BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 February, 2006, 11:08 GMT 16:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اتر پردیش: ملائم حکومت کو خطرہ

ملائم سنگھ
کانگریس نے بھی وزیرِاعلٰی ملائم سنگھ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے
بہوجن سماج پارٹی کےاراکین کی حکومتی جماعت میں شمولیت کے معاملے پر الہ آباد ہائیکورٹ کے اہم فیصلے کے بعد اترپردیش میں ملائم سنگھ حکومت پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔

عدالت نے کہا ہے کہ بہوجن سماج پارٹی کے چالیس ارکان کی سماج وادی پارٹی میں شمولیت درست نہیں تھی اور اس معاملے پر اسمبلی کے سپیکر کو دوبارہ غور کرنا چاہیے۔

ہائی کورٹ کا فیصلہ آتے ہی اتر پردیش میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں اور اپوزیشن جماعتوں نے ملائم سنگھ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

بی جے پی کے سینئر رہنما کلراج مشرا نے کہا ہے کہ’اگر ملائم سنگھ یادو استعفئی نہیں دیتے تو انہیں برطرف کردیا جانا چاہیے اور وہاں نئے انتخابات کروائے جائیں‘۔

کانگریس نے بھی وزیرِاعلٰی ملائم سنگھ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما راجیو شکلا نے کہا کہ’عدالت کے فیصلے کے بعد ملائم سنگھ یادو کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے کہ وہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں‘۔ بہوجن سماج پارٹی نے بھی اتر پردیش میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بی ایس پی کے ارکان کے جانے کے باوجود حکومت کو اکثریت حاصل ہے

دوسری جانب سماج وادی پارٹی کے جنرل سیکریٹری امر سنگھ کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ ابھی عدالت کے فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم حکومت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ’سماج وادی پارٹی اور راشٹریہ لوک دل کا اتحاد مضبوط ہے اور بی ایس پی کے ارکان کے جانے کے باوجود حکومت کو اکثریت حاصل ہے‘۔

سنہ دو ہزار تین میں بہوجن سماج پارٹی کے چالیس ارکان نے پارٹی چھوڑ کر الگ جماعت بنا لی تھی اور اسمبلی سپیکر نے اسے تسلیم بھی کرلیا تھا۔ بعد میں یہ تمام ارکان ملائم سنگھ کی پارٹی میں شامل ہو گيے تھے۔ لیکن بی ایس پی نے ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا اور ان ارکان کی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

یو پی اسمبلی میں کل چار سو دو سیٹیں ہیں اور بہوجن سماج پارٹی کے ارکان کو ملا کر ملائم سنگھ کے ارکان کی تعداد ایک سو چورانوے ہے۔ عدالت کے حکم کے مطابق اگر سپیکر نے ان ارکان کی رکنیت ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو ملائم سنگھ حکومت اقلیت میں آ جائےگی۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر یہ کہنا مشکل ہے کہ سرکار کو اکثریت حاصل ہے یا نہیں لیکن اگر ملائم سنگھ حکومت گر جاتی ہے تو ملک کی سب سے بڑی ریاست میں ایک متبادل حکومت کی تشکیل کی نسبت نئےانتخابات کے امکانات زیادہ ہیں۔

اسی بارے میں
حکومت کی خارجی مصیبت
12 February, 2006 | انڈیا
ملائم کو عدالت کا نوٹس
09 January, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد