BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 June, 2007, 14:07 GMT 19:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پردہ مغلوں کے خوف سے نہیں

نقاب پوش خواتین
مورخین کہتے ہیں کہ پرتیبھا پاٹل کا بیان تاریخی اعتبار سے درست نہیں
ہندوستان میں صدر کے عہدہ کےلیے حکمراں ترقی پسند محاذ کی امید وار پرتیبھا پاٹل کے اس بیان پر مسلم تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے شدید نکتہ چینی کی ہے کہ ’ بھارت میں پردے کی روایت مسلم حملہ آوروں سے بچنے کے لیے شروع ہوئی تھی۔‘

محترمہ پاٹل نے مہارانا پرتاپ کی چار سو سڑسٹھویں سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا پردے کی روایت اب ختم ہوجانی چاہیے۔

مسلم پرسنل لاء بورڈ کا کہنا ہے کہ ملک کےسب سے باوقار عہدے پر فائز ہونے والی شخصیت سے ایسے بیان کی امید نہیں کی جا سکتی جس میں تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گيا ہو۔

بورڈ کے ترجمان قاسم رسول الیاس نے بی بی سی سے بات چيت میں کہا: ’تاریخ کا یہ ناقص تصور یہاں کی فسطائی ذہنیت کی غمازی کرتا ہے، محترمہ پاٹل نے بھی اسی کو دہرا یاہے، انہیں خود اس بات کا احساس ہونا چاہیے اور اپنے الفاظ واپس لے لینے چاہیں لیکن ہم اس کا مطالبہ نہیں کرتے ہیں۔‘

 بھارت میں پردہ جاگیر دارانہ نظام کی دین ہے، ابتداء میں یہ امیروں کا کلچر اور سماج میں اعلی تہذیب کی علامت تھا، اسی ایلیٹ کلچر کی نقل کرنے کے لیے اسے نچلے طبقے کے لوگوں نے اپنایا

قاسم رسول الیاس کا کہنا تھا کہ یہ سنگھ خاندان اور ہندو تنظیموں کے نظریات ہیں کہ مغلوں نے سماج میں ظلم و بربریت کا ماحول روا رکھا تھا: ’پردہ خواتین کے لیے اپنی عصمت و عفت بچانے کی ایک کوشش ہے اور ہندوؤں میں پردہ کی روایت بہت قدیم ہے، یہ مغلوں کی جارحیت سے بچنے کے لیے اختیار نہیں کیا گیا اور دنیا جانتی ہے کہ راجپوت اور مغل حریف کم اور حلیف زیادہ تھے۔‘

مورخین بھی محترمہ پاٹل کےبیان سے متفق نظر نہیں آتے۔ جامعہ ملیہ میں شعبہ تاریخ کی پروفیسر سنیتا زیدی کہتی ہیں کہ پردہ کی روایت کی یہ توضیح قطعی درست نہیں ہے۔

’بھارت میں پردہ جاگیر دارانہ نظام کی دین ہے، ابتداء میں یہ امیروں کا کلچر اور سماج میں اعلی تہذیب کی علامت تھا، اسی ایلیٹ کلچر کی نقل کرنے کے لیے اسے نچلے طبقے کے لوگوں نے اپنایا، خود کو تہذیب یافتہ دکھانے کے لیے متمول ہندوؤں نے بہت پہلے ہی اس کی شروعات کر دی تھی اور بعد میں یہ سماج میں عام ہوتا گيا۔‘

سنیتا زیدی کہتی ہیں کہ راجستھان میں آج بھی یہ اعلی طبقہ کے ہندوؤں میں رائج ہے اور غریب طبقہ میں اس کا رواج بہت کم ہے۔’ راجستھان کے راجپوت مغلوں کی بہت سی سروسز میں تھے اور انہوں نے پردہ کے چلن کو عام کرنے میں اہم رول ادا کیا ہوگا۔ عام لوگوں نے اسے ان کی برابری کے لیے اپنایا تھا، خوف یا تشدد سے بچنے کے لیے نہیں۔‘

پرتیبھا پاٹل کا صدر بننا تقریباً طےمانا جا رہا ہے

جمعیت علماء ہند کے ترجمان مولانا نعمانی نے کہا: ’یہ بیان تاریخ کے غلط نظریے کی وکالت اور فرقہ پرستی پر مبنی ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس بیان کو واپس لیں، سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے وقت جب وہ صدر کے منصب پر فائز ہونے جا رہی ہیں، اس طرح کے متنازعہ بیانات کا مقصد کیا ہے؟‘

تاہم ہندو نظریاتی تنظیم وشو ہندو پریشد نے محترمہ پاٹل کے بیان کی حمایت کی ہے۔ تنظیم کے صدر گری راج کشور نے ایک بیان میں کہا کہ: ’اس دور میں خواتین کی حفاظت کے لیے پردہ ضروری تھا لیکن اب اس کی کوئي ضرورت نہیں ہے۔ ‘

حکمراں جماعت کانگریس کے مطابق پرتیبھا پاٹل کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی اگلی صدر خواتین کے مسائل پر بہت سنجیدہ ہیں۔ پارٹی کے سینیئر رہنما ستیہ ورت چترویدی سے جب مغلوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں کہا: ’ تاریخ بدلی تو نہیں جا سکتی ظاہر ہے مغل باہر سے آئے تھے۔‘

سماجوادی پارٹی کے جنرل سکریٹری امر سنگھ کا کہنا تھا کہ : ’جو شخص ملک کا صدر بننے کی تیاری کررہا ہو اسے مغلوں کو جارحیت پسند نہیں کہنا چاہیے۔‘

حکمراں یو پی اے اتحاد نے پرتیبھا پاٹل کو ملک کا اگلا صدر بنانے کے لیے ان کےکاغذات نامزدگی بھرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔

برطانوی نائب وزیرِ اعظم جان پریسکاٹجان پریسکاٹ،
نقاب، خواتین کا ذاتی انتخاب ہے۔
نقاب پوش خاتونحجاب کا دفاع
مسلمان ٹیچر کے مطابق حجاب کوئی رکاوٹ نہیں
نقاب پوش عورتتنقید نے کیا کیا؟
بیان کے بعد نقاب کی مقبولیت میں اضافہ
نقاب کیا ہے؟سوال تو یہ ہے کہ
بہن عمرانہ نقاب کیوں پہنتی ہیں؟
نقابمصری عدالت
نقاب پہننا شخصی اور مذہبی آزادی کا معاملہ ہے
اسی بارے میں
نقاب پوش خواتین کے حق کا دفاع
08 October, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد