BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 December, 2006, 13:12 GMT 18:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ملکی ترقی میں مسلمان کا حصہ کم‘

ملکی ترقی مسلمانوں کا حصہ کم ہے: منموہن سنگھ
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ اقلیتوں اور نچلی ذات کے ساتھ برتی جانی والی تفریق پر قابو پانے کے لیے حکومت کو ابھی مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔

دارالحکومت دلی میں دلت اور اقلیتوں کی ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزير اعظم نے کہا کہ جین اور سکھ مذہب جیسی بعض اقلیتوں کی ملک کی سماجی اور معاشی ترقی کے عمل میں بہتر حصہ داری رہی ہے۔ لیکن دیگر اقلیتوں خاص طور پر بعض علاقوں ميں مسلمانوں کو ملک کی ترقی میں برابری کی حصہ داری حاصل نہیں ہوسکی ہے۔

اعلی درجے کی تعلیم فراہم کرنے کے لیے پسماندہ طبقوں کو تعلیمی اداروں میں رزرویشن دیے جانے کے مخالفت کرنے والوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کی ترقی میں ہر طبقے کو برابری کی حصہ داری فراہم کرے۔

انکا کہنا تھا کہ ترقی کے سبب غریبی پر قابو پایا جا سکتا ہے لیکن اس سے غیرمنصفانہ رویہ کم نہیں ہوا ہے ۔لہذا ہميں ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جس سے بغیر کسی کو نقصان پہنچائے سماجی اور معاشی طور پرغیر منصفانہ رویہ ختم کیا جا سکے۔

مسٹر سنگھ نے اس بات سے اتقاق کیا کہ سماجی تفریق اورغیر منصفانہ رویے کو ختم کرنے کے لیے سب سے پہلے ذہنوں کو بدلنے کی ضرورت ہے اور اس کےلیے ایک سماجی، سیاسی اور ثقافتی تحریک شروع کرنی ہوگی۔

وزیر ا‏عظم نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانی معاشرے نے ایک خاص طریقے سے دلتوں کے ساتھ تفریق برتی ہے اور معاشرے میں ابھی بھی دلت مخالف رویہ بدلا نہیں ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب وزیر اعظم منموہن سنگھ اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کی ترقی پر زور دینے کی بات کر رہے ہیں۔ اس سے قبل قومی ترقیاتی اجلاس کے دوران بھی وزير اعظم نے یہی بات کہی تھی۔

ان کے اس بیان کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے یہ رد عمل آيا تھا کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے بعد وزیر اعظم مسلمانوں کے ترقی کے لیے کافی سنجیدہ ہیں جب کہ حزب اختلاف نے حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ حکمراں کانگریس کی نظریں بعض ریاستوں میں ہونے والے اسبملی انتخابات پر ہیں اور وہ مسلمانوں کو خوش کرنے کی پالیسی اختیار کر کے ووٹ بینک کی سیاست کر رہی ہے۔

اسی بارے میں
ریزرویشن کی سیاست
16 May, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد