پہلی ممکنہ خاتون صدر، پرتیبھا پاٹل کون؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہتر سالہ پرتیبھا پاٹل، جنہیں ہندوستان کی پہلی خاتون صدر کے لیے حکمران اتحاد یو پی اے نے نامزد کیا ہے، سن 2004 سے ریاست راجستھان کی گورنر ہیں۔ انیس جولائی کو ملک میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ان کی کامیابی یقینی لگتی ہے کیونکہ انہیں حکمران اتحاد اور اس کی حامی بائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ جمعرات کو ان کی نامزدگی کا اعلان کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے کیا تھا۔ اگرچہ پرتیبھا پاٹل ملک کی سیاست میں وزن دار سیاسی حیثیت کی حامل نہیں ہیں تاہم صدارت کے لیے پہلی خاتون امیدوار بننے کی وجہ سے وہ سو کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں اقتدار میں خواتین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی نمائندہ سمجھی جاسکتی ہیں۔ پاٹل کا ریاست مہاراشٹر کی سیاست سے کافی گہرا تعلق رہا ہے۔ پرتیبھا پاٹل 1962 میں پہلی بار مہاراشٹر اسمبلی کے لیے منتخب ہوئی تھیں۔ بطور وکیل اپنے کریئر کی شروعات کرنے والی پرتیبھا پاٹل نے سماجی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پرتیبھا پاٹل کی مہاراشٹر کے شہر جلگاؤں میں پیدائش ہوئی اور انہوں نے اپنی تعلیم جلگاؤں اور ممبئی میں مکمل کی۔ کالج کے دنوں میں وہ ٹیبل ٹینس کی اچھی کھلاڑی تھیں۔ زراعت، اقتصادیات اور خواتین کے مسئل میں دلچسپی رکھنے والی پرتیبھا پاٹل 1991میں ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئیں۔ پرتیبھا پاٹل ایوان بالا راجیہ سبھا کی ڈپٹی چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں۔ شفاف شبیہ اور تنازعات سے دور رہنے والی پرتیبھا پاٹل مہاتما گاندھی کے نظریہ پرعمل کرتی ہیں۔ وہ ہندوستان کی پارلیمنٹ پر حملے کی سازش کے مجرم افضل گرو کی پھانسی کی مخالفت میں سامنے آئيں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے قانون سے پھانسی کی سزا مکمل طور پر ختم کر دینی چاہیئے۔ |
اسی بارے میں صدارت: خاتون کی نامزدگی کا خیرمقدم15 June, 2007 | انڈیا پرتیبھا پاٹل صدارت کی امیدوار14 June, 2007 | انڈیا ہندوستان: صدارتی انتخاب کی تاریخ13 June, 2007 | انڈیا ’نئے صدر کے نام پر اتفاق ہوگیا‘12 June, 2007 | انڈیا ’دوستی کا جذبہ متاثرنہیں ہوگا‘23 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||