BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 June, 2006, 12:47 GMT 17:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جیہ راجیہ سبھا کی رکنیت کی امیدوار

ملائم سنگھ یادو کی حمایت سے جیہ بچن کا دوبارہ رکن پارلیمان منتخب ہونا یقینی ہے
مشہور اداکارہ اور سابق رکن پارلیمان جیہ بچن ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کی رکنیت کے لیئے دوبارہ انتخاب لڑ رہی ہیں۔ لکھنؤ میں بدھ کو جیہ بچن نے اترپردیش کی اسمبلی سے کاغدات نامزدگی داخل کرائے ہیں۔ راجیہ سبھا کی یہ سیٹ ان کی رکنیت ختم ہونے کے بعد خالی ہوگئی تھی۔

وہ سماج وادی پارٹی سے راجیہ سبھا کی امیدوار ہیں اور ان کا انتخاب تقریبا یقینی ہے۔ کاغذات نامزدگی کے وقت محترمہ بچن کے شوہر اور مشہور اداکار امیتابھ بچن ان کے ساتھ نہیں تھے۔ اطلاعات ہیں کہ امیتابھ جیہ بچن کے دو بارہ انتخاب لڑ نے کے حق میں نہیں ہیں۔

کاغذات نامزدگی کے وقت اتر پردیش کے وزیراعلی ملائم سنگھ یادو، پارٹی کے جنرل سکریٹری امر سنگھ اور سہارا انڈیا گروپ کےمالک سبرتو رائے جیہ بچن کے ساتھ موجود تھے۔

اس موقع پر جیہ بچن نے میڈیا سے بات چیت نہیں کی لیکن پارٹی کے ایک سینئر رہنما رام گوپال یادو نے کہا ہے کہ نفع بخش عہدے کے معاملے پر صرف محترمہ بچن کو نشانہ بناکر انہیں بر طرف کردیا گیا تھا جبکہ کانگریس صدر سونیا گاندھی سمیت کئی دیگرارکان اب بھی ایسے عہدوں پر فائز ہیں۔

جیہ بچن سماج وادی پارٹی سے ہی پارلیمنٹ کی رکن تھیں لیکن ایک دوسرے نفع بخش سرکاری عہدے پر فائز ہونے کے الزام میں انتخابی کمیشن کی سفارش پر صدر اے پی جے عبدالکلام نے ان کی پارلیمانی رکنیت ختم کردی تھی۔

آئین کے مطابق کوئی بھی رکن پارلیمان اپنی رکنیت کے دوران کسی ایسے سرکاری عہدے پر فائز نہیں ہو سکتا ہے جس سے اسے مالی فائدہ ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر اترپردیش میں کانگریس پارٹی کے ایک رہنما مدن موہن شکلا نے ان کے خلاف انتخابی کمیشن سے شکایت کی تھی کہ محترمہ بچن راجیہ سبھا کی رکن ہونے کے ساتھ ساتھ اترپردیش فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی چیئر پرسن بھی ہیں جو ایک نفع بخش عہدہ ہے۔

دوبارہ الیکشن لڑنےکے لیئے محترمہ بچن نے فلم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کے چیئرپرسن کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔

اسی طرح کے ایک معاملے میں سونیا گاندھی نے بھی اپنی سیٹ سے استعفی دیدیا تھا۔ محترمہ گاندھی نے رائے بریلی حلقے سے دوبارہ انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔

حال ہی میں مرکزی حکومت نے اس سلسلے میں ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت بعض خاص عہدوں کو نفع بخش عہدوں کی فہرست سے خارج کردیا گیا ہے۔ لیکن صدر اے پی جے عبدالکلام نے اس بل پر مزید غور و فکر کے لیئے حکومت کو واپس کردیا ہے۔

اسی بارے میں
لوک سبھا: 46 عہدے خارج
17 May, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد