| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’بے پردگی: سنگین نتائج نکلیں گے‘
سعودی عرب کے مفتیِ اعظم شیخ عبدالعزیز الشیخ نے خبردار کیا ہے کہ بے پردگی کی اجازت دینے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ان کی یہ تنبیہ جدہ میں منعقد ہونے والی حالیہ اقتصادی کانفرنس کے بعد سامنے آئی ہے جس میں شریک خواتین نے پردے کا لحاظ نہیں رکھا اور نامحرم مردوں سے براہ راست گفتگو کی۔ امور عرب کے تجزیہ کار مغدی عبدالہادی کا کہنا ہے کہ آزاد خیال سعودی مفتی اعظم کے اس بیان کو ملک میں اصلاحی لہر کی راہ میں مذہبی حکومت کی جانب سے رکاوٹ تصور کریں گے۔ مفتی اعظم نے کسی لگی لپٹی کے بغیر کہا کہ اسلامی شریعت واضح طور پر مردوں اور عورتوں کے اختلاط کی مذمت کرتی ہے اور اسے برائی کی جڑ قرار دیتی ہے۔ انہوں نے شاہی خاندان کو بھی یاد دلایا کہ ملک ان کے اجداد بے پردگی اور اختلاط کے خلاف تھے۔ شیخ الشیخ نے کانفرنس میں شریک خواتین کی تصاویر کی اخباروں میں اشاعت پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے پردہ کے بارے میں پیغمبر اسلام کی ایک حدیث کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ غیراخلاقی افعال سے اجتناب برتیں۔ اگرچہ جدہ کانفرنس کی جلسہ گاہ میں عورتوں اور مردوں کے لئے الگ الگ حصوں کا تعین کر دیا گیا تھا اور درمیان میں ایک باریک پردہ بھی حائل تھا تاہم عورتیں کے دوسرے جانب جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ سعودی حکومت کے لئے اس وقت صورت حال پیچیدہ ہے۔ ایک طرف تو اس پر اصلاح کے لئے اندرونی اور عالمی دباؤ ہے تو دوسری جانب ریاست کے قیام کے بنیادی مقاصد کی پاسداری آڑے آتی ہے جس میں سے ایک ملک میں شریعت کی ترویج بھی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||