اخبار کا اشتہار یا وبال ِجان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اللہ کے نام پر ووٹ مانگنا جائز ہے کہ نہیں؟ یہ سوال بظاہر کسی دارالافتاء کے مفتی سے پو چھا جانا چاہیے مگر اس مسئلہ کا حل جاننے کی خواہش بی جے پی کے مشہور مسلم رہنما اور پارٹی کے سینئر اہلکار مسٹر عباس نقوی نے کی ہے۔ یہ سوال انکی پارٹی نے ملک کے الیکشن کمیشن سے پوچھا ہے۔ اس سوال کی وجہ لکھنؤ کے بعض اردواخبارات میں یو پی کے وزیر اعلی ملائم سنگھ یادیو کی سماج وادی پارٹی کی طرف سے شائع ہونے والا اشتہار بنا ہے۔ اس اشتہار پر مسلمان بالخصوص شیعہ فرقے نے شدید اعتراض کیا ہے۔ لیکن بی جے پی اور دوسرے مسلمانوں کے اعتراض کی وجہ مختلف ہے۔ چند روز قبل شائع ہونے والے اشتہار میں بظاہر مسلمان دکھائی دیتے لوگوں کی تصویروں کے نیچے سوال ہے۔’ کیوں میاں ، کون جیت رہا ہے‘ اور جواب یہ ہے ’سماج وادی پارٹی اور کون‘ بقول مختار عباس نقوی، بی جے پی کو اشتہار کے جس حصے پر اعتراض ہے وہ کچھ اس طرح ہے۔ ’جس نے (اشارہ ملائم سنگھ کی طرف ہے) اللہ کا گھر بچایا، اللہ اس کا اقبال بلند کرے گا‘ بی جے پی کے مطابق اس اشتہار نے مسلمانوں کے جذبات بھڑکا کر انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ بی جے پی کے خیال میں یہ انتخابات ’ضابطہ اخلاق‘ کی خلاف ورزی ہے۔ اس لیے سماج وادی پارٹی کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ مختار نقوی نے قانونی دائرے سے ہٹ کر یہ دلچسپ بات کی کہ اللہ کے نام پر خیرات مانگنے کی بات تو سنی تھی لیکن لوگ اب اللہ کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں۔
اس اشتہار کی وجہ سے مسلمانوں کا غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس اشتہار میں کہا گیا ہے کہ جو قوم چودہ سو برس پرانے کربلا کے سانحے کو نہیں بھول سکی وہ ملائم سنگھ یادیو کی قربانی کو کیا بھولے گی۔ معروف شعیہ عالم کلب جواد ملائم سنگھ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ سماج وادی پارٹی اس اشتہار کو واپس لے اور وہ خود ان سے معافی مانگیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ظفر یاب جیلانی اس اشتہار کو حضرت امام حسین سے ملائم سنگھ کے موازنہ کے مترادف سمجھتے ہیں اور یہ موازنہ قابل ِاعتراض ہے۔ کلب جواد کے ملائم سنگھ سے معافی کے مطالبہ کے بعد سماج وادی پارٹی کے سکریٹری جنرل امر سنگھ نے یہ بیان جاری کیا ہے کہ اشتہار کا مقصد کسی کے جذبات مجروح کرنا نہیں تھا مگر مولانا کلب جواد کا کہنا ہے ملائم سنگھ کو خود معافی مانگنی چاہیے کیونکہ ان کے اس دلاسے سے دل مطمئن نہیں ہو رہا۔ سماج وادی پارٹی کے لئے یہ اشتہار ایک ساتھ کئی مصیبتیں کھڑی کرنے والا ہے۔ ایک طرف تو بی جے پی اس کے خلاف الیکشن کمیشن میں شکایت کر چکی ہے۔ دوسری طرف شیعہ فرقے کے لوگ خاص طور پر اس سے مضطرب ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ لکھنؤ میں اہل تشیع کی خاصی تعداد ہے۔
سماج وادی پارٹی پہلے ہی مسلمانوں کے ووٹ بچانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ وزیر اعظم واجپئی کے ذریعے سماج وادی پارٹی سے فکری قربت کی بات بھی مسلمانوں کے ذہن میں تازہ ہے۔ کئی مسلمان تنظیمیں یو پی میں سیکولر اتحاد قائم نہ ہونے کا ذمہ دار بھی سماج وادی پارٹی کو سمجھتی ہیں کیونکہ وہ کانگریس کے ساتھ اتحاد کے لئے یہ کہہ کر تیار نہیں ہوئی کہ بہت دیر ہو چکی ہے۔ مبصرین کی رائے یہ ہے کہ سماج وادی پارٹی کے لئے اس بار اپنے روایتی مسلم ووٹروں کا اعتماد حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دریں اثناء ملائم سنگھ یادیو نے اپنے ایک بیان میں صورتحال کی وضاحت اس طرح کی ہے: ’ میں نے اللہ کے نام پر کبھی ووٹ نہیں مانگا ہے۔ اگر ایسا کچھ چھپا ہے اور اس سے مسلمان بھائیوں کو ٹھیس پہنچی ہے تو سماج وادی پارٹی اس کے لئے افسوس کا اظہار کرتی ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||