ہالینڈ: برقعے پر پابندی کی حمایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہالینڈ کی کابینہ نے مسلمان خواتین کے برقعہ پہننے پر پابندی لگانے کی تجویز کی حمایت کر دی ہے۔ برقعے پر پابندی لگانے کی تجویز ہالینڈ کی امیگریشن کی وزیر ریٹا وردنک نے پیش کی تھی۔ ریٹا وردنک اپنی سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ اس پابندی کے بعد مسلم خواتین پر گلیوں، ریل گاڑیوں، بسوں، تعلیمی اداروں اور عدالتوں میں برقعہ پہن کر آنا غیر قانونی قرار دے دیا جائے گا۔ کابینہ کا کہنا تھا کہ برقعے سے عوامی نظم و ضبط، شہری زندگی اور سکیورٹی انتظامات متاثر ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہالینڈ کی کل آبادی میں پانچ فیصد افراد مسلمان ہیں۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ ہالینڈ میں برقعہ پہنے والی مسلم خواتین کی تعداد کوئی بہت زیادہ نہیں ہے۔
برقعہ پہننے پر پابندی لگانے کی تجویز پر تنقید کرنے والے حلقے اسے شہری حقوق کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔ ہالینڈ نے رہنے والی ایک خاتون نعیمہ آزوک نے کہا برقعے پر پابندی اس ملک کی سماجی روایت اور اس ملک میں مخلتف مذہب کے لوگوں کے ساتھ رہنے کی تاریخ کے منافی ہے۔ نعیمہ آزوک کا کہنا تھا کہ ڈچ حکومت اسلامی شدت پسند کا خوف پیدا کرکے لوگوں سے ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ ہر خاتون جو نقاب یا برقعہ پہنتی ہے آپ اس کو رجعت پسند نہیں کہ سکتے۔ ’ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم کے کتنی خواتین برقعہ یا نقاب پہنتی ہیں ۔ سارے ہالینڈ میں ایسی خواتین شاید پچاس یا سو ہوں۔ میرا خیال میں یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہےاور بہتر ہو گا کہ ہم بے روز گاری، غربت اور نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے انتہا پسندانہ رجحانات جیسے مسائل پر بات کریں۔‘ یاد رہے کہ برطانوی دارالعوام (ہاؤس آف کامنز) کے سربراہ جیک سٹرا بھی بعض مسلمان خواتین کے نقاب سے چہرہ ڈھانپنے کے عمل کو ہدف تنقید بنا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا نقاب پوش خواتین سے بات چیت کرنے میں انہیں مشکل پیش آتی ہے۔ ایک برطانوی سکول میں پڑھانے والی مسلم خاتون کو اس وقت نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا جب انہوں نے اپنا نقاب اتارنے سے انکار کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں نقاب پر بحث میں چرچ بھی شامل15 November, 2006 | آس پاس برطانیہ میں فسادات کی وارننگ22 October, 2006 | آس پاس ’باپردہ ٹیچر کو فارغ کردیں‘15 October, 2006 | آس پاس نقاب پوشی، بلیئر اور سٹرا متفق10 October, 2006 | آس پاس ’حجاب کی پابندی پر نہ اکسائیں‘08 July, 2004 | آس پاس ’بے پردگی: سنگین نتائج نکلیں گے‘21 January, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||