تہذیبوں کا ٹکراؤ کیسے روکا جائے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپ کی ترجیح ہونی چاہیے کہ وہ ایک اکائی کے طور پر اسلامی دنیا کے ساتھ مذاکرات سے آگے بڑھ کر روابط قائم کرے۔ اس ضمن میں سیاسی، اقتصادی اور سماجی سطح پر مثبت عمل کی ضرورت ہے۔ یہ بات جامعہ لیسٹر کے پروفیسر رچرڈ بونی نے ایک لیکچر کے دوران کہی۔ پروفیسر بونی جامعہ میں مذہبی اور سیاسی اجتماعیت کی تاریخ کے مرکز سے وابستہ ہیں۔ عالم اسلام کے ساتھ روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پروفیسر بونی نے کہا کہ دوسری صورت میں ’تہذیبوں کے ٹکراؤ‘ کے نظریہ کے درست ثابت ہو جانے کا خطرہ ہے۔ ’مثبت روابط صحیح معنوں میں فرق ڈال سکتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ سنہ دو ہزار ایک میں دنیا کے مختلف ممالک امریکہ پر حملوں کے معاملے میں اس کے ساتھ تھے، اب تین سال سے بھی کم عرصے میں اس کی نیک نیتی کم ہو گئی ہے۔ اس کے اسلامی دنیا کے ساتھ تعلقات اتنے خراب پہلے کبھی نہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ سنہ دو ہزار دو اور دو ہزار تین میں اس بات کا خطرہ تھا کہ یکطرفہ یا نیم یکطرفہ طور پر تشدد کا راستہ اپنانے سے قصوروار اور مجرم میں فرق ختم ہونے اور اسلامی دنیا میں شدید منفی تاثر پھیلنے سے ’دہشت گردوں‘ کا تہذیبوں کے ٹکراؤ بلکہ مذاہب کے ٹکراؤ کا خواب پورا ہو جائے گا۔ پروفیسر بونی نے ایک اور تجزیہ نگار ایم شاہد عالم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہذیبوں کے ٹکراؤ کے نظریے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو امریکہ سے باہر قبولیت حاصل نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے اس بات کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراق کے المیہ کے باوجود تہذیبوں کا ٹکراؤ یا مغرب اور اسلامی دنیا کے درمیان جنگ کا امکان نہیں لگتا۔ امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ تیل استعمال کرتا ہے اور مشرق وسطیٰ کے پاس یہ بڑی مقدار میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک امریکہ طاقت کے زور پر سستا تیل حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا مشرق وسطیٰ اور اس کے مفادات ایک ہیں۔ ان کے درمیان تیل کے لیے مقابلہ نہیں ہے(چین اور امریکہ کا معاملہ اس کے برعکس ہے جن میں توانائی کے وسائل کے لیے مقابلہ ہے جو خوفناک لڑائی کی صورت اختیار کر سکتا ہے)۔ پروفیسر بونی نے مصنف روبرٹ جے پولی کے حوالے سے کہا کہ عالمی سطح ممالک کے درمیان لڑائی سے بچنے اور مغربی یورپی ممالک میں داخلی استحکام کے لیے بین المذاہب تعاون کی حوصلے افزائی ضروری ہے۔ اس کے لیے بروفیسر بونی نے کہا کہ یورپ کو اسلامی دنیا کے ساتھ مثبت روابط کے لیے یورپ میں رہنے والے مسلمانوں کی مدد حاصل کرنے سے پہلے فوری طور پر ان کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ انہوں نے مختلف رپورٹوں اور عالمی رہنماؤں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گیارہ ستمبر کے بعد مسلمانوں کے خلاف زیادتیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ میں مذہبی آزادیوں کے حق کو تسلیم کیے جانے کے باوجود ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا اس حق کا اطلاق تمام یورپی ممالک میں ہو رہا ہے۔ پروفیسر بونی نے اسلامی دنیا میں مغرب کے بارے میں پائے جانے والے شبہات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے بارے میں اسلامی دنیا میں دوہرے معیار کا الزام لگایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں الجزائر کی مثال دی جاتی ہے جہاں مغرب نے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے پر فوجی حکومت کی مخالفت نہیں کی تھی کیونکہ منتخب حکومت کے نظریات مغربی سیکولر نظریات سے متصادم تھے۔ افغانستان اور عراق کی مثال دیتے ہوئے پرفیسر بونی نے سوال اٹھایا کہ ان ممالک میں ’جمہوریت‘ کی نوعیت کیا ہے۔ ایک انتخاب سے ثابت نہیں کیا جا سکتا ہے جمہوریت قائم ہو گئی ہے۔ انہوں نے مقتدر خان کی تحریر کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ عراق میں منتخب آمریت کا امکان زیادہ نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا باہر سے جمہوریت متعارف کرانے میں ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ ’جمہوریت‘ کی اصطلاح ہی بدنام ہو جائے۔ یورپی اسلامک عالمی فاؤنڈیشنشن انہوں نے کہ یورپی یا اسلامی ممالک میں حکومتوں سے بالا بالا اس تنظیم کا جلد از جلد قیام بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تنظیم کے تحت تعاون کا سلامتی کے امور سے تعلق نہیں ہوگا۔ پروفیسر بونی نے کہا کہ سلامتی اور انسانی ترقی کی کوششوں میں فرق نہ کرنے سے مسلمان ممالک میں شکوک و شبہات بلکہ نفرت بھی پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ وہاں سمجھا جائے گا یورپ صرف سلامتی کی خاطر انسانی ترقی میں دلچسپی لے رہا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ غیر سرکاری تنظیموں اور جڑواں شہر نامزد کرنے کے طریقے سے بھی فاصلے کم کیے جا سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||