دلی ڈائری: صدر کون، بدلتا وقت اور مایاوتی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیا صدر کون ہندوستان میں نئے صدر کے انتخاب کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی موجودہ صدر اے پی جے عبدالکلام کو دوبارہ صدر بنانے کی خواہاں تھی لیکن کانگریس کی حمایت نہ ملنے کے بعد وہ نائب صدر بھیروں سنگھ شیخاوت کو صدر کے عہدے کے لیے نامزد کرنے کا سوچ رہی ہے۔ ادھر کانگریس نے بھی اپنی پوزیشن واضح نہیں کی ہے۔ کانگریس کی طرف سے جو نام سامنے آ رہے ہیں ان میں وزیر خارجہ پرنب مکھرجی کا نام سب سے اوپر ہے لیکن اطلاعات ہیں کہ وہ صدر بننے کے بہت مشتاق نہیں ہیں۔ ڈاکٹر کرن سنگھ اور سشیل کمار شندے کے نام بھی لیے جارہے ہیں۔
ابھی سات آٹھ برس پہلے کی بات ہے کہ ہندوستان کو بھی بیشتر ترقی پزیر ملکوں کی طرح غیر ملکی زر مبادلہ کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ قرضوں کی ادائیگی اور درآمدات کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن پچھلے چند برسوں میں حالات تیزی سے بدل گئے ہیں۔ آج ہندوستان میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر دو سو بلین ڈالر کے قریب ہیں۔ ملک کی برآمدات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ صرف اپریل میں دس ارب ڈالر کے سامان اور خدمات دوسرے ملکوں کو فروخت کیے گئے۔ اس برس برآمدات ڈیڑھ سو ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔ یہ ہڈیاں کس کی ہیں؟ گجرات کے جام نگر شہر میں لکھوٹیا جھیل سے گزشتہ دنوں انسانی ہڈیاں برآمد ہوئی ہیں۔ ان میں متعدد کھوپڑیاں، ہاتھ، پیر اور دیگر حصوں کی ہڈیاں شامل ہیں جن کی تعداد نوے کے قریب بتائی گئی ہے۔ پولیس نے تفتیش کے بعد بتایا کہ یہ ہڈیاں ان لاشوں کی ہیں جنہیں طبی تحقیق کے بعد جھیل میں پھینک دیا گیا۔ لیکن مقامی میڈیکل کالج نے اس کی تردید کی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ لاشیں کن لوگوں کی تھیں۔
دلی تعلیم کا ایک بڑا مرکز ہے۔ یہاں سکولوں سے لے کر یونیورسٹیز تک داخلہ ملنا خوش قسمتی سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کے سکولوں میں بچوں کی کارکردگی ملک گیر سطح پر بہت اچھی رہی ہے۔ گزشتہ دنوں دسویں اور بارہویں کے نتائج کا اعلان ہوا۔ ایک بار پھر دلی کے بچوں نے زبر دست کامیابی حاصل کی۔ لیکن اسی دلی کے اردو میڈیم سکولوں کی کارکردگی انتہائی بری رہی۔ دلی میں اردو میڈیم کے تقریباً بیس سکول ہیں اور یہاں بچوں کے پاس ہونے کا تناسب عموماً پچاس فیصد سے کم رہا ہے۔
گِدھوں کی نسل ختم ہورہی ہے گجرات میں گدھوں کی آبادی میں اضافے کے لیے کئی منصوبوں کے باوجود گدھوں کی تعداد تیزي سے کم ہو رہی ہے۔ پچھلے دنوں گجرات میں دو دن کی گدھ شماری کی گئی۔ سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہےکہ جونا گڈھ، بنس کانٹھا اور کچھ اضلاع میں گزشتہ برسوں میں گِدھوں کی تعداد آدھی سے بھی کم رہ گئی ہے اور کئی نسلیں تو معدوم بھی ہوگئی ہیں۔ مایاوتی کی مایا مسٹر سنگھ نے عدالت میں درخواست کی ہے کہ ان کی سکیورٹی واپس کی جائے لیکن مایاوتی کا کہنا ہےکہ مسٹر سنگھ کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور سکیورٹی صرف انہوں نے اپنی حیثیت بڑھانے کے لیے رکھی ہوئی تھی۔ |
اسی بارے میں دلی ڈائری:عدلیہ، بالی ووڈ اور عراق27 May, 2007 | انڈیا دلی: انتخابات میں کانگریس کی ہار07 April, 2007 | انڈیا دلی ڈائری:’ملا کی دوڑ اسمبلی تک‘15 April, 2007 | انڈیا انسانی سمگلنگ،ایڈز ٹسیٹ، مطمئن جنسی زندگی22 April, 2007 | انڈیا ٹریلین ڈالر معیشت، ان چاہی کالز پر روک29 April, 2007 | انڈیا لز اور نائر کی شادی، چاند کا مشن، افراط زر11 February, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||