گوا خطرے میں، دلی کے چور اور برہنگی فحاشی نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوا خطرے میں گوا کے ساحل تو بین الااقوامی سیاحوں میں مقبول ہیں ہی لیکن پچھلے کچھ برسوں سے یہ شہر نئے سال کی پارٹیوں کے لیئے دنیا کے بہترین سیاحتی مقامات میں شمار کیا جانے لگا ہے اور یہی وجہ ہے کہ نئے سال کے لیئےگوا کے سارے ہوٹل، ریستوران اورگیسٹ ہاؤسز چھ مہینے پہلے سے ہی بک ہیں۔ گذشتہ دنوں اسرائیل کے وزیراعظم کے دفتر سے ایک الرٹ جاری کیا گیا ہے کہ القاعدہ کے دہشتگرد گوا میں نئے سال پر بالی کی طرز کے حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ کے کارکن اس حملے کی کئی بار ریہرسل کر چکے ہیں۔اس تنبیہی پیغام میں اسرائیلی سیاحوں کوگوا سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ خطرے کی نوعیت بہت سنجیدہ ہے۔ بھارت نے اس طرح کے کسی اندیشے کو پوری طرح مسترد کر دیا ہے۔ گوا میں سیکورٹی الرٹ ہے اور سیاحوں پر گہری نظر رکھی جارہی ہے اور اس سلسلے میں پولیس کو ہوٹلوں سے بھی پورا تعاون مل رہا ہے۔ ہندوستان میں ذات پرستی
نسل پرستی دنیا کے آخری ملک جنوبی افریقہ سے بھلے ہی ختم ہوگئی ہو لیکن یہ ذات پرستی کی شکل میں ہندوستان میں اب بھی موجود ہے۔ پچھلے دنوں دلت برادری نے راجستھان اور اڑیسہ کے دو اہم مندروں میں داخل ہو کر دلتوں پر لگی پابندی کی علامتی خلاف ورزی کی ۔ ان مندروں میں دلت برادری کے لوگو ں کا داخلہ صدیوں سے ممنوع ہے۔ راجستھان کے مندر کو اب خصوصی پوجا اور مقدس پانی سے دھوکر دوبارہ ’پاک‘ کیا جا رہا ہے وہیں اڑیسہ کے مندر کا معاملہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔ بھونیشور کے ایک گاؤں میں واقع 300 برس پرانے اس مندر میں دلتوں کے داخلے کے بعدگزشتہ تین دنوں سے کوئی پوجا پاٹھ نہیں ہوئی ہے اور مندر کے پجاری روپوش ہیں۔ مندر میں دلتوں کے داخل ہونے کے خلاف اعلی ذات کے ایک ہزار سے زیادہ ہندو ہڑتال پر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک مندر دوبارہ’پاک‘ نہیں کیا جاتا وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے۔ نابالغوں کی شادی، پنڈتوں کو بھی سزا
ہندوستان کی راجیہ سبھا نے ایک ایسے بل کو منظوری دی ہے جس کے تحت 18 برس سے کم عمر یعنی نابالغ لڑکی کی شادی صرف غیر قانونی ہی نہیں ہوگی بلکہ ایسی شادی کرانے والے پنڈت کو بھی گرفتار کیا جائےگا۔ اس جرم کی سزا دو برس تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ طے کیا گیا ہے۔اس بل کے تحت جو لوک سبھا میں منظوری کے بعد قانون کی شکل اختیار کر لے گا ان لوگوں کو بھی سزا دی جائیگی جو اس طرح کی شادی کے وقت موجود ہونگے۔ اس مجوزہ قانون کے تحت نابالغ عمرمیں کسی لڑکی کی شادی ہو جانے پر اس لڑکی کو اپنی شادی ختم کرنے کا بھی اختیار ہوگا۔ برہنگی فحاشی نہیں
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے گزشتہ دنوں ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر عریاں تصویر فحش ہی ہو۔ فحاشی کا فیصلہ تصویر کی نوعیت اور معیار کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔ صرف برہنگی کی بنیاد پر کسی تصویر یا آرٹیکل کو قانونی طور پر فحش قرار نہیں دیا جا سکتا۔عدالت نے یہ درخواست بھی مسترد کر دی کہ اخباروں میں عریاں یا نیم عریاں تصویریں شائع کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ قارئین میں ایک ذمےدارانہ اور حساس چیزیں پڑھنے کا کلچر پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ دلی میں کار چوروں کی بلے بلے
دلی میں ہر برس نو ہزار سے زیادہ کاریں چوری ہورہی ہیں۔ یعنی ہر روز شہر سے پچھہتر کاریں غائب ہوتی ہیں۔ پارلیمنٹ میں جاری کیئے گئے اعداد و شمار کے مطابق صرف جنوبی دلی میں نومبر تک دو ہزار سے زیادہ کاریں چوری ہو چکی تھیں۔دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پولیس سو میں سے صرف تیئس کاریں ہی برآمد کر پاتی ہے ۔ باقی ستتر فیصد کاریں کہاں جاتی ہیں وہ صرف کار چور ہی جانتے ہیں۔نئی دلی ضلع میں جہاں وزراء اور اہم شخصیات کی رہائش گاہیں واقع ہیں وہاں چوری کی گئی کاروں کی برآمدگی محض دس فیصد ہے۔ دلی میں اگر آپ کی کار چوری ہو گئی ہو تو آپ یہ سمجھ لیجئے کہ یہ کار آپ کو کبھی واپس نہیں ملے گی ۔ پولیس جن کاروں کو برآمد بھی کر لیتی ہے اکثر وہ اس حالت میں ملتی ہیں کہ انہیں ’خالی ڈبہ‘ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ |
اسی بارے میں دلی ڈائری: سیاست دانوں کو قرض سے انکار26 November, 2006 | انڈیا عید کا چاند عدالت میں12 November, 2006 | انڈیا وقف کردہ زمینوں پر بڑے پراجیکٹ18 November, 2006 | انڈیا جے این یو کے انتخاب میں امریکی امیدوار05 November, 2006 | انڈیا پرامن عید،مادام تساؤ ممبئی میں29 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||