BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 February, 2007, 15:45 GMT 20:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلمان طالبہ نقاب کا مقدمہ ہار گئی
نقاب
سکول میں استاذ کا کہنا تھا کہ نقاب کی صورت میں درس و تدریس میں مُشکل ہوتی ہے اس لیے وہ نقاب پہنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
برطانیہ میں ایک بارہ سالہ مُسلمان طالبہ سکول میں چہرے کو نقاب سے مکمل ڈھانپنے پر عائد پابندی کو خلافِ قانون قرار دلانے کی کوشش میں ناکام ہو گئی ہے۔

جج کو بتایا گیا تھا کہ اسی سکول میں مذکورہ طالبہ کی دو بہنیں بھی نقاب پہن کر تعلیم حاصل کرچکی ہیں اور انہیں تعلیم حاصل کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی۔

لیکن بکمگھم شائر میں سکول کے اساتذہ نے طالبہ سے کہا کہ نقاب کی صورت میں ابلاغ اور تدریس میں مُشکل پیش آئے گی۔

بارہ سالہ طالبہ نے بکنگھم شائر سکول میں نقاب سے پورے چہرے کو ڈھانپنے پر عائد پابندی کو کورٹ میں چیلنج کیا تھا تاہم جج نے سماعت کے بعد مقدمے کو خارج کر دیا۔

لڑکی کے وکیل اور والد کا کہنا ہے کہ نقاب پر پابندی ہر اسلامی اور انسانی حق کی خلاف ورزی ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے سے لڑکی اور ان کے خاندان والوں کو ’شدید مایوسی‘ ہوئی ہے۔

اب وکیل اس عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل میں جانا چاہتے ہیں لیکن انہیں اس کے لیے ایک الگ درخواست دائر کرنا ہو گی کیونکہ مذکورہ بالا عدالت نے فیصلے کے خلاف اپیل کی اجازت نہیں دی ہے۔

قانونی وجوہ کی بنا پر سکول اور لڑکی کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ اب لڑکی کو گھر پر ہی تعلیم حاصل کرنا ہو گی۔کیونکہ سکول کی یونیفارم پر اس تنازعے کے بعد اس کے لیے سکول میں تعلیم حاصل کرنا دشوار ہو گا۔

120 میں سے آدھی حجاب لیتی ہیں
 سکول میں تیرہ سو طالب ِعلموں میں ایک سو بیس مُسلمان طالبات ہیں اور ان میں سے آدھی حجاب لیتی ہیں اور سکول میں حجاب لینے پر کوئی پابندی نہیں ہے

اس سکول میں تیرہ سو طالب ِعلموں میں ایک سو بیس مُسلمان طالبات ہیں اور ان میں سے آدھی حجاب لیتی ہیں اور سکول میں حجاب لینے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

جسٹس سیلبر نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ان کا فیصلہ صرف اسی ایک معاملے تک محدود ہے اور اس فیصلے کا اس کوئی تعلق نہیں کہ سکولوں یا کہیں اور نقاب پہنے کی اجات ہونا چاہیے یا نہیں۔

ان کاب کہنا ہے کہ نقاب پر پابندی بعض عوامل کے پیش نظر ’متناسب‘ تھی۔

وزیرِ تعلیم انڈرو اڈوئن کا کہنا ہے کہ یونیفارم کے متعلق فیصلہ خُوش آئند ہے اور وہ اسے سراہتے ہیں اور اس سلسلے میں بچوں کے والدین سے مشورہ کرنا چاہیے۔

سکول کے ہیڈ ماسٹر نے کورٹ کے فیصلے کی تائید کی ہے اور کہا ہے کہ اب ہم چاہتے ہیں کہ طالبہ کی حمایت حاصل کریں اور ہمیں اُمید ہے کہ وہ پڑھنے کے لیے واپس سکول لوٹ آئے گی اور پھر سے تعلیم حاصل کرنا شروع کر دے گی۔

برقعہ پوش خاتوننقاب پوش قبول نہیں
پونے کے جوہری نقاب پوش خواتین سے نالاں
نقاب پوش عورتتنقید نے کیا کیا؟
بیان کے بعد نقاب کی مقبولیت میں اضافہ
جیک سٹرانقاب پر تنازعہ
جیک سٹرا نے یہ بحث اب کیوں چھیڑی؟
برطانوی نائب وزیرِ اعظم جان پریسکاٹجان پریسکاٹ،
نقاب، خواتین کا ذاتی انتخاب ہے۔
اسی بارے میں
حجاب کی جیت
15.05.2003 | صفحۂ اول
حجاب حفاظت میں رخنہ
24.05.2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد