جے این یو کے انتخاب میں امریکی امیدوار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہر خطے سے بین الاقوامی پرواز ابھی کچھ برس قبل تک بین الاقوامی پروازوں کے لیے ملک کے بڑے شہروں کا یعنی میٹرو کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ دلی، ممبئی، کلکتہ، مدراس کے علاوہ صرف تین ایسے اور شہر تھے جہاں سے غیر ممالک کا سفر کیا جا سکتا تھا۔ لیکن ملک کی معیشت میں ترقی اور فضائی سفر کرنے والوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافے کے سبب اب میٹرو کے علاوہ کم ازکم دیگر پندرہ شہروں سے براہ راست بین الاقوامی فلائٹس پرواز کر رہی ہیں۔ اس وقت میٹرو شہروں کے علاوہ تروچی، گیا، لکھنؤ، گوہاٹی، جے پور ،امرتسر، کالی کٹ، پونے، گوا، احمدآباد، ناگپور، کوچین، تریوندرم اور کوئم بٹور سے براہ راست غیرممالک کا سفر کیا جا سکتا ہے۔ شہری ہوابازی کی وزارت کے مطابق آئندہ چند مہینوں میں کانپور، مدورائی اور مینگلور سے بھی بین الاقوامی پروازیں شروع ہو جائیں گی۔ ہندوستان مین 35 سے زیادہ ایسے شہر ہیں جن کی آبادی دس لاکھ سے زیادہ ہے۔ معیشت کی ترقی اور لوگوں کی آمدنی میں اضافے کے پیش نظر مستقبل میں ان تمام شہرون کو بین الاقوامی نقشے پرلانے کا پلان ہے۔ اندرونی پروازوں کے لیے تو متعدد نئے شہر پہلے ہی ہوائی اڈوں والے شہر بن چکے ہیں۔ اقوام متحدہ میں بھی بے ایمانی
ہندوستان نے انڈین ڈیفنس آڈ یٹنگ سروسز کے ایک اعلی اہلکار کو ڈ یپیوٹیشن پر اقوام متحدہ بھیجا۔ یہ افسر سامان وغیرہ کی خریداری کے محکمے کے انچارج بنائے گئے۔ گزشتہ دنوں انہیں رشوت دہی اور بدعنوانی کے الزام میں نیویارک میں گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ہندوستان مین اپنی جان پہچان کے کچھ لوگوں کو ٹھیکے دینے کے لیے بنیادی ضابطوں کی خلاف ورزی کی۔ ان ٹھیکون کی مالیت تقریبآ پانچ کروڑ ڈالر بتائی گئی ہے۔ اپنی جان پہچان کے لوگوں کو ٹھیکے دینے کے عوض انہیں ڈیلروں نے نیویارک کے ایک مہنگے علاقے میں مینہ طور پر رشوت کے طور پر بہت سستی قیمت پر ایک فلیٹ دیا تھا۔ اندرونی تفتیش کے بعد اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے گزشتہ دنوں اس افسر کی سفارتی مراعات اور درجہ واپس لے لیا۔ اس کے ساتھ ہی نیویارک کی پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔ ہندوستان میں ہوتے تو اب تک شاید انہیں ضمانت مل گئی ہوتی۔ نیو یارک میں تو شاید یہ مشکل ہو۔ ہندوستان کی حکومت کا اب کہنا ہے کہ اس افسر کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جے این یو کے انتخاب میں امریکی امیدوار
اس بار یونیورسٹی کے انتخاب میں ایک امریکی شہری بھی شامل ہیں۔ ٹیلر والکر ولیم یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلے غیرملکی ہیں جو یونین کے ’سنٹرل پینل‘ میں نائب صدر کے عہدے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔ ولیم ہندی ادب میں ایم فل کر رہے ہیں اور روانی کے ساتھ ہندی بولتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ جے این یو میں آل انڈیا اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن تنظیم سے وابستہ ہیں جو انتہائی بائیں بازو کے نظریات کی حامل ہے۔ ولیم کا کہنا ہے کہ جے این یو میں ’ملکی اور غیرملکی کا سوال نہیں اٹھتا، یہاں موضوعات اور خیالات کو اہمیت دی جاتی ہے۔‘ ولیم کا کہنا ہے کہ انہیں طلبہ سے زبردست حمایت مل رہی ہے۔ انتخابی مہم میں عراق اور افغانستان سے متعلق امریکی پالیسیاں اورفلسطینی علاقوں اور لبنا ن پرحالیہ اسرائیلی حملے جیسے معاملات اہم موضوع ہیں۔ آر ایس ایس کے اسکولوں پر ارجن کی مار تعلیم کی وزارت نے کہا ہے کہ قوم کو تعلیم کے ذریعے زہر گھولنے سے معاشرے کوہونے والے نقصانات سے خبردار ہونا چاہیئے۔ ارجن سنگھ پورے ملک میں اسکولوں میں یکساں نصاب کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک مختلف مذاہب اور مختلف خطوں کے لیے الک الگ تعلیمی نظام کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ پجھلے چند برسوں میں آر ایس ایس نے تعلیمی نظام کو زبردست چوٹ پہنچائی ہے۔ بی جے پی نے مسٹر سنگھ کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں شِشو مندر کے بجائے مدرسوں کی جدید کاری پر توجہ دینی چاہیئے۔ سچن تیندولکر کے برے د ن
اشتہارات کے لیے اسٹار کرکٹر سچن تیندولکر سب سے اوپر رہے ہیں۔ بڑی بڑی کمپنیوں کے لیے انہوں نے اشتہارات میں کام کیا ہے اور کرکٹ سے زیادہ اشتہارات سے دولت کمائی۔ لیکن پہلے تو خراب فارم پھر زخمی ہونے اور پھر کوئی خاص پرفارمنس نہ دینے کے بعد انہیں اشتہارات میں استعمال کرنے والی کمپنیوں کا اعتماد اب ڈگمگانے لگا ہے۔ سرکردہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ایئر ٹیل نے 2004 میں سچن تیندولکر کو اپنے برینڈ ایمبیسیڈر کے طور پر اخبارات کی اطلاع کے مطابق 180 کروڑ روپئے پر دستخط کیا تھا۔ کمپنی ہر برس سچن کو چار کروڑ روپئے ادا کر رہی تھی۔ اس معاہدے کی اب تجدید ہونی ہے لیکن کمپنی کہا ہے کہ اسے اب دلچسپی نہیں ہے۔ کافی عرصے سے کرکٹرز کی خراب کارکردگی کے سبب کمپنیاں اپنی مصنوعات کی پبلیسٹی کے لیے اب فلم اسٹارز کو ترجیح دینے لگی ہیں۔ خود کرکٹ بورڈ بھی اب پریشان ہے اور کرکٹرز کو دی جانے والی خطیر رقم کو ان کی کارکردگی سے مشروط کرنے کی سوچ رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||