BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 June, 2007, 23:51 GMT 04:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نئے صدر کے نام پر اتفاق ہوگیا‘

وزیر داخلہ شوراج پاٹل کا نام صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
ہندوستان میں صدارتی انتخابات کے لیے سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور حکمراں جماعت کانگریس کی صدر سونیا گاندھی صدارتی امید وار کے سلسلے ميں پیر سے ہی پوری طرح سرگرم ہیں۔

ہندوستان میں صدارتی انتخاب آئندہ ماہ ہوں گے اور بدھ کو اس سلسلے میں باضابطہ تاریخ کا اعلان کیے جانے کی توقع ہے۔

کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی نے صدارتی انتخابات کے سلسے میں پہلے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے مفصل صلاح ومشورہ کیا اور بعد میں ریاست اتر پردیش کی وزیر اعلی مایاوتی سے ان کی رہائش گاہ پر بات چیت کی۔ مایاوتی نے بتایا کہ صدر کے عہدے کے امید وار کے نام پر اتفاق ہو گیا ہے۔

سونیا گاندھی سے ملاقات کے بعد مایاوتی نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ’ سونیا گاندھی سے میری مفصل بات چیت ہوئی ہے۔ ہم نے کئی ناموں پر صلاح و مشورہ کیا اور ایک نام پر اتفاق ہو گیا ہے‘۔

مایاوتی نے کسی امیدار کا نام تو نہیں لیا لیکن غیر سرکاری طور پر وزیر داخلہ شوراج پاٹل کا نام صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

بیشتر اتحادی جماعتیں مسٹر پاٹل کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔ لیکن بائيں بازو کی جماعتیں مسٹر پاٹل کو امیدوار بنائے جانے پر خوش نہیں ہیں۔

بایاں محاذ مسٹر پاٹل کو آر ایس ایس سے قریب سمجھتا ہے اور اب بھی محاذ کانگریس کے سینئر رہنما اور وزیر خارجہ پرنب مکھرجی کو صدارتی امیدوار بنانے کے حق میں ہے۔

بائيں بازو کی جماعتیں بدھ کو کانگریس کے رہنما سے ایک بار پھر صلاح و مشورہ کریں گی۔اندازہ یہی ہے کہ انہیں حکمراں اتحاد کے ساتھ ہی جانا ہوگا اور وہ اپنے اعتراضات کے باوجود مسٹر پاٹل کی حمایت کریں گے۔

ادھر بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں صدارتی انتخاب میں نائب صدر بھیرو سنگھ شیخاوت کو آزادانہ امیدوار کے طور پر کھڑا کرنے کی کوشش میں ہیں۔

بی جی پی حال میں تشکیل دئے گئے تیسرے محاذ کی بھی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ محاذ ملائم سنگھ یادو، چندر بابو نائڈو اور جیہ للیتہ سمیت آٹھ سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے بنا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد