 6617 مقرر کی گئی تھی۔ پچھلے سال ریاست سے تقریباً نو ہزار عازمین کو حج پر جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

باخبر ذرائع کے مطابق حالات کی نزاکت کے پیش نظر ریاست کے وزیرِاعلٰی ‏‏غلام نبی آزاد نے مرکزی حج کمیٹی سے کوٹہ بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا تھا لیکن اسے مسترد کر دیا گیا ہے۔

مرکزی حکومت کی طرف سے اضافی حج کوٹہ نہ دینے کی وجہ سے ریاست بھر میں مسلمانوں میں ‏غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس اقدام کو ریاست کے ساتھ جانبدارانہ رویے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

جموں مسلم فیڈریشن کے صدر عبدالمجید کہتے ہیں کہ کوٹے میں کمی مسلمانوں کو اپنے مذہبی فریضے انجام دینے سے روکنے کے متراوف ہے۔ ’ اگر پچھلے برسوں میں آٹھ سے نو ہزار عازمین حج کے لیئے جا سکتے ہیں تو اس سال کمی کا کوئی سبب نظر نہیں آتا۔‘

ریاست کے سرمائی دارالحکومت جموں میں پچھلے دو دنوں سے عازمین حج کا کوٹہ بڑھانے کے لیئے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پوری ریاست کے لیئے اتنا کم کوٹہ مختص کرنا ’سراسرنا انصافی اور ریاست کے مسلمانوں کے خلاف سازش ہے-‘

جموں حج ایسپیرنٹ فورم کے صدر شاک محمد ملک نے یہاں تک الزام لگایا کہ کوٹہ میں کمی کے بعد اب ریاستی حکومت جموں کے مسلمانوں کے ساتھ تفریق برت رہی ہے تا کہ اسے وادی کشمیر میں لوگوں کے غصے کا نشانہ نہ بننا پڑے۔
ان کے مطابق جموں میں مسلمانوں کی آبادی ساڑھے تیرہ لاکھ سے زائد ہے جبکہ اس سال کے لیئے صرف 976 افراد کا کوٹہ فراہم کیا گیا ہے۔

دوسری طرف سرینگر سے ایک عازم حج غلام رسول کا کہنا تھا کہ ریاست کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر براہ راست سعودی حکومت سے بات کرے تا کہ کوٹہ بڑھایا جا سکے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ریاست کے وزیر برائے حج پیرزادہ محمد سید نے اس بات سے انکار کیا کہ حج کے کوٹے میں کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا ’حج کا کوٹہ ہر سال 6617 ہی ہوتا ہے لیکن پچھلے سال ریاست کے وزیر اعلی نے مرکزی سرکار اور سعودی حکومت سے درخواست کی تھی جس کے بعد اضافی کوٹہ فراہم کیا گیا تھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ مرکزی حج کمیٹی سے اس سال بھی ایڈیشنل کوٹہ فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی لیکن ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا ہے۔ ’ہمیں اب بھی یقین ہے کہ ہماری درخواست پر غور کیا جائے گا۔‘

کشمیر کے ڈویژنل کمشنر بشارت ڈار، جو ریاستی حج کمیٹی کے کنوینر بھی ہیں، کہتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ میں اس سال کچھ تعمیراتی کام جاری ہے جس کے سبب اضافی کوٹہ فراہم کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ بشارت ڈار کے مطابق ’کوٹا کم نہیں ہوا ہے بلکہ پچھلے برس کے برعکس اس سال اضافی کوٹہ نہیں دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
ریزرویشن کی سیاست
16 May, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد