ملکی یا غیرملکی، فیصلہ عوام پر: پریانکا گاندھی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی کی بیٹی پریانکا گاندھی کا کہنا ہے کہ ان کی ماں کے غیرملکی نژاد ہونے پر سیاست دانوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کا جواب عوام دیں گے۔ پریانکا گاندھی ان دنوں انتخابی مہم میں کانگریس کے لئے اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ سونیا گاندھی کے انتخابی حلقے رائے بریلی میں بی بی سی ہندی سروِس سے گفتگو کرتے ہوئے پریانکا گاندھی نے کہا کہ امیٹھی اور بیلاری میں ماضی کے انتخابات کےدوران عوام نے ان کی ماں پر لگائے جانیوالے ان اعتراضات کا جواب دے دیا تھا۔ وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاستدان سونیا گاندھی پر الزامات عائد کرتے رہے ہیں کہ چونکہ وہ اطالوی ہیں اس لئے انہیں وزیراعظم نہیں بنانا چاہئے۔ سونیا گاندھی نے اترپردیش کے انتخابی حلقے امیٹھی اور ریاست کرناٹک کے انتخابی حلقے بیلاری سے ماضی میں انتخابات جیتے ہیں۔ ان کی بیٹی نے کہا کہ اس بار انتخابات میں رائے بریلی کے عوام ان کی ماں کے حق میں ووٹ دیں گے۔ پریانکا گاندھی نے کہا کہ جو سیاست دان عوام کے فیصلے کا قدر نہیں کرتے ان کے بارے میں کیا کہا جائے۔ اس سوال کے جواب میں کہ وہ ملکی سیاست میں کب شامل ہوں گی، پریانکا گاندھی کا کہنا تھا کہ انہوں نےگزشتہ اور موجودہ الیکشن کے دوران انتخابی مہم میں حصہ لیا ہے اور اس طرح کم سے کم پانچ برسوں سے وہ سیاست میں تو سرگرم ہیں ہی۔ یہ پوچھے جانے پر کہ پہلے امیٹھی یا رائے بریلی میں ان کے الیکشن لڑنے کی خبر تھی، پریانکا نے کہا: ’ہم تینوں نے ملکر بحث کی اور فیصلہ کیا کہ راہول انتخاب لڑے گا۔‘ پریانکا گاندھی کے بھائی راہول گاندھی امیٹھی سے انتخاب لڑرہے ہیں۔ یہ وہ حلقہ ہے جس کی ان کی ماں نمائندگی کرتی رہی ہیں۔ جب پریانکا گاندھی سے یہ سوال کیا گیا کہ انتخابات کے بعد کانگریس اتحاد کا رہنما کون ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ نتائج آنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ پریانکا گاندھی نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا کہ امیٹھی اور رائے بریلی کے علاوہ کیا وہ ملک کے دیگر انتخابی حلقوں کا دورہ کریں گی۔ ان کا جواب تھا: ’اس کا فیصلہ دہلی جاکر ہوگا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||