عمرانہ نقاب کیوں پہنتی ہیں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں ایک استانی عمرانہ کہتی ہیں کہ ان کے علم کے مطابق اسلام میں نقاب لینا لازمی نہیں لیکن پھر بھی وہ ایسا نقاب لیتی ہیں جس سے ان کی آنکھیں تک چھُپ جاتی ہیں؟ ان کے محلے لیٹن میں ستّر سال سے مقیم جِین کہتی ہیں کہ جب ’میں نے کافی سال قبل جب یہاں پہلی بار نقاب والی لڑکی دیکھی تو دنگ رہ گئی تھی۔ میں نے سوچا میرے ملک میں یہ کیسے لوگ آ گئے ہیں؟‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ لڑکیاں رنگ برنگے نقاب کیوں نہیں لیتی، کالا رنگ تو افسردگی کی علامت ہے؟ اسی علاقے کے ایک گرجا گھر میں تعینات ایک پادری کا کہنا ہے کہ ’میں نے نقاب پہننے کے جواز سن کر بحیثیت مرد بے عزتی محسوس کی، کیا مجھے یہ بتایا جا رہا ہے کہ میں عورت کی شکل دیکھ کر اپنے اوپر قابو نہیں رکھ سکتا؟‘ یہ وہ باتیں ہیں جو اس اختتام ہفتہ کی شام کو لندن کے علاقے لیٹن میں ایک کھلی کچہری میں کی گئیں۔ کچہری کا اختتام کچھ نقاب لینے والی طالبات کی تجویز پر ایک اسلامی خیراتی ادارے نے کیا تھا۔ بحث کا موضوع ’ٹو ویل اور ناٹ ٹو ویل؟۔۔۔۔ناؤ دیٹ اس دی کوئسچن‘ (To veil or not to veil, now that is the question)
ہال میں دو سو کے لگ بھگ لوگوں کی گنجائش تھی اور ایک سو پچاس کے قریب ہر عمر کے مرد و خواتین موجود تھیں۔ ان میں دو پادریوں سمیت درجن پھر غیر مسلم بھی تھے اور ان میں تقریباً سبھی نے بحث میں حصہ لیا۔ ہال کے باہر ایک بینر پر سب کو اندر آنے کی دعوت دی گئی تھی۔ محفل کا آغاز نقاب کے بارے میں ایک نوجوان شیخ حسن علی کے تقریر سے ہوا۔انہوں نے بتایا کہ کہ وہ برطانیہ میں پیدا ہوئے اور انہوں نے دینی تعلم حاصل کی۔ کچھ سفید فام حاضرین نے کہا کہ وہ سیکولر ہیں اور انہیں مذہب کے بارے میں کچھ علم نہیں لیکن انہیں اس محفل میں آنا اچھا لگا۔ عمرانہ نے اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ چھ سال پہلے حج پر گئی تھیں جہاں انہوں نے نقاب پہننے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نمازیں اور روضے فرض سے زیادہ رکھے جا سکتے ہیں تومیں نے پردے کا اہتمام جتنا کرنے کا حکم ہے اس سے بڑھ کر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سےمکمل تحفظ رہتا ہے اور کسی مرد کی طرف سے تعلقات بنانے کے لیے بات کرنے کا امکان کُلی طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف یہ جاننا چاہتی ہیں کہ ان کے کپڑے کا ایک ٹکڑا منہ پر لینے سے کیا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی کسی نے عریاں پھرنے والوں پر سوال کیوں نہیں اٹھایا؟ اس موقع پر جِین نے اپنی نشست پر بیٹھے بیٹھے کہا کہ برطانیہ میں ایک ایسا شخص ہے جو سڑکوں پر عریاں پھرنا چاہتا ہے اور اس وجہ سے وہ جیل میں ہے۔ ان کی اس بات پر ہال میں قہقہہ گونجا۔ ایک شخص نے کہا کہ فیشن اور جسم کی نمائش کے ساتھ اقتصادی پہلو وابستہ ہے اس لیے وہ قبول کیے گئے ہیں۔
ہال میں ایک سفید فام صاحب بھی تھے جنہوں نے بحث میں حصہ تو نہیں لیا لیکن جب بھی مرد اور عورت کے درمیان تعلقات یا کشش کو منفی انداز میں پیش کیا جاتا تو وہ گہری سانس لے کر کہتے ’ف۔۔۔۔بس کرو پلیز‘۔ جِین نے اپنے اعتراضات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک تو وہ نہیں سمجھ سکتیں کہ بچے کسی نقاب والی عورت سے کیسے بات کر سکتے ہیں؟ دوسرے یہ کہ سڑک پر محلے داروں کو ہیلو کہنا، ان کا حال پوچھنا اور موسم پر بات کرنا برطانوی طرز زندگی کا حصہ ہے لیکن انہیں نقاب والی عورت سے بات کرنا مشکل لگتا ہے۔ نقاب پہنے ہوئے ایک لڑکی فاطمہ نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ کسی واقف کار کو نقاب میں پہچانا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے محلے داروں سے گھر میں یا باہر بات کرتی ہیں۔ بچوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ معصوم ہوتےہیں اور ان کے تعصبات بھی نہیں ہوتے انہیں کسی کے نقاب پہننے یا نہ پہننے سے فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اکثر پارک جاتی ہیں جہاں بچوں کے ساتھ وقت گزارتی ہیں۔ انہوں نے کہ سائنسی طور پر ثابت ہو چکا ہے کسی کو پہچاننے میں آواز کا عمل دخل زیادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا ان کہ گھر والوں کے خیال میں جو نقاب وہ لیتی ہیں اس کی ضرورت نہیں ہے لیکن وہ ایسا اپنی مرضی سے کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عورت کا جسم اس کا ذاتی مسئلہ ہے اور وہ اس کو جس طرح چاہے ڈھانپے۔ انہوں نے کہا کہ اتنے ذاتی مسئلے میں اپنی مرضی کی اجازت ہونی چاہیے۔
اینگلیکن چرچ کے ایک پادری بھی ہال میں موجود تھے جنہوں نے کہا کہ ملک میں جاری نقاب پر بحث دراصل مذہبی قوتوں پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا وہ ’بہن عمرانہ‘ کی قدر کرتے ہیں جنہوں نے مذہبی عقیدت میں جتنا کہا گیا اس سے بڑھ کر عمل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر وہ فعل جو مذہبی عقیدت کے تحت کیا جائے قابل احترام ہے۔ ایک اور پادری نے کہا کہ مسلمانوں اور عیسائی مِل کر جسم فروشی اور خواتین کے استحصال سے نمٹنے کے لیے کام کر سکتے ہیں۔ حاضرین نے سابق برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا کو سخت تنقید کا نشانہ اور کہا کہ ان کا نقاب کے بارے میں بیان اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ستائیس سال سے اسی حلقے سے منتخب ہو رہے ہیں اور انہیں پہلے کبھی کسی کو نقاب میں دیکھ تکلیف نہیں ہوئی۔ ’انہوں نے اب یہ مسئلہ کسی مصلحت کے تحت اٹھایا ہے‘۔ پروگرام کے بعد جین نے بتایا کہ انہوں نے منتظمین کو اپنا پتہ بتا دیا ہے اور وہ آئندہ بھی آنا چاہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتی تھیں کہ ان لڑکیوں کو ان کے شوہر زبردستی نقاب پہننے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں لیکن انہوں نے بتایا ہے کہ وہ ایسا اپنی مرضی سے کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو لڑکیوں نے رنگین نقاب بھی پہنا ہوا تھا جو انہیں بہت اچھا لگا۔ | اسی بارے میں ’نقاب بہتر تعلقات کے درمیان حائل‘05 October, 2006 | صفحۂ اول ’نقاب پر اسٹرا کا بیان قابل تضحیک ہے‘05 October, 2006 | آس پاس برطانیہ میں اسلامی بنکاری13 June, 2005 | آس پاس ’اسلام کامنفی امیج دکھایا جارہا ہے‘27 January, 2005 | فن فنکار ’پتنگ بازی غیر اسلامی ہے‘22.07.2003 | صفحۂ اول خود کش حملے اسلام کے خلاف ہیں11.07.2003 | صفحۂ اول اسلام اور مغرب10 September, 2003 | آپ کی آواز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||