 |  برطانیہ میں بھی ایک طالبہ کو سکول میں حجاب پہننے سے روکا گیا تھا |
ڈیرہ اسماعیل خان کو پاکستان کے صوبہ سرحد میں مذہبی لحاظ سے خاص اہمیت حاصل ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے قائد مفتی محمود مرحوم کا تعلق اسی شہر سے تھا اور مفتی محمود کے فرزند اور متحدہ مجلس عمل کے مرکزی سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمن اسی علاقے سے سیاست کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک خاتون کو اس وجہ سے سکول چھوڑنا پڑا کیونکہ وہ حجاب پہن کر ٹیچنگ کرنا چاہتی تھی۔ مگر سکول کے پرنسپل اس ٹیچر کو حجاب کے ساتھ پڑھانے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ جس پر ٹیچر کو سکول چھوڑنا پڑا۔ جب سکول کے پرنسپل سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ٹیچر بہت اچھی تھیں مگر حجاب کا مسئلہ درمیان میں آ گیا اور انہیں سکول چھوڑنا پڑا۔ سکول کے بچوں نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرنے ہوئے بتایا ان کی ٹیچر بہت اچھی تھیں اور انہیں ان کے حجاب کے ساتھ پڑھانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی تھی اور نہ ہی وہ انہیں بری لگتی تھیں۔ اس سلسلے میں جب اس ٹیچر اور ان کے اہل خانہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا سکول کے پرنسپل کی جانب سے ان کے حجاب پر اعتراض کے بعد یہ طے ہوا تھا کہ وہ کلاس میں حجاب نہیں پہنیں گی۔ تاھم کلاس سے باھر نکل کر انہیں حجاب پہننے کی اجازت ہو گی۔ ٹیچر کے اہلِ خانہ کے مطابق اس بات کے تیسرے روز جب وہ کلاس میں پڑھا رہیں تھیں پرنسپل صاحب اچانک کلاس میں داخل ہوئے تو ان کو دیکھ کر ٹیچر نے حجاب پہن لیا۔ جس کے بعد انہیں نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔ |