BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 November, 2006, 16:55 GMT 21:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہالینڈ: برقعے پر پابندی کی حمایت
نقاب
پابندی لگانے کی تجویز پر تنقید کرنے والے حلقے اسے شہری حقوق کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔
ہالینڈ کی کابینہ نے مسلمان خواتین کے برقعہ پہننے پر پابندی لگانے کی تجویز کی حمایت کر دی ہے۔

برقعے پر پابندی لگانے کی تجویز ہالینڈ کی امیگریشن کی وزیر ریٹا وردنک نے پیش کی تھی۔ ریٹا وردنک اپنی سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔

اس پابندی کے بعد مسلم خواتین پر گلیوں، ریل گاڑیوں، بسوں، تعلیمی اداروں اور عدالتوں میں برقعہ پہن کر آنا غیر قانونی قرار دے دیا جائے گا۔

کابینہ کا کہنا تھا کہ برقعے سے عوامی نظم و ضبط، شہری زندگی اور سکیورٹی انتظامات متاثر ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہالینڈ کی کل آبادی میں پانچ فیصد افراد مسلمان ہیں۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ ہالینڈ میں برقعہ پہنے والی مسلم خواتین کی تعداد کوئی بہت زیادہ نہیں ہے۔

برقعے پر پابندی
 مسئلہ یہ ہے کہ ہر خاتون جو نقاب یا برقعہ پہنتی ہے آپ اس کو رجعت پسند نہیں کہ سکتے۔ ’ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم کے کتنی خواتین برقعہ یا نقاب پہنتی ہیں ۔ سارے ہالینڈ میں ایسی خواتین شاید پچاس یا سو ہوں۔ میرا خیال میں یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہےاور بہتر ہو گا کہ ہم بے روز گاری، غربت اور نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے انتہا پسندانہ رجحانات جیسے مسائل پر بات کریں۔‘
نعیمہ آزوک، ہالینڈ کی ایک شہری

برقعہ پہننے پر پابندی لگانے کی تجویز پر تنقید کرنے والے حلقے اسے شہری حقوق کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔

ہالینڈ نے رہنے والی ایک خاتون نعیمہ آزوک نے کہا برقعے پر پابندی اس ملک کی سماجی روایت اور اس ملک میں مخلتف مذہب کے لوگوں کے ساتھ رہنے کی تاریخ کے منافی ہے۔

نعیمہ آزوک کا کہنا تھا کہ ڈچ حکومت اسلامی شدت پسند کا خوف پیدا کرکے لوگوں سے ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ ہر خاتون جو نقاب یا برقعہ پہنتی ہے آپ اس کو رجعت پسند نہیں کہ سکتے۔ ’ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم کے کتنی خواتین برقعہ یا نقاب پہنتی ہیں ۔ سارے ہالینڈ میں ایسی خواتین شاید پچاس یا سو ہوں۔ میرا خیال میں یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہےاور بہتر ہو گا کہ ہم بے روز گاری، غربت اور نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے انتہا پسندانہ رجحانات جیسے مسائل پر بات کریں۔‘

یاد رہے کہ برطانوی دارالعوام (ہاؤس آف کامنز) کے سربراہ جیک سٹرا بھی بعض مسلمان خواتین کے نقاب سے چہرہ ڈھانپنے کے عمل کو ہدف تنقید بنا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا نقاب پوش خواتین سے بات چیت کرنے میں انہیں مشکل پیش آتی ہے۔

ایک برطانوی سکول میں پڑھانے والی مسلم خاتون کو اس وقت نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا جب انہوں نے اپنا نقاب اتارنے سے انکار کر دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد