BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بل پر اعتراضات دور کریں گے‘

جیہ بچن کے بعد سونیا گاندھی نے اپنے عہدے اور پارلیمان سے استعفیٰ دے دیا تھا تاہم وہ بریلی سے ریکارڈ اکثریت سے دوبارہ منتخب ہوگئیں
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے صدر اے پی جے عبد الکلام سے ملاقات میں انہیں یقین دلایا ہے کہ نفع بخش عہدوں سے متعلق بل کے ان تمام پہلوؤں پر نظر ثانی کی جائے گی جس پر انہیں اعتراض ہے۔

منگل کی رات صدر کلام نے یہ بل حکومت کو لوٹا دیا تھا ۔

حکمراں جماعت کانگریس کی رہنما جیتی نٹراجن نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ حکومت اس بل پر دوبارہ نظر ثانی کرے گی۔ پارٹی کی ترجمان جینتی نٹراجن نے کہا’صدر نے پارلیمان میں پاس کئے گئے بل پر چند سولات اٹھائے ہیں اور اب اس سلسلے میں حکومت اور پارلمینٹ صدر کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات پرغور کرے گی۔‘

حکومت نے نفع بخش عہدوں کی جو فہرست اس بل میں پیش کی ہے اس میں قومی مشاورتی کونسل سمیت چالیس سے زيادہ ایسے عہدوں کو اس سے الگ رکھا ہے۔ بل میں بیشتر عہدوں پر کانگریس اور اس کے اتحادی بائيں محاذ کے ارکانِ پارلیمان فائز ہیں۔

ہندوستان کے پارلیمانی قوانین کے مطابق کوئی بھی رکن پارلیمنٹ اپنی رکنیت کے دوران کسی ایسے سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا جس سے اسے مالی فائدہ ہوتا ہو۔

صدر عبدالکلام آزاد نے بل کے کچھ پہلوؤں پر اعتراض کیا تھا

صدر کلام نے کہا ہے کہ بل کے دائرہ کی توسیع کی جائے اور کون سے عہدے نفع تخش ہیں اور کون سے نہیں یہ طے کرتے وقت کسی ایک کے فائدہ کو ذہن میں نہ رکھا جائے۔

حزب ختلاف کی جماعت بھارتیہ بنتا پارٹی نے صدر جمہوریہ کے اس اقدام کو صحیح قرار دیا ہے۔

اس تنازعے کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب ایک سیاسی کارکن کی شکایت پر ملائم سنگھ یادو کی سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمان جیہ بچن کی کی راجیہ سبھا کی رکنیت اس بنیاد پر ختم کردی گئی تھی کہ وہ رکن ہونے کے ساتھ ساتھ اتر پردیش فلم ترقیاتی بورڈ کی چئر پرسن بھی تھیں جو ایک تنخواہ والا عہدہ تھا۔

اس کے بعد حکمراں اتحاد کی چئرپرسن اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے حکومت کی قومی مشاورتی کونسل سمیت لوک سبھا کی رکنیت سے استعفی دے دیا تھا ۔ انہوں نے دوبارہ رائے بریلی سے لوک سبھا کا انتخاب لڑا اور رکنیت حاصل کی۔

حکومت کی طرف سے اب اس طرح کے اشارے مل رہے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس میں یہ بل مزید صلاح مشورے کے لئے پیش کرے گی۔ لیکن اگر اسے دوبارہ صدر کے پاس بھیجا گیا تو صدر کے پاس اسے منظوری دینے کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں
لوک سبھا: 46 عہدے خارج
17 May, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد