صدارت: خاتون امیدوار کا خیرمقدم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی خاتون کو صدر جمہوریہ کے باوقار عہدے کے لیے نامزد کیا جانا ہی اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ ترقی پسند محاذ کی چیئر پرسن سونیا گاندھی نے بائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد سے محترمہ پرتیبھا پاٹل کا نام پیش کیا ہے اور اس پر مہاراشٹر ہی نہیں ملک بھر میں خواتین نے خوشی کا برملا اظہار کر رہی ہیں۔ بی بی سی نے ممبئی میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکنے والی حواتین اور کالج طالبات سے ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی۔ بیگم ریحانہ اندرے شعبہ تعلیم کی ایک سرگرم خاتون ہیں، ممبئی یونیورسٹی اکیڈمک کونسل کی رکن ہونے کے ساتھ رائے گڑھ میں ان کا اپنا ذاتی سکول اور کالج بھی ہے۔ محترمہ پاٹل کی نامزدگی پر انہوں نے کہا کہ ’کانگریس پارٹی نے سونیا گاندھی کی قیادت میں اب تک جتنے فیصلے کیے گئے ان میں یہ سب سے اچھا فیصلہ ہے‘۔
اندرے کے مطابق ’انڈیا میں ایسے سیاستداں بہت ہی کم ہیں جن کا تصور صاف ستھرا ہو لیکن محترمہ پاٹل نے ایک صاف ستھرے امیج کے ساتھ اتنے طویل عرصہ سے سیاست کی ہے اور انہیں توقع ہے کہ ملک کے اتنے عظیم عہدے کے لیے ان جیسے امیدوار کو ہی کامیاب کیا جائے گا‘۔ سیف طیب جی گرلز ہائی سکول کی پرنسپل نجمہ قاضی موجودہ صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام کی زبردست پرستار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ پہلی مرتبہ کسی خاتون کو اس باعزت عہدے کے لیے نامزد کیا گیا ہے لیکن اگر مسٹر عبدالکلام کی مدت میں توسیع کی جاتی تو انہیں زیادہ خوشی ہوتی کیونکہ ان کی نظر میں وہ واحد ایسے صدر تھے جنہیں دیکھ کر ان کی عظمت کا احساس ہوتا تھا‘۔
مسز قاضی بہر حال خوش ہیں کہ ملک کے اتنے بڑے عہدے کے لیے آخر کسی نے تو ایک خاتون کو نامزد کیا۔ وہ خواہشمند ہیں کہ محترمہ پاٹل بھی عبدالکلام جیسی مثال قائم کریں۔ کالج طالبات سونیا گاندھی کے اس اقدام سے بہت خوش ہیں۔ جے ہند کالج میں بے اے سال اول کی طالبہ سکینہ ارشاد سید کے مطابق وہ پہلے ہی سونیا گاندھی جیسی با ہمت خاتون کو اپنی زندگی کا آئیڈیل مانتی ہیں اور اب ان کا یہ فیصلہ انہیں مزید خوشی دے رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’محترمہ پاٹل کی نامزدگی کے بعد اب سیاست میں آنے والی خواتین انہیں ایک مثال کے طور پر دیکھیں گی کیونکہ ہر کوئی کہتا ہے کہ آج سیاست کا ماحول گندہ ہو گیا ہے لیکن سونیا اور پاٹل جیسی خواتین بھی موجود ہیں جنہوں نے اسی ماحول میں رہ کر ایک نئی راہ بنائی ہے اور اسی لیے وہ چاہتی ہیں کہ محترمہ پاٹل صدر جمہوریہ بنیں اور ان کے نام کے ساتھ انڈین سیاست کی نئی تاریخ رقم ہو، اسی طرح جس طرح ملک کی پہلی وزیر اعظم کے طور پر اندراگاندھی تاریخ کا حصہ بنیں‘۔
وسیعہ داور خان بزنس ویمن ہیں وہ ایک بیوٹی پارلر چلاتی ہیں۔ ان کی نظروں میں یہ دور خواتین کا ہے۔ خود ان کے الفاظ میں ’مردوں کے بنائے سماج میں ان کی پیدا کردہ دشواریوں کے باوجود اگر کوئی خاتون محترمہ پاٹل کی طرح اپنا مقام بناتی ہے تو یہی بات ان کی کامیابی کی ضمانت کہلائے گی۔ مجھے خوشی ہے کہ ملک نے انہیں اپنا صدر بنانے کے لیے پہلا قدم اٹھایا گیا ہے۔ اس اقدام سے ملک کی خواتین کے حوصلے بلند ہوں گے اور مجھے یقین ہے کہ ان کے دور میں خواتین ترقی کریں گی‘۔ سید روبینہ حسین ایس این ڈی ٹی کالج میں سالِ دوم طالبہ ہیں ان کی زندگی کا آئیڈیل بھی سونیا گاندھی ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ ’میں محترمہ پاٹل کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتی لیکن اب جب انہیں صدر جمہوریہ کے لیے نامزد کیے جانے کی خبریں پڑھ کر ان کی زندگی کے بارے میں جانا تو لگا کہ ایسی ہی خواتین ہمارے لیے مشعل راہ ہو سکتی ہیں۔ مجھے بہت خوشی ہو گی اگر وہ صدر جمہوریہ کی کرسی پر براجمان ہوں اور ہوں گی کیونکہ سونیا گاندھی جو ان کے ساتھ ہیں‘۔
انگریزی کے ایک معروف اخبار ٹائمز آف انڈیا میں بزنس مینجر کے عہدے پر فائز روشنی زیدی کے خیال میں ’یہ اسی لیے ممکن ہو سکا کیونکہ سونیا گاندھی کانگریس کی چئرپرسن اور حکمراں ترقی پسند محاذ کی قیادت کر رہی ہیں ورنہ کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ صدر جمہوریہ کے عہدے کے لیے کسی بھی خاتون کے نام کا انتخاب کرتا۔ مجھے امید ہے کہ وہ ایک مثالی صدر بن کر تاریخ رقم کریں گی‘۔ | اسی بارے میں ہندوستان: صدارتی انتخاب کی تاریخ13 June, 2007 | انڈیا ’نئے صدر کے نام پر اتفاق ہوگیا‘12 June, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: صدر کون، بدلتا وقت اور مایاوتی03 June, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||