BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 April, 2004, 16:51 GMT 21:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امام بخاری کا بیان اثرانگیز نہیں ہوگا

دلی کی جامعہ مسجد کے امام احمد بخاری نےحال ہی میں ملک کی سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں کو تلقین کی ہے کہ وہ اس مرتبہ پارلیمانی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت کریں اور اسے ووٹ دیں۔

احمد بخاری نے کہا ہے کہ ملک کی زیادہ تر جماعتیں صرف نام کی سیکولر ہیں اور درحقیقت ماضی میں وہ مسلمانوں کا ووٹ لینے کے بعد ان کا استحصال ہی کرتی رہی ہیں اس لئے اب غیر سیکولر تصور کی جانے والی جماعتوں کو بھی موقع دینے کا وقت آ گیا ہے۔

احمد بخاری نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب گزشتہ دو مرحلوں میں ہونے والی پولنگ کے بعد لئے گئے انتخابی جائزے یہ بتا رہے ہیں کہ شاید اس بار بی جے پی کی کارکردگی پہلے کے مقابلے میں بہتر نہ ہو۔

انہی وجوہات کی بنا پر بی جے پی نے بھرپور انداز میں مسلمانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی مہم شروع کی اور بظاہر احمد بخاری کا بیان بھی اسی کاوش کا حصہ ہے۔

News image
انڈیا میں انتخابی سرگرمیاں زوروں پر

اس سے قبل احمد بخاری کے والد عبداللہ بخاری بھی گزشتہ کئی انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں کے حق میں اس طرح کے بیانات دے چکے ہیں۔ دیکھا جائے تو احمد بخاری صرف دلی کی جامع مسجد کے ہی امام ہیں اور بظاہر ملک کے مسلمان طبقے میں یا سیاسی میدان میں ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے اور ان کا اثر و رسوخ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ملی کونسل کے ترجمان کمال فاروقی کا کہنا ہے کہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ امام صاحب جو کل تک بی جے پی کے خلاف نازیبا الفاظ تک استعمال کرتے رہے تھے اور انہوں نے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے خلاف اجتماعی دعا بھی مانگی تھی اب اچانک ان کے رویے اور نظریے میں اتنی بڑی تبدیلی کیوں آئی ہے اور اس کے پیچھے کیا وجوہات کارفرما ہیں۔ امام صاحب کو اس کی وضاحت کرنی چاہیے۔

دراصل احمد بخاری کے حامی صرف پرانی دلی کے چند ایک محلوں تک ہی محدود ہیں۔ پرانی دلی کے رہائشی اور وکیل سلیم اختر خان کہتے ہیں کہ وہ ذاتی طور پر اس بیان سے سخت رنجیدہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ احادیث اور قرآن کی رو سے احمد بخاری کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی مذہبی پوزیشن استعمال کرتے ہوئے اس طرح کے بیانات دیں۔

سوال یہ ہے کہ احمد بخاری کی اس اپیل کا مسلمان رائے دہندگان پر کتنا اثر ہو گا۔ قومی یکجہتی کونسل کے سیکٹری نوید حامد کا کہنا ہے کہ یہ اپیل ہر طرح صدا بحرا ثابت ہو گی اور انتخابی نتائج سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ ایسی اپیلوں سے رائے تبدیل نہیں ہوتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ مسلمان رائے دہندگان ذہنی طور پر بہت بیدار ہیں اور اپنا بھلا برا بخوبی سمجھتے ہیں اور اس مرتبہ ہونے والے انتخابات میں بھی وہ دانشمندی سے ہی کام لیں گے۔

پرانی دلی میں احمد بخاری کے چند حامیوں کے علاوہ مجموعی طور پر ان کا بیان کوئی خاص اثر نہیں رکھتا اور گجرات میں ہونے والے فسادات میں بی جے پی کے رہنماؤں کے کردار اور بی جے پی حکومت کی اب تک مسلمان مخاف پالیسیوں کے پس منظر میں ملک کے رائے دہندگان سے یہ امید کسی بھی طرح وابستہ نہیں کی جا سکتی کہ وہ اس طرح کے بیانات کا سنجیدہ نوٹس لے کر اپنے حق رائے دہی ا استعمال کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد