انڈیا: سیاسی کردار کے متلاشی نوجوان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں سیاسی جماعتوں نے نئی پود کا خیال رکھتے ہوئے کئی نوجوانوں کو پارلیمانی انتخابات میں بحیثیت امیدوار سیاسی میدان میں اتارا ہے۔ ان میں بیشتر امیدوار ایسے ہیں جو براہِ راست سیاسی خاندانوں سےتعلق رکھتے ہیں مثلاً سچن پائلٹ، راہول گاندھی اور سندیپ ڈکشٹ وغیرہ۔ عام نوجوانوں کا خیال ہے کہ بھارتی سیاست میں اب ایسا پہلو آیا ہے جب ملک کی باگ ڈور نوجوان نسل کے ہاتھوں میں سونپی جانی چاہیے کیونکہ وہ نۓ ولولے سے اس ملک کو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ جامع ملیہ اسلامیہ میں نوجوانوں نے ایک بحث میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اٹل بہاری واجپئی اور دوسرے بزرگ رہنماوں کو اب سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیے کیونکہ اب وہ سرکاری خزانے پر بوجھ بن رہے ہیں اور سیاسی میدان میں نوجوانوں کے آگے بڑھنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔حالانکہ کئی نوجوانوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے اس قدم کو سراہا کہ وہ کانگریس کے مقابلے میں نوجوانوں کی زیادہ حوصلہ افزائی کررہی ہے اور ان کی گرومنگ پر پیسہ بھی خرچ رہی ہے۔
بھارت میں نوجوان سیاسی امور سے بھی پوری طرح آگاہ ہیں اور ان امیدواروں سے بھی جو ان کی نمائندگی کر رہے ہیں تاہم اس کے باوجود وہ سیاست میں شامل ہونے سے کتراتے ہیں کیونکہ ان میں سے اکثر نوجوان سیاستدانوں کی بددیانتی کے ان درجنوں سکینڈلوں سامنے آنے سے بد ظن ہوچکے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بھارتی سیاست کی شبیہ ان سکینڈلوں کی وجہ سے مسخ ہوگئی ہے۔ بیشتر نوجوان بی جے پی کے اکثر رہنماؤں کو دیانت دار سمجھتے ہیں لیکن ان میں سے ایسے نوجوان ’ہندوتو‘ (یعنی شدت پسندی) کے ان کے نظریہ سے خوش نہیں جو اس دیش کی مریادہ یا روایت کے خلاف ہے۔ ایسے تعلیم یافتہ نوجوان خاص طور پر ہندوتو کے تصور کو اپنے مستقبل کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں جو بیرونی ملک جا کر ملازمت حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بھارت کا ہندو دیش والا امیج ان کے راستے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ملک کی بہتر معیشیت کو انتخابی مہم میں اجاگر کر کے بار بار یہ تاثر دے رہی ہے کہ زرمبادلہ میں اضافہ اور پاکستان سے دوستی کرکے وہ روزگار کے مزید مواقع مہیا کرسکتی ہے لیکن نوجوانوں کی بڑی تعداد کاخیال ہے کہ بہترین منصوبہ بندی کانگریس کے زمانے میں ہوئی تھی اور اس کا پھل بی جے پی حاصل کر رہی ہے۔ تاہم یہ نوجوان ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کا سہرا جنوبی بھارت کے ان علاقائی رہنماؤں کے سر باندھتے ہیں جنہوں نے یقینی طور پران کے لیے بہتر مستقبل کی راہیں کھولی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||