BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 February, 2007, 08:14 GMT 13:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھماکوں کی ذمہ داری اور گودھرا کے ملزم

سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کے بعد
کسی نے بھی یہ نہیں سوچا کہ یہ کاروائی کہیں ہندو تنظیموں کی طرف سے تو نہیں کی گئی
سمجھوتہ کے قاتل
گزشتہ ہفتے سمجھوتہ ایکسپریس کے خونریز بم دھماکوں اور اس سے متعلق خبریں پورے ہفتے ہندوستان کے ذرائع ابلاغ میں چھائی رہیں۔ لاشوں کو جلے ڈبے سے نکالنے، زخمیوں کے علاج اور رشتے داروں کی خبروں کے بعد اس بات پر توجہ مرکوذ رہی کہ دھماکہ کس نے کیا۔

ہندوستان اور پاکستان کی جانب سے سرکاری طور پر اس سلسلے میں کسی طرح کی الزام تراشی اور قیاس آرائیوں سے گریز کیا گیا لیکن میڈیا میں دوسرے روز سے ہی قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں یہ شکوک ظاہر کیے گئے کہ ان دھماکوں میں ہندو انتہا پسند ملوث ہیں تو ہندوستان کے اخبارات اور ٹی وی چینلز ابتدا سے ہی اس میں لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی شدت پسند گروپوں کا نام لے رہے تھے۔ دلچسپ پہلوں یہ ہے کہ یہاں کسی بھی حلقے میں ایک لمحہ کے لیے اس طرح کا خیال نہیں آنے دیا گیا کہ ان دھماکوں میں ہندو تنظیم کا بھی ہاتھ ہو سکتا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان بڑے حیران ہیں۔

گودھرا کے قیدی
پچھلے دنوں سپریم کورٹ نے سال دو ہزار دو میں گودھرا میں ٹرین جلائے جانے کے واقعے میں انسداد دہشت گردی قانون’پوٹا‘ کے تحت قید ملزموں کو ضمانت کے لیے براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
گودھرا کے واقع میں شہر کے معزز افراد سمیت اسّی سے زیادہ لوگ تقریبا پانچ برس سے قید ہیں۔ مرکز کی ایک جائزہ کمیٹی نے یہ سفارش کی تھی کہ ان ملزموں سے پوٹا ہٹا لیا جائے کیوں کہ ان پر الزامات کی نوعیت مختلف ہیں۔ ابھی تک اس پر عمل نہیں ہوسکا تھا لیکن سپریم کورٹ کے تازہ ترین فیصلے سے گودھرا کے قیدیوں کی امیدیں بڑھی ہیں۔

گودھرا ٹرین واقعے کے بعد گجرات میں فرقہ وارنہ فسادات میں دوہزار مسلمان مارے گئے تھے

ان میں بیشتر قیدی انتہائی غریب ہیں اور ان کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہے کہ وہ دلی جا کر ضمانت کی درخواست دے سکیں۔

والدین کو نظر انداز مت کیجیے
بیٹے اور پوتے اگر اپنے والدین اور بزرگوں کا خیال نہیں رکھیں گے تو اب انہیں سزا ہو سکتی ہے۔
حکومت نےایک ایسا بل وضع کیا ہے جس کے تحت ایسے بیٹے اور پوتوں کو تین مہینے تک کی سزائے قید اور جرمانہ ہو سکتا ہے جو اپنے والدین اور داداو دادی کے لیے باوقار طریقے سے رہنے کا انتظام نہیں کرتے۔ والدین کو بے سہارا چھوڑنے کی صورت میں ماں باپ کی جائیداد پر بیٹے اور پوتوں کے حق کو ختم کرنے کی بھی تجویز ہے۔

ماں باپ اور داد، دادی کا خیال رکھنا اب لازمی بنا دیا گيا ہے

ہندوستان کی جدید مصروف ترین زندگی میں نئے سماجی مسائل پیدا ہوئے ہیں اور لوگ آگے جانے کی دھن میں اکثر اپنے ماں باپ کو بھی خود سے الگ کر دیتے ہیں۔ ایسے واقعات میں گزشتہ برسوں میں کافی اضافہ ہوا ہے جس میں والدین کو ان کے بچوں نے بے سہارا چھوڑ دیا ہے۔

سونے کی کان
ہندوستان سونا درآمداد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ ہر برس 470 ٹن سونا باہر سے خریدا جاتا ہے۔ حال ہی میں راجستھان میں باسواڑہ ضلعے میں ایک مقام پر سونے کی کا ن دریافت ہوئی ہے۔ اس کی دریافت اسٹریلیاکی ایک کمپنی نے کی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کان میں بڑی مقدار میں سونا موجود ہے اور ہر برس اس میں سے تقریبا آٹھ ٹن سونا نکالا جا سکےگا۔

بالی ووڈ سے بھی آگے
فلموں کی بات آتی ہے تو ہندوستان میں فورا نظر بالی ووڈ کی طرف جاتی ہے لیکن یہاں بالی ووڈ کے ساتھ ساتھ تمل، ملیائی، گجراتی، آسامی، بنگالی اور بھوجپوری میں بھی باقاعدہ مقامی فلم صنعت ہے۔2006 میں حیدرآباد میں بننے والی تیلگو فلموں نے ہندی فلموں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ پچھلے سال ہندی میں 223 فلمیں بنیں جبکہ تیلگو زبان میں بننے والی فلموں کی تعداد245 تھی۔فلم فیڈریشن آف انڈیا کے مطابق پچھلے سال ہندوستان میں مختلف زبانوں میں 1091 فلمیں بنائی گئیں۔

اسی بارے میں
افضل گورو کی رحم کی اپیل
21 January, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد