مصر: نقاب پر پابندی غیر قانونی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر کی ایک عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ قاہرہ کی امریکن یونیورسٹی طالبات کے نقاب پہننے پر پابندی نہیں لگا سکتی۔ عدالتی فیصلہ یونیورسٹی انتظامیہ اور ایک طالبہ کے درمیان طویل قانونی جنگ کے بعد سامنے آیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے سکیورٹی وجوہات کے نام پر مذکورہ طالبہ کو کیمپس میں نقاب پہن کر آنے سے منع کر دیا تھا۔ نقاب پوشی کے حامیوں نے عدالتی فیصلے کو خوش آئند جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اسے اسلامی انتہا پسندی کی طرف جھکاؤ قرار دیا ہے۔ مصر کی ہائی ایڈمنسٹریٹو کورٹ کی ایک کمیٹی نے سال دو ہزار ایک میں کیے گئے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ یونیورسٹی طالبہ ایمن الزینی کو نقاب پہننے سے نہیں روک سکتی کیونکہ یہ قانون کے مطابق شخصی اور مذہبی آزادی کا معاملہ ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے میں بیان کیے گئے کچھ اصول بظاہر اس کے موقف کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں اور وہ اس حوالے سے وکلاء کے ساتھ مشورہ کر رہی ہے۔ یونیورسٹی کی طرف سے جاری کیے گئےایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جہاں یونیورسٹی سکیورٹی وجوہات کی بناء پر نقاب پہننے کی ممانعت کرتی ہے وہیں یہ طلبہ کی مذہبی اور شخصی آزادی کی اہمیت پر بھی یقین رکھتی ہے‘۔ عدالتی حکم کے تحت نقاب پہننے والی طالبات کو اپنے چہرے سکیورٹی اہلکاروں کو دکھانے کا پابند کیا گیا ہے۔ ایمن الزینی الازہر یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کر رہی تھیں اور امریکن یونیورسٹی قاہرہ کی لائبریری سے استعفادہ حاصل کرنے جایا کرتی تھیں جب ان کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔ ان کے وکیل نے عدالتی فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’یہ خواتین کے اپنے جسم اور لباس پر اختیار کے حق کی جیت ہے‘۔ |
اسی بارے میں نقاب پر بحث میں چرچ بھی شامل15 November, 2006 | آس پاس نقاب پوشی، بلیئر اور سٹرا متفق10 October, 2006 | آس پاس برقعے کا حُکم دینے پر لیکچرار معطل28 September, 2004 | آس پاس ’جبہ نہیں پہن سکتی‘15 June, 2004 | آس پاس ’بے پردگی: سنگین نتائج نکلیں گے‘21 January, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||