یونیورسٹی انتخاب پر عدالتی لگام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یونیورسٹی الیکشن پر عدالت کی لگام یونیورسٹیز میں طلباء کی یونینز سپریم کورٹ کے ایک نئے حکمنامے سے سکتے میں ہیں۔ عدالت نے طلباء یونین کے انتخابات کے لیے سابق الیکشن کمِشنر جے ایم لنگدوہ کی تجاویز کو تسلیم کرلیا ہے اور انہیں پورے ملک میں نافذ کرنے کے احکامات دیے ہیں۔ لنگدوہ کی سفارشات کے تحت ایک امیدوار انتخاب میں پانچ ہزار سے زیادہ روپے نہیں خرچ کرسکے گا اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے طلباء کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ امیدواروں کی کلاس میں پچہتر فیصد حاضری ضروری ہے اور شرط یہ ہے کہ وہ کبھی فیل نہ ہوئے ہوں۔ پوسٹر ہاتھ سے بنے ہوں اور انتخابی مہم کالج کیمپس سے باہر نہیں ہونی چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کے عمل دخل کو بھی پوری طرح روکنے کا حکم ہے۔ سپریم کورٹ نے ان تجاویز کو منظوری دیدی ہے لیکن وہ دوسرے فریقوں کے اعتراضات سننے کے لیے تیار ہے جسکے لیے چار ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے۔
سِیلنگ ڈرائیو یہ پورا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب سپریم کورٹ نے مفاد عامہ کی ایک عرضداشت پر سماعت کے بعد رہائشی علاقوں میں چل رہی تجارتی سرگرمیوں کو بند کرنے کا حکم دیا۔ جب دکانوں پر تالے لگنے شروع ہوئے تو تاجروں کے دباؤ میں حکومت نے ایک نیا نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا لیکن عدالت نے اسے کالعدم قرار دیدیاتھا۔ ایک روزہ ہڑتال میں بڑے پیمانے پر تشدد کے بعد حکومت نے سِیلنگ ڈرائیو روک دی ہے اور سپریم کورٹ سے نوٹیفیکشن پر از سر نوغور کرنے کے ساتھ ساتھ رحم کی بھی اپیل کی ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی پر خوب نکتہ چینی ہورہی ہے اور بعض جماعتیں اس پر سیاست بھی کر رہی ہیں۔ دلی واسیوں کی ناراضگی حکمراں کانگریس کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔ حکومت نے تو یہ بھی کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو اس کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے۔
پولیس کی تربیت اس پر حکومت نے بھی توجہ دی ہے اور پولیس کو اپنے رویے میں نرمی برتنے کی ہدایات دی ہیں۔ لیکن یہ نرمی عام آدمیوں کے ساتھ نہیں بلکہ سیاست دانوں اور اثر و رسوخ والے لوگوں کے ساتھ برتنے کو کہا ہے۔ وزیر داخلہ شیوراج پاٹل نے پولیس سے کہا ہے کہ پولیس سیاستدانوں کی بات کو غور سے سنے اور ان کے ساتھ ادب و احترام سے پیش آئیں۔ حکومت کی طرف سے یہ حکم اس شکایت کے بعد آیا ہے کہ پولیس افسران سیاستدانوں کے ساتھ ادب و احترام سے پیش نہیں آتے ہیں۔ لیکن پولیس اپنی عادتوں سے کیسے باز آسکتی ہے۔ دلی پولیس کے ایک نمائندے کا کہنا ہے: ’ہم جمہوریت میں رہتے ہیں اور سیاستداں بھی عام آدمی کی طرح ہی ہیں، تو پھر ہم انہیں زیادہ عزت کیوں دیں؟۔‘ کاش پولیس کو یہ بھی احساس ہوتا کہ جمہوریت میں انسانی اقدار کو کس قدر اہمیت دی گئی ہے اور اگر اسے یہ پتہ ہوتا تو اس کے رویے میں لچک خود بخود پیدا ہوجاتی۔ واؤ ملکہ شیراوت
ملکہ شیراوت نے آتے ہی اپنی بولڈ امیج کے سبب بالی وڈ میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ انکی بعض فلمیں کامیاب بھی ہوئی ہیں۔ حال ہی میں انکی نئی فلم ’پیار کے سائڈ افیکٹس‘ ریلیز ہوئی ہے۔ لیکن باکس آفس پر صرف سیکسی امیج زیادہ دیر تک اپنا جلوہ قائم نہیں رکھ سکتی، اس کے لیے بہتر اداکاری کی ضرورت ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے ملکہ کے جلوے پھیکے پڑتے دکھے ہیں۔ عام طور پر وہ کسی نہ کسی وجہ سے سرخیوں میں رہتی ہیں لیکن فی الوقت وہ ایک ایسے تنازعے میں گھری ہیں کہ جواب دیتے نہیں بن پارہا۔ ملکہ اپنی عمر پچیس برس بتاتی ہیں لیکن حال ہی میں جب سے یہ پتہ چلا ہے کہ انیس سو پچانوے میں وہ ایک ایئرہوسٹس تھیں اور دلی کے ایک پائلٹ کیپٹن گل سے شادی بھی کی تھی تب سے ان کی عمر پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ شادی کے سرٹیفکٹ کے مطابق ان کی عمر اسی وقت بیس برس سے زائد تھی تو اب انکی عمر کیا ہوگی۔ آج کل ملکہ اپنے ہر انٹرویو میں اسی بات کی صفائی دیتی پھرتی ہیں۔ امکان ہے کہ ملکہ کی ویب سائٹ سے ان کے مداحوں کی رسائی ان تک آسان ہوجائیگی۔ ملکہ اس سے نہ صرف اپنی امیج درست کرنا چاہتی ہیں بلکہ اپنی فلمیں بھی پروموٹ کرینگی۔اس ویب سائٹ پر ان کی ذاتی زندگی، ان کے فلم کریئر اور مستقبل کے منصوبوں کا لیکھا جوکھا دستیاب ہے۔ |
اسی بارے میں مصوری، شاہی شادی اور صدر بش کے کھانے 19 February, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ایک لاکھ روپے کی کتاب۔۔۔۔05 March, 2006 | انڈیا دلی میں ڈاکٹروں کی ہڑتال 25 May, 2006 | انڈیا منموہن سنگھ کی مقبولیت 28 May, 2006 | انڈیا پتھر کے لنگور، مون سون، لڑکی ہونے کا فائدہ!03 June, 2006 | انڈیا ناخواندہ بچے، ہری بھری دلّی اور وی آئی پی سکیورٹی11 June, 2006 | انڈیا وزیراعظم کے بھائی کو کیوں پکڑا گیا؟27 August, 2006 | انڈیا علماء کی چاندی اور بالی وڈ کی کامیابی 03 September, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||