BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 June, 2006, 06:06 GMT 11:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انکم ٹیکس کی پھرتی اور الزرقاوی انڈیا میں

محکمۂ انکم ٹیکس
محکمۂ انکم ٹیکس آج کل امراء کے اکاؤنٹس پر نظر رکھے ہوئے ہے
نظر لاگی راجہ تورے بنگلے پہ
بھارت میں آج کل سرکاری مشینری سیاسی رہنماؤں اور اثرورسوخ والی شخصیات کی املاک اور مال و دولت پر نظر رکھنے کے لیئے تیزی سے حرکت میں آئی ہیں۔ ایک طرف جہاں عدالت نے بعض افراد سے زیادہ دولت جمع کرنے کی تفصیلات پوچھی ہیں تو بعض کو محکمۂ انکم ٹیکس نے نوٹس جاری کیا ہے کہ اگر دولت جمع کی گئی ہے تو انکم ٹیکس گوشوارے میں اس کا ذکر کیا گیا ہے یا نہیں۔

ریزرو بینک آف انڈیا نے ایک قدم آگے بڑھ کر تمام بیرونی بینکوں کو یہ ہدایت دی ہے کہ وہ سیاسی رہنما، وزراء، ججوں، اعلٰی افسران اور سرکردہ شخصیات کے بینک اکاؤنٹس کی نگرانی کرتے رہیں کہ ان کے کھاتے میں پیسہ کہاں سے آتا ہے اور جاتا کہاں ہے۔

’نو یوئر کسٹمرز‘ یعنی اپنے گاہک کو جانیئے، کے قانون کے تحت ریزرو بینک نے یہ احکامات جاری کیئے ہیں۔ بینک نے کہا ہے کہ ایسی شخصیات کے اکاؤنٹس کی نگرانی روزانہ کی بنیاد پر ہونی چاہیئے اور اگر کوئی مشتبہ ٹرانزیکشن پائی جائے تو وزارتِ خزانہ کے ’فائنینشل انٹلیجنس یونٹ‘ کو اس کی اطلاع دی جائے۔ بینک نے کہا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے پیسوں پر خاص نظر رکھی جائے اور بغیر تفصیلات حاصل کیئے کوئی ٹرانزیکشن نہیں ہونی چاہیئے۔

ایڈز سے سب سے زیادہ اموات بھارت میں

گزشتہ برس انڈیا میں ایڈز سے چار لاکھ افراد ہلاک ہوئے
اقوام متحدہ کے ایڈز کے ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایڈز سے متاثرہ افراد کی سب سے زیادہ اموات بھارت میں ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں گزشتہ برس ایڈز سے چار لاکھ سے زیادہ اموات ہوئی تھیں جبکہ جنوبی افریقہ میں اس بیماری سےتقریبا سوا تین لاکھ لوگ ہلاک ہوئے۔ انڈین حکومت ان اعداد و شمار کو قبول کرنے میں تامل کر رہی ہے۔ وزیرصحت امبونی رامو داس نے اس رپورٹ کے متعلق کہا ہے کہ یو این کے ایڈز کے ادارے اکثر حکومت کی مدد سے سروے کرتے ہیں لیکن اس بار انہیں آگاہ نہیں کیا گیاتھا۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ پیش کرنے سے پہلے بھی حکومت سے کوئی صلح مشورہ نہیں کیاگیا ہے۔ بھارت میں ایڈز سے متعلق سرکاری ادارے ناکو کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے پہلے اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

لاہورمیں مندرکے انہدام کے خلاف بھارتی احتجاج

مندر کے انہدام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
دلی میں گزشتہ دنوں اقلیتی مورچہ نے پاکستان کے شہر لاہور میں قدیمی کرشنا مندر کو ڈھانے کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ ہندؤں اور مسلمانوں نے ایک مشترکہ احتجاجی جلوس نکالا اور مندر کے انہدام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پاکستانی ہائی کمیشن تک مارچ کیا۔ مظاہرین نے اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت نہ کرنے کے الزام میں پاکستان کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔اس سے قبل حزب اختلاف کے رہنما لال کرشن اڈوانی نے بھی اس انہدام کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے بھی ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ انہیں میڈیا کے حوالے سے اس طرح کی خبریں موصول ملی ہیں اوراس بارے میں حکومت نے متعلقہ پاکستانی حکام سے رابطہ کیا ہے۔

’ہمارا بجاج‘ پارلیمینٹ میں

راہل بجاج انڈیا کے مشہور صنعتکار ہیں
مشہور صنعت کار اور بجاج کمپنی کے مالک راہل بجاج مہاراشٹر سے راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوگئے ہیں۔ وہ راجیہ سبھا کی اس سیٹ پر منتخب ہوئے ہیں جو بھاریتہ جنتا پارٹی کے آنجہانی رہنما پرمود مہاجن کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔

سکوٹر، موٹر سائیکل اور آٹو رکشا بنانے والی بجاج کمپنی کے مالک راہل بجاج کے لیئے ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے یہ انتخاب جیتنا آسان نہیں تھا لیکن کانگریس کی اتحادی جماعت نیشنلسٹ کانگریس نے بھی جب ان کی حمایت کا اعلان کیا تو یہ کام ان کے لیئے آسان ہوگیا۔ اس انتحاب کے سبب این سی پی اور کانگریس اتحاد میں دراڑ بھی آ گئی ہے۔

زرقاوی لکھنؤ میں زندہ ہیں

ابو مصعب الزرقاوی کے نام سے بنوائے جانے والے سرٹیفیکیٹ کا عکس
گزشتہ دنوں القاعدہ کے رہنما ابومصعب الزرقاوی کو اگرچہ عراق میں ہلاک کر دیا گیا لیکن لکھنؤ میں تعلیم یافتہ بیروزگاروں کی فہرست کے حساب سے وہ زندہ ہیں۔ یہاں تک کہ حکومت نے بیروزگاروں کو جو الاؤنس دینے کا اعلان کیا ہے وہ اسے حاصل کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔

لکھنؤ میں ایک شخص نے الزرقاوی کے نام پر تحصیل سے یہ سرٹیفیکٹ حاصل کیا ہے کہ ابو مصعب الزرقاوی، اے 1 واٹر ورک روڈ کالونی لکھنؤ میں رہتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تحصیل افسران نے محض ایک ہزار روپے رشوت کے بدلے یہ سرٹیفیکٹ جاری کیا ہے۔

یوپی کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ روزگار الاؤنس حاصل کرنے کے لیئے لوگوں کو ڈگری کے ساتھ ساتھ رہائش کا سرٹیفیکٹ دینا ضروری ہے۔ پھر کیا تھا سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کے لیے دفتروں میں بھیڑ جمع ہونے لگی اور افسران کو رشوت لینے کا موقع مل گیا اور اب اس بد عنوانی کو اجاگر کرنے کے لیئے ایک شخص نے الزرقاوی کے نام پر سرٹیفکٹ بنوا کر خبر عام کی ہے۔

ہندوستانی لڑکیدلی ڈائری
پتھر کے لنگور، مون سون اور لڑکی ہونے کا فائدہ!
ہندوستانی لڑکیدلی ڈائری
ناخواندہ بچے، ہری بھری دلّی اور دلّی وہِیل
مونسوندلی ڈائری
ملا کی سیاست، اظہر کی تڑپ اور مونسون کی آمد
دلی ڈائری
انگریزی داں آٹو ڈرائیور، جسم فروشی قانونی
دلّی ڈائری بجلیدلّی ڈائری
اندھیر دلی،چوٹالہ راجہ اور شادی کا مسئلہ
دلی ڈائری
ممبئی اور بنگلور میں بھی میٹرو ریل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد