پونے:جوہری نقاب پوشوں سے نالاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے کے جوہریوں نے کہا ہے کہ حفاظتی وجوہات کے سبب وہ کسی بھی قسم کا پردہ کرنے والی خواتین کو زیورات فروخت نہیں کریں گے۔ شہر کے جوہریوں کی ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ گزشتہ دو مہینوں میں زیورات کی دکانوں میں چوری کے واقعات پیش آنے کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ چوری کی تین واردتوں میں برقع پوش خواتین ملوث تھیں۔ ایسوسی ایشن کے صدر فاتح چندر نکھا نے بی بی سی کو بتایا ’ دکانوں میں لگے ہوئے کیمروں سے ان نقاب پوش عورتوں کی ویڈیو تو بن گئی لیکن ان کے چہروں کی شناخت نہیں کی جا سکی اور اس لیے نہ تو پولیس کچھ کر سکی ہے اور نہ دکاندار‘۔ انہوں نے مزيد بتایا ’ زیورات کی چوری کے سبب ہمیں تقریبًا دس لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے لیکن اس کے باوجود پولیس ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کر سکی۔ چوری کرنے والی عورتوں کی صرف آنکھیں دیکھی جا سکیں اور ان کا باقی چہرہ چھپا ہوا تھا‘۔ مسٹر رنکھا نے مزید بتایا کہ ان واقعات کے بعد ایسوسی ایشن نے فوری طور پر ایک اجلاس طلب کیا جس میں یہ قراردار منظور کی گئی کہ کسی بھی نقاب پوش عورت کو اس وقت دکان میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا جب تک وہ اپنا چہرہ دکھانے کے لیے تیار نہ ہو جائے۔ انہوں نے یہ بھی واضع کیا کہ یہ پابندی صرف برقع پہننے والی عورتوں کے لیے نہيں ہے بلکہ کوئی بھی خاتون اگر اپنا چہرہ ساڑھی یا پھر رومال سے چھپائے ہوئے ہوگي تو اسے بھی دکان میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ ایسوسی ایشن نے اس قراردار کی تفصیلات حکام کو بھیج دی ہیں اور حکام سے دکانوں پر صارفین کے لیے نوٹس لگانے کی اجازت بھی مانگی ہے۔ حکام کی جانب سے ابھی تک انہیں جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ ہندوستان میں زیورات کی خریداری کو بے حد اہمیت دی جاتی ہے اور لوگ اسے سرمایہ کاری کا بھی ایک طریقہ سمجھتے ہیں۔ زیادہ تر خواتین ایسی دکانوں سے زیورات خریدنا پسند کرتی ہیں جہاں کا ماحول غیر رسمی ہو۔
ایک چھوٹی سی دکان میں بھی لاکھوں روپے کے زیورات موجود ہوتے ہیں جبکہ بڑی دکانوں میں موجود زیوارت کی مالیت کروڑوں میں ہوتی ہے۔ دکانوں میں یوں تو سکیورٹی کے لیے خفیہ کیمرے لگے ہوئے ہوتے ہیں اور دروازے پر بھی سکیورٹی گارڈ موجود ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود کئی چوریاں ہو جاتی ہیں۔ ایسوسی ایشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ کسی ایک مذہب کو نشانہ نہیں بنا رہی ہے بلکہ صرف محتاط رہنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں مہاراشٹر کے ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین نسیم صدیقی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مذہبی احساسات کو چوٹ پہنچا سکتا ہے لہذا حکومت کو اسے منظور نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا ’ برقع مسلمان عورتوں کے لیے کافی اہم ہے اور زیورات کی خریداری کے دوران اسے پہننے پر پابندی عائد کرنا مسلمانوں کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوگا‘۔ انہوں نے مزید کہا ’ کل یہ لوگ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ سکھ پگڑی پہنتے ہیں تو ان پر بھی زیورات کی دکانوں میں آنے پر پابندی عائد کر دی جائے گی کیونکہ کہیں وہ اپنی پگڑی میں کوئی ہتھیار نہ چھپائے ہوئے ہوں‘۔
نسیم صدیقی نے کہا کہ اگر حفاظتی انتظامات کا ہی سوال ہے تو جس طرح ہوائی اڈوں پر باقاعدہ تلاشی لی جاتی ہے اسی طرح زیورات کی دکانوں پر بھی تلاشی لی جانی چاہیے لیکن اس فیصلے کو منظور نہیں کیا جانا چاہیے‘۔ آل انڈیا علماء کونسل کے ترجمان مولانا سید اطہر علی نے مسلمان عورتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی دکانوں پر نہ جائيں جہاں برقع پہننے پر پابندی ہے۔ تاہم مسلم فار سکیولر ڈیموکریسی گروپ کے جنرل سیکرٹری جاوید آنند کا کہنا ہے ’یہ صاف طور پر حفاظتی معاملہ ہے نہ کہ مذہبی‘ ۔ فی الوقت یہ مطالبہ صرف پونے تک ہی محدود ہے لیکن جوہریوں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ان کے مطالبے کو منظور نہیں کرتی ہے تو دیگر شہروں کے جوہری بھی ان کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔ | اسی بارے میں پردے پر اتنی بحث آخر کیوں؟19 November, 2006 | انڈیا بھارت: 50 ہزار برقعہ پوشوں کا اجتماع12 February, 2006 | انڈیا غیر مسلم لڑکیاں برقعہ میں!13 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||