برطانیہ میں اسلامی بنکاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں اسلامی اصولوں پر کاروبار اور تجارت کے لیے قانون وضح کرنے کا عمل جاری ہے اور اس سلسلے میں مختلف کمپنیوں نے شریعہ مشاورتی بورڈ بھی قائم کر رکھے ہیں۔ لندن کے لارڈ میئر مائکل سیوری نے پیر کو برطانیہ میں اسلامی کاروباری نظام کے اطلاق کے بارے میں قانون اور مالیاتی امور کے ماہرین کے ساتھ ایک مباحثہ میں بھی شرکت کی۔ مباحثے میں برطانیہ میں اسلامی قوانین کے تحت ہونے والے کاروباری لین دین کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔ مباحثہ کے دوران ذکر کیا گیا کہ برطانیہ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور یہاں کاروبار میں دلچسپی رکھنے والی اسلامی کمپنیوں کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے شرع کے نظام کے تحت لین دین کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش جاری ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ اسلامی قوانین کی ترویج کے پیچھے محرک قوّت کیا ہے ماہرین کا کہنا تھا اس میں سب سے اہم کردار مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پندرہ لاکھ سے زیادہ مسلمان بستے ہیں جن میں سے پچاس فیصد سے زیادہ پچیس سال یا اس سے کم عمر کے ہیں اور ان کی بڑھتی ہوئی تعداد اسلامی قوانین کے تحت اپنے معاملات طے کرنا چاہتی ہے۔ مباحثہ کے دوران امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کا بھی مختصراً ذکر ہوا۔ بتایا گیا کہ وہاں کہ حالات کو ناموافق سمجھتے ہوئے کچھ مسلمان کاروبار کے لیے نئی جگہ کی تلاش میں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ذکر ہوا کے امریکہ میں مسلمانوں کی اتنی بڑی آبادی ہے کہ وہاں ان کی ضروریات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مباحثے کے بعد ویب سٹار نامی کمپنی کے ڈائریکٹر اقبال اساریا نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ برطانیہ میں فرد کی سطح پر اسلامی قوانین کے تحت بنکاری اور کاروباری سہولیات پانچ سال پہلے فراہم کی جانا شروع کی گئی تھیں جبکہ کمپنیوں اور اداروں کو یہ سہولت اس سے پہلے سے میسر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک کرنٹ اکاؤنٹ، مارٹگیج وغیرہ کے معاملات میں اسلامی قانون کے تحت معاہدوں کی سہولیات میسر ہیں اور اس مد میں مزید اضافہ ہوگا جن میں پنشن، بیمہ، چائلڈ ٹرسٹ فنڈ شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان گھرانوں نے مارٹگیج لے رکھی ہے جن میں سے صرف چار ہزار کے پاس اسلامی مارٹگیج ہے۔ انہوں نے کہا یہ بہت بڑی تعداد نہیں ہے لیکن آہستہ آہستہ لوگوں کو اس کے بارے میں پتہ چل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنیوں کے لیے اسلامی قوانین کے تحت قرضوں کی فراہمی کا معاملہ بھی زیر غور ہے۔ اساریا نے بتایا کہ برطانیہ میں اب تک ایک سو ارب ڈالر کا کاروبار اسلامی قوانین کے تحت ہو چکا ہے۔ ایک اور کمپنی البراق کے وقار احمد نے بتایا کہ برطانوی کمپنیاں اسلامی قوانین میں رہنمائی کے لیے مختلف سطح پر سکالرز سے رابطہ کرتے ہیں اور بعض کمپنیوں نے شریعہ مشاورتی بورڈ بھی بنائے ہیں۔ اسلامی مارٹگیج اور مروجہ مارٹگیج میں فرق بتاتے ہوئے وقار احمد نے کہا کہ اسلامی مارٹگیج میں گاہک بینک کے ساتھ جائداد میں شراکت دار ہوتا ہے اور وہ بینک کے حصہ کی زمین کے استعمال کی قیمت ادا کرتا ہے جبکہ مروجہ نظام کے تحت گاہک بینک سے ملنے والی رقم کی قیمت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا اسلامی مارٹگیج میں مالی فائدہ نہیں ہے لیکن اس میں بینک کے ساتھ معاہدے کی نوعیت فرق ہوتی ہے۔ اقبال اساریا نے بتایا کہ وہ لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اسلامی نظام کے تحت لین دین سے مالی فائدہ تو نہیں ہوتا لیکن اس میں گھاٹے سے بچا جا سکتا ہے۔ اسلامی قانون کی ماہر سارا گوڈن نے بتایا کہ ٹیکس کے میدان میں کچھ تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی کاروباری نظام متعارف کروانے جیسے اقدامات سے اقلیتوں کے مرکزی دھارے میں انضمام میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرد کی سطح پر مزید سہولیات بہم پہنچانے کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں اقبال اساریا نے بتایا کے اسلامی کاروباری نظام قانون سازی کے ذریعے نہیں متعارف نہیں ہو رہی بلکہ اس کو ایف ایس اے مانیٹر کرتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||