صلاح الدین بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی |  |
 | | | سونیا گاندھی اس وقت ہندوستان میں مقبول ترین رہنما سمجھی جاتی ہیں |
کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے لوک سبھا کی رکنیت اور نیشنل ایڈوائزری کمیٹی کی چیئرپرسن کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ قدم انہوں نے سماج وادی پارٹی کی رکن جیہ بچن کےاستعفے کے بعد اٹھایا ہے۔ اداکارہ جیہ بچن کے استعفے کے بعد اپوزیشن جماعتیں اس بنیاد پر سونیا گاندھی کے استعفے کا مطالبہ کر رہی تھیں کہ وہ بھی پارلیمنٹ رکن ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر سرکاری عہدوں پر فائز نہیں رہ سکتیں۔ سونیا گاندھی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ سیاست میں عہدوں کی لالچ میں نہیں بلکہ لوگوں کی خدمت کے لیے ہیں۔ سونیا نے کہا: ’مجھے بعض تنازعات میں کھینچا جارہا ہے اس لیے میں اس عہدے سے استعفی دے رہی ہوں۔‘ سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ وہ پھر سے انتخاب رائے بریلی کی نشست سے ہی لڑیں گی۔ الیکشن کمیشن کے اصول و ضوابط کے تحت کوئی بھی شخص پارلیمنٹ کی رکنیت کے ساتھ ساتھ کوئی ایسا سرکاری عہدہ نہیں قبول کرسکتا جس سے اسے مالی فائدہ پہنچتا ہو۔ اسی قانون کے تحت گزشتہ ہفتے فلم اداکارہ جیہ بچن کی پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کر دی گئی تھی۔ اس فیصلے کے بعد ہی بعض سیاسی جماعتوں نے سونیا گاندھی کے خلاف الیکشن کمیشن سے شکایت کی تھی۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ سونیا گاندھی جن دیگر عہدوں پر تھیں ان سے انہیں کوئی مالی فائدہ حاصل تھا یا نہیں۔ اس پورے معاملے کے دوران حکومت ایک آرڈیننس کےذریعےسرکاری اداروں کی تشخیص کرنا چاہتی ہے کہ جن کے بعض عہدے نفع بخش یعنی آفس آف پرافِٹ ہیں اور کون اس کی فہرست سے باہر ہیں۔ اس پر سیاسی جماعتوں کے درمیان بحث و مباحثہ جاری ہی تھا کہ محترمہ سونیا گاندھی نے اپنے استعفی کا اعلان کردیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ لگ بھگ یقینی ہے کہ جب وہ پھر سے انتخاب لڑیں گی تو وہ کامیاب ہوجائیں گی۔ |