دھماکوں کی ذمہ داری اور گودھرا کے ملزم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سمجھوتہ کے قاتل گزشتہ ہفتے سمجھوتہ ایکسپریس کے خونریز بم دھماکوں اور اس سے متعلق خبریں پورے ہفتے ہندوستان کے ذرائع ابلاغ میں چھائی رہیں۔ لاشوں کو جلے ڈبے سے نکالنے، زخمیوں کے علاج اور رشتے داروں کی خبروں کے بعد اس بات پر توجہ مرکوذ رہی کہ دھماکہ کس نے کیا۔ ہندوستان اور پاکستان کی جانب سے سرکاری طور پر اس سلسلے میں کسی طرح کی الزام تراشی اور قیاس آرائیوں سے گریز کیا گیا لیکن میڈیا میں دوسرے روز سے ہی قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں یہ شکوک ظاہر کیے گئے کہ ان دھماکوں میں ہندو انتہا پسند ملوث ہیں تو ہندوستان کے اخبارات اور ٹی وی چینلز ابتدا سے ہی اس میں لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی شدت پسند گروپوں کا نام لے رہے تھے۔ دلچسپ پہلوں یہ ہے کہ یہاں کسی بھی حلقے میں ایک لمحہ کے لیے اس طرح کا خیال نہیں آنے دیا گیا کہ ان دھماکوں میں ہندو تنظیم کا بھی ہاتھ ہو سکتا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان بڑے حیران ہیں۔ گودھرا کے قیدی
ان میں بیشتر قیدی انتہائی غریب ہیں اور ان کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہے کہ وہ دلی جا کر ضمانت کی درخواست دے سکیں۔ والدین کو نظر انداز مت کیجیے
ہندوستان کی جدید مصروف ترین زندگی میں نئے سماجی مسائل پیدا ہوئے ہیں اور لوگ آگے جانے کی دھن میں اکثر اپنے ماں باپ کو بھی خود سے الگ کر دیتے ہیں۔ ایسے واقعات میں گزشتہ برسوں میں کافی اضافہ ہوا ہے جس میں والدین کو ان کے بچوں نے بے سہارا چھوڑ دیا ہے۔ سونے کی کان بالی ووڈ سے بھی آگے | اسی بارے میں گوا خطرے میں، دلی کے چور اور برہنگی فحاشی نہیں17 December, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: سیاست دانوں کو قرض سے انکار26 November, 2006 | انڈیا شادی ہال، میخانے اور کُتوں کا قبرستان10 December, 2006 | انڈیا افضل گورو کی رحم کی اپیل21 January, 2007 | انڈیا انگلش میڈیم کشمیر اور خوشبو دار ٹکٹ04 February, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: معیشت کا ایک رخ یہ بھی18 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||