حجاب پر مقدمہ میں شبینہ کی جیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک برطانوی عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ کہ لیوٹن کے ایک سکول سے ایک طالبہ کو اس کے حجاب پہننے کی بنا پر خارج کرنا سکول کے عملے کا غیر قانونی فعل تھا۔ سولہ سالہ شبینہ بیگم کا اصرار تھا کہ مذہبی وجوہات کے تحت وہ روایتی حجاب پہنیں گی جو کہ سر کے سکارف اور گاؤن پر مشتمل ہے۔ لیوٹن کے ڈنبی ہائی سکول کے حکام نے شبینہ کو یہ لباس پہننے سے منع کیا تھا اور ایسا نہ کرنے پر طالبہ کو سکول سے خارک کردیا گیا تھا۔ لیوٹن کی اپیل کورٹ کے ایک جج جسٹس بروک نے کہا ہے کہ سکول نے شبینہ کو اپنے مذہبی تقاضے پورے کرنے سے روک دیا۔ انہوں نے شعبہ تعلیم کے حکام سے کہا ہے کہ وہ سکول کو حقوق انسانی ایکٹ کے بارے میں واضح طور پر گائیڈ لائنز بھیجیں۔ یہ عدالتی فیصلہ دیگر مذاہب کے طلباء کے لیے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے جو مختلف سکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔ شبینہ بیگم نے، جن کے والدین کا انتقال ہوچکا ہے، سکول میں داخلے کے بعد ہی سے اپنا روایتی لباس شلوار قمیض پہننے کو ترجیح دی۔ وہ ستمبر 2002 تک یہی لباس پہن کر سکول آتی رہیں۔ اس وقت انہوں نے اور ان کے بھائی شعیب رحمان نے اسسٹنٹ ہیڈ ٹیچر کو مطلع کردیا تھا کہ شبینہ پورے گاؤن پر مشتمل حجاب پہنیں گی۔ اس سکول کے 79 فیصد طالب علم مسلمان ہیں تاہم اسسٹنٹ ہیڈ ٹیچر کا کہنا تھا کہ یہ تجویز ان کے لیے ناقابل قبول ہے اور شبینہ کو سکول یونیفارم پالیسی پر عمل کرنا ہوگا۔ جس کے بعد انہیں سکول سے خارج کردیا گیا۔ اس واقعے کے بعد کئی عدالتی مقدمات چلتے رہے جس میں سے حالیہ مقدمہ دسمبر میں اپیل کورٹ میں شروع ہوا تھا جس میں جج نے سکول کو انسانی حقوق ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||