BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا: سیاسی کردار کے متلاشی نوجوان

News image
بعض نوجوان سیاسی سکینڈلوں کے باعث سیاست میں حصہ لینے سے بدظن ہیں
بھارت میں سیاسی جماعتوں نے نئی پود کا خیال رکھتے ہوئے کئی نوجوانوں کو پارلیمانی انتخابات میں بحیثیت امیدوار سیاسی میدان میں اتارا ہے۔

ان میں بیشتر امیدوار ایسے ہیں جو براہِ راست سیاسی خاندانوں سےتعلق رکھتے ہیں مثلاً سچن پائلٹ، راہول گاندھی اور سندیپ ڈکشٹ وغیرہ۔

عام نوجوانوں کا خیال ہے کہ بھارتی سیاست میں اب ایسا پہلو آیا ہے جب ملک کی باگ ڈور نوجوان نسل کے ہاتھوں میں سونپی جانی چاہیے کیونکہ وہ نۓ ولولے سے اس ملک کو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

جامع ملیہ اسلامیہ میں نوجوانوں نے ایک بحث میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اٹل بہاری واجپئی اور دوسرے بزرگ رہنماوں کو اب سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیے کیونکہ اب وہ سرکاری خزانے پر بوجھ بن رہے ہیں اور سیاسی میدان میں نوجوانوں کے آگے بڑھنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔حالانکہ کئی نوجوانوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے اس قدم کو سراہا کہ وہ کانگریس کے مقابلے میں نوجوانوں کی زیادہ حوصلہ افزائی کررہی ہے اور ان کی گرومنگ پر پیسہ بھی خرچ رہی ہے۔

News image
راہول گاندھی ان نوجوانوں میں شامل ہیں جو ان انتخابات میں پہلی بار حصہ لے رہے ہیں

بھارت میں نوجوان سیاسی امور سے بھی پوری طرح آگاہ ہیں اور ان امیدواروں سے بھی جو ان کی نمائندگی کر رہے ہیں تاہم اس کے باوجود وہ سیاست میں شامل ہونے سے کتراتے ہیں کیونکہ ان میں سے اکثر نوجوان سیاستدانوں کی بددیانتی کے ان درجنوں سکینڈلوں سامنے آنے سے بد ظن ہوچکے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بھارتی سیاست کی شبیہ ان سکینڈلوں کی وجہ سے مسخ ہوگئی ہے۔

بیشتر نوجوان بی جے پی کے اکثر رہنماؤں کو دیانت دار سمجھتے ہیں لیکن ان میں سے ایسے نوجوان ’ہندوتو‘ (یعنی شدت پسندی) کے ان کے نظریہ سے خوش نہیں جو اس دیش کی مریادہ یا روایت کے خلاف ہے۔

ایسے تعلیم یافتہ نوجوان خاص طور پر ہندوتو کے تصور کو اپنے مستقبل کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں جو بیرونی ملک جا کر ملازمت حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بھارت کا ہندو دیش والا امیج ان کے راستے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

نعیمہ
نعیمہ احمد دہلی میں نوجونوں کے ساتھ

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ملک کی بہتر معیشیت کو انتخابی مہم میں اجاگر کر کے بار بار یہ تاثر دے رہی ہے کہ زرمبادلہ میں اضافہ اور پاکستان سے دوستی کرکے وہ روزگار کے مزید مواقع مہیا کرسکتی ہے لیکن نوجوانوں کی بڑی تعداد کاخیال ہے کہ بہترین منصوبہ بندی کانگریس کے زمانے میں ہوئی تھی اور اس کا پھل بی جے پی حاصل کر رہی ہے۔

تاہم یہ نوجوان ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کا سہرا جنوبی بھارت کے ان علاقائی رہنماؤں کے سر باندھتے ہیں جنہوں نے یقینی طور پران کے لیے بہتر مستقبل کی راہیں کھولی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد