راجیہ سبھا: جیہ بچن کی رکنیت ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے صدر اے پی جے عبدالکلام نے سماج وادی پارٹی سے تعلق رکھنے والی راجیہ سبھا کی رکن اور بالی وڈ اداکارہ جیہ بچن کی رکنیت ختم کر دی ہے۔ جیہ بچن کی رکنیت ختم کرنے کی سفارشات انتخابی کمیشن نے صدر کے پاس بھیجی تھیں۔ انتخابی کمیشن نے یہ قدم ان شکایات کے بعد اٹھایا تھا کہ جیہ بچن راجیہ سبھا کی رکن ہونے کے ساتھ ساتھ ریاست اتر پردیش میں ایک ایسے سرکاری عہدے پر فائز ہیں جہاں سے انہیں تنخواہ مل رہی ہے۔ انتخابی کمیشن کے ضوابط کے مطابق کوئی بھی رکن پارلیمنٹ اپنی رکنیت کی مدت کے دوران کسی ایسے سرکاری عہدے کو قبول نہیں کرسکتا جس سے اسے مالی فائدہ ہوتا ہو۔ جیہ بچن اتر پردیش میں فلم ڈیویلپمنٹ کونسل کی چیئرمین تھیں اور وہاں کے ایک مقامی سیاسی رہنما مدن موہن شکلا نے اکتوبر میں انتخابی کمیشن سے ان کی شکایت کی تھی۔ کمیشن نے فیصلہ کرنے سے پہلے اس سلسلے میں کئی بار سماعت کی تھی۔ انہی بنیادوں پر الیکشن کمیشن نے ملائم سنگھ یادو کی سماج وادی پارٹی کے جنرل سیکرٹری امر سنگھ کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔ امر سنگھ راجیہ سبھا کے رکن ہونے کے ساتھ ساتھ اترپردیش ترقیاتی کونسل کے سربراہ ہیں۔ انہیں 31 مارچ تک نوٹس کا جواب دینا ہے۔ سماج وادی پارٹی نے ان ارکان کی رکنیت ختم کیۓ جانے کے پیش نظر حال میں اترپردیش اسمبلی میں ایک بل پیش کیا تھا جس میں 79 عہدوں کو غیر تنخواہی عہدوں میں بدلنے کی تجویز ہے۔ اس بل کو اسمبلی نے پاس کردیا تھا لیکن گورنر کی منظوری نہ ملنے کے سبب یہ قانون نہ بن سکا۔ جیہ بچن ہندی فلموں کی معروف اداکارہ اور ہندی سنیما کے سپر سٹار امتیابھ بچن کی اہلیہ ہیں۔ ان کی رکنیت ختم کیے جانے کے بعد کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے درمیان تلخی میں مزید شدت آ سکتی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے رہنما اور اترپردیش کے وزیرِاعلٰی پہلے ہی یہ الزام لگاتے ر ہے ہیں کہ کانگریس مختلف راستوں سے ان کی حکومت کوگرانے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے انتخابی کمیشن پر بھی جانبداری کا الزام لگایا ہے جسے کمیشن نے قطعی طور پر مسترد کردیا ہے۔ | اسی بارے میں اتر پردیش: ملائم حکومت کو خطرہ28 February, 2006 | انڈیا گاندھی۔بچن خاندانوں کی سرد جنگ18 October, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||