نفع بخش عہدے، بِل پھر پارلیمان میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں حکومت نے نفع بخش عہدوں کے متعلق متنازعہ بل کو پارلیمنٹ میں بغیر کسی تبدیلی کے دوبارہ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل حکومت نے جس بل کو صدر کے پاس منظوری کے لیے بھیجا تھا اسے صدر جمہوریہ نے یہ کہ کر واپس کر دیا تھا کہ اس میں بعض تبدیلیوں کی ضرورت ہے لیکن حکومت نے اس بِل میں تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئین کے تحت صدر جمہوریہ کسی بِل کو نظرثانی کے لیے صرف ایک بار واپس کابینہ کے پاس بھیج کرسکتا ہے۔ وزیراعظم منموہن سنگھ کی قیادت میں کابینہ کی ایک اہم میٹنگ کے بعد مرکزی وزیر پریہ رنجن داس منشی نے کہا کہ کابینہ صدر جمہوریہ کااحترام کرتی ہے اور ’ان کے پیغام پر پارلیمنٹ میں ایمانداری سے بحث ہوگی اور پارلیمان کے وقار کا بھی خیال رکھا جائےگا۔‘ آئندہ پیر سے پارلیمنٹ کا مون سون اجلاس ہونے والا ہے اور امکان ہے یہ بل پچیس جولائی کو دوبار بحث کے لیے پیش کیا جائےگا۔ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس بل کی سخت مخالفت کی تھی اور صدر کی سفارشات پر غور نہ کرنے کے سبب اپوزیشن ایک بار پھر حکومت کے خلاف صف آراء ہونے کے لیے تیار ہورہا ہے۔
ہندوستان میں آئین کی رو سے کوئی بھی رکن پارلمان اپنی رکنیت کے دوران کسی ایسے سرکاری عہدے پر فائز نہیں ہوسکتا جس سے اسے مالی فائدہ پہنچتا ہو۔ یہ معاملہ اس برس اس وقت سرخیوں میں آیا تھا جب رکن پارلیمان جیہ بچن کی رکنیت اسی قانون کے تحت ختم کر دی گئی تھی۔ خود کانگرس کی صدر سونیا گاندھی کو بھی اپنی سیٹ سے استعفٰی دینا پڑا تھا۔ حکومت نے گزشتہ بجٹ سیشن میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت چالیس عہدوں کو نفع بخش عہدوں کی فہرست سے خارج کردیا گيا تھا۔ اس بل کو پارلیمنٹ سے منظوری مل گئی تھی اور صدر اے پی جے عبد الکلام کے پاس منظوری کے لیے بھیجا گیا تھا لیکن صدر جمہوریہ نے کہا تھا کہ اس بل کو مزید شفاف اور وسیع بنایا جائے اور نفع بخش عہدے طے کرتے وقت کسی ایک کےفائدہ کو ذہن میں نہیں رکھا جائے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ صدر عبدالکلام نے حکومت سے کہا تھا کہ نفع بخش عہدوں سے متعلق وہ کوئی ایسی پالیسی اختیار کرے جو ریاستی سطح پر بھی ایسے عہدوں کی نشاندہی کرسکیں۔ اپوزیشن نے صدر کی ان سفارشات کی حمایت کی تھی۔ وزیراعظم نے صدر سے ملاقات کرکے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی سفارشات پر حکومت غور کرےگی لیکن کابینہ نے ایک بار پھر اسے جوں کا توں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اگر پارلیمنٹ میں اسے دوبارمنظور کر لیا گیا تو یہ قانون بن جائےگا۔ | اسی بارے میں لوک سبھا: 46 عہدے خارج17 May, 2006 | انڈیا ’بل پر اعتراضات دور کریں گے‘31 May, 2006 | انڈیا جیہ راجیہ سبھا کی رکنیت کی امیدوار01 June, 2006 | انڈیا بہار اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ23 May, 2005 | انڈیا سونیا گاندھی لوک سبھا سے مستعفی 23 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||