ہالینڈ: برقع پابندی پرسخت تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہالینڈ کے مسلمانوں نے حکومت کی طرف سے برقع پر پابندی لگانے کی تجویز پر سخت تنقید کی ہے۔ ہالینڈ کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اس پابندی سے ملک کے دس لاکھ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے اور یہ پابندی انہیں خود کو دوسرے لوگوں سے کمتر اور الگ تصورکرنے پر مجبور کرے گی۔ یہ فیصلہ اتخابات سے چند دن پہلےکیا گیا ہے ۔اس پابندی کی رو سے مسلم خواتین پر گلیوں، ریل گاڑیوں، بسوں، تعلیمی اداروں اور عدالتوں میں برقعہ پہن کر آنا غیر قانونی قرار دے دیا جائے گا۔اور خیال کیا جاتا ہے کہ دائیں بازو کے اتحاد پر مشتمل حکمران پارٹی ہی یہ انتخابات جیتے گی۔ برقعے پر پابندی لگانے کی تجویز ہالینڈ کی امیگریشن کی وزیر ریٹا وردنک نے پیش کی تھی۔ ریٹا وردنک اپنی سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ گزشتہ سال پارلیمنٹ کےاراکین کی زیادہ تعداد نے اس پابندی کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ایک اندازے کے مطابق ہالینڈ کی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کی آبادی میں صرف چھ فیصد مسلمان ہیں جن میں سے سو سے بھی کم خواتین برقع پہنتی ہیں۔ ماہرین کی ایک کمیٹی نے قانون کا جائزہ لینے کے بعد کہا ہے کہ یہ پابندی قانون کے منافی نہیں ہے۔ اس اعلان پر مسلمانوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ چہرہ ڈھاپنے کے ہر طریقے پر پابندی ہوگی جس میں نقاب اور ہیلمٹ بھی شامل ہے۔ ریٹا وردنک کا کہنا ہے کہ کابینہ کو لگتا ہے کہ عوامی نظم و ضبط، شہری زندگی اور شہریوں کے تحفظ کی خاطر پبلک مقامات پر چہرے کو ڈھاپنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ وردنک کا یہ بھی کہنا ہے’ ایک دوسرے کی عزت کی خاطر یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کو دیکھ سکیں‘۔ اس پابندی پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ شہری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہالینڈ کی ایک اہم مسلم آرگنائزیشن ’ سی ایم او‘ کا کہنا ہے کہ چھوٹی سی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز حکومت کی مخالف جماعت کے ایک مسلمان ایم پی نعیمہ آزوک نے کہا تھا کہ اس پابندی سے ہالینڈ کی سماجی روایت اور اس ملک میں مخلتف مذہب کے لوگوں کے ساتھ رہنے کی تاریخ کو ٹھیس پہنچے گی۔حکومت لوگوں کے انتہا پسند اسلامی نظریات کے خوف کو ہوا دے کر ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔نعیمہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ حجاب یا برقع والی ہر خاتون کوشدت پسند نہیں کہا جا سکتا۔ ایمسٹرڈیم کے میئر جوب گورڈن کا کہنا ہے کہ وہ برقعے کے خلاف ہیں اور ایسی خواتین کو حکومت کی طرف سے مالی مراعات بھی نہیں ملنی چاہئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آپس کے میل جول میں ایک دوسرے کا چہرہ نظر نہ آنا بہت ہی برا لگتا ہے۔ چونکہ کم خواتین برقع پہنتی ہیں اس لیے اس بارے میں شوروغوغا ضرورت سے زیادہ ہے۔ یورپی ممالک میں برقعے پر بحث بہت اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ فرانس نے ہر قسم کی مذہبی علامات پر پابندی لگا رکھی ہے جس میں مسلم سکارف بھی شامل ہیں۔ کچھ جرمن ریاستوں نے مسلمان خواتین اساتذہ پر پبلک سکولوں میں سکارف پہننے پر پابدی لگا رکھی ہے۔ | اسی بارے میں باپردہ گڑیا ’باربی‘ سے آگے13 January, 2006 | آس پاس ’باپردہ ٹیچر کو فارغ کردیں‘15 October, 2006 | آس پاس جیک سٹرا: نقاب کےگرداب میں غلطاں15 October, 2006 | قلم اور کالم ’نقاب بہتر تعلقات کے درمیان حائل‘05 October, 2006 | صفحۂ اول غیر مسلم لڑکیاں برقعہ میں!13 October, 2006 | انڈیا بھارت: 50 ہزار برقعہ پوشوں کا اجتماع12 February, 2006 | انڈیا نقاب پوش خواتین کے حق کا دفاع08 October, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||