BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 September, 2006, 06:05 GMT 11:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یونیورسٹی انتخاب پر عدالتی لگام

کولکتہ یونیورسٹی کے طالب علم
یونیورسٹی الیکشن پر عدالت کی لگام
یونیورسٹیز میں طلباء کی یونینز سپریم کورٹ کے ایک نئے حکمنامے سے سکتے میں ہیں۔ عدالت نے طلباء یونین کے انتخابات کے لیے سابق الیکشن کمِشنر جے ایم لنگدوہ کی تجاویز کو تسلیم کرلیا ہے اور انہیں پورے ملک میں نافذ کرنے کے احکامات دیے ہیں۔

لنگدوہ کی سفارشات کے تحت ایک امیدوار انتخاب میں پانچ ہزار سے زیادہ روپے نہیں خرچ کرسکے گا اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے طلباء کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ امیدواروں کی کلاس میں پچہتر فیصد حاضری ضروری ہے اور شرط یہ ہے کہ وہ کبھی فیل نہ ہوئے ہوں۔ پوسٹر ہاتھ سے بنے ہوں اور انتخابی مہم کالج کیمپس سے باہر نہیں ہونی چاہیے۔

سیاسی جماعتوں کے عمل دخل کو بھی پوری طرح روکنے کا حکم ہے۔ سپریم کورٹ نے ان تجاویز کو منظوری دیدی ہے لیکن وہ دوسرے فریقوں کے اعتراضات سننے کے لیے تیار ہے جسکے لیے چار ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے۔

یونیورسٹی الیکشن، عدالت کا حکم
 سفارشات کے تحت ایک امیدوار انتخاب میں پانچ ہزار سے زیادہ روپۓ نہیں خرچ کرسکے گا اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے طلباء کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ امیدواروں کی کلاس میں پچہتر فیصد حاضری ضروری ہے اور شرط یہ ہے کہ وہ کبھی فیل نہ ہوئے ہوں۔ پوسٹر ہاتھ سے بنے ہوں اور انتخابی مہم کالج کیمپس سے باہر نہیں ہونی چاہیے۔
ملک کی بیشتر یونیورسٹیز میں طلباء کے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کا عمل دخل رہتا ہے اور گزشتہ چند برسوں میں دیکھا گیا ہے کہ ان انتخابات میں کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ بہت سے امیدوار مجرمانہ ریکارڈ کے ہوتے ہیں۔ گزشتہ دنوں اجین یونیورسٹی کے طلباء یونین کے ایک ہنگامے میں ایک پروفیسر کی موت ہوگئی تھی۔ عدالت نے اس کا بھی سخت نوٹس لیا ہے۔

سِیلنگ ڈرائیو
دلی اس ہفتے ہنگاموں سے پر تھی۔ رہائشی علاقوں میں تجارتی مراکز کو بند کرنے کے خلاف جو مہم چلی اس کے خلاف پولیس، میونسپل کارپوریشن کے ملازمین اور تاجروں کے درمیان ہنگامہ آرائی ہوتی رہی۔ پھر تاجروں کی پر تشدد ہڑتال سے تو جیسے دلی ہل گئی، احتجاج کے دوران چار لوگ پولیس کی گولی سے ہلاک ہوئے اور پولیس اہلکاروں سمیت سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ پورا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب سپریم کورٹ نے مفاد عامہ کی ایک عرضداشت پر سماعت کے بعد رہائشی علاقوں میں چل رہی تجارتی سرگرمیوں کو بند کرنے کا حکم دیا۔ جب دکانوں پر تالے لگنے شروع ہوئے تو تاجروں کے دباؤ میں حکومت نے ایک نیا نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا لیکن عدالت نے اسے کالعدم قرار دیدیاتھا۔

ایک روزہ ہڑتال میں بڑے پیمانے پر تشدد کے بعد حکومت نے سِیلنگ ڈرائیو روک دی ہے اور سپریم کورٹ سے نوٹیفیکشن پر از سر نوغور کرنے کے ساتھ ساتھ رحم کی بھی اپیل کی ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی پر خوب نکتہ چینی ہورہی ہے اور بعض جماعتیں اس پر سیاست بھی کر رہی ہیں۔ دلی واسیوں کی ناراضگی حکمراں کانگریس کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔ حکومت نے تو یہ بھی کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو اس کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے۔

پولیس کے کردار پر پھر سوال
عوام میں اس بات پر زبردست غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ سِیلنگ ڈرائیو کے خلاف ہڑتال کے دوران جن دو معصوم اسکولی بچوں کوگولی ماری گئی ہے ان سے پولیس کی کیا دشمنی تھی۔ پولیس فائرنگ میں رکشا چلانے والا ایک شخص بھی ہلاک ہوا ہے۔

پولیس کی تربیت
ملک میں پولیس کی لاٹھیوں سے عام لوگوں کی پٹائی ایک عام بات ہے۔ پولیس کی بے رحمی سے کون ناوقف ہوگا۔ ہر روز کسی نہ کسی کونےسے پولیس کی لاٹھیوں کی خبر سرخیوں میں رہتی ہے۔ ایسے میں کئی بار یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ حکومت پولیس کی تربیت کا انتظام کرے تاکہ ان کے رویے میں تھوڑی نرمی آئے۔

اس پر حکومت نے بھی توجہ دی ہے اور پولیس کو اپنے رویے میں نرمی برتنے کی ہدایات دی ہیں۔ لیکن یہ نرمی عام آدمیوں کے ساتھ نہیں بلکہ سیاست دانوں اور اثر و رسوخ والے لوگوں کے ساتھ برتنے کو کہا ہے۔

وزیر داخلہ شیوراج پاٹل نے پولیس سے کہا ہے کہ پولیس سیاستدانوں کی بات کو غور سے سنے اور ان کے ساتھ ادب و احترام سے پیش آئیں۔ حکومت کی طرف سے یہ حکم اس شکایت کے بعد آیا ہے کہ پولیس افسران سیاستدانوں کے ساتھ ادب و احترام سے پیش نہیں آتے ہیں۔

لیکن پولیس اپنی عادتوں سے کیسے باز آسکتی ہے۔ دلی پولیس کے ایک نمائندے کا کہنا ہے: ’ہم جمہوریت میں رہتے ہیں اور سیاستداں بھی عام آدمی کی طرح ہی ہیں، تو پھر ہم انہیں زیادہ عزت کیوں دیں؟۔‘ کاش پولیس کو یہ بھی احساس ہوتا کہ جمہوریت میں انسانی اقدار کو کس قدر اہمیت دی گئی ہے اور اگر اسے یہ پتہ ہوتا تو اس کے رویے میں لچک خود بخود پیدا ہوجاتی۔

واؤ ملکہ شیراوت

اداکارہ ملکہ شیراوت
بالی وڈ کی مشہور اداکارہ ملکہ شیراوت نےاپنے مداحوں سے رابطہ قائم کرنے لیے اپنی ایک ویب سائٹ لانچ کی ہے۔ اس ویب سائٹ کا نام ہے ملکہ شیراوت واؤ ڈاٹ کام۔ اس ویب سائٹ پر ان کی طرح طرح کے تصویریں دیکھی جاسکتی ہیں اور اگر کوئی انہیں کچھ پیغام دینا چاہے تو وہ بھی لکھ سکتا ہے۔

ملکہ شیراوت نے آتے ہی اپنی بولڈ امیج کے سبب بالی وڈ میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ انکی بعض فلمیں کامیاب بھی ہوئی ہیں۔ حال ہی میں انکی نئی فلم ’پیار کے سائڈ افیکٹس‘ ریلیز ہوئی ہے۔ لیکن باکس آفس پر صرف سیکسی امیج زیادہ دیر تک اپنا جلوہ قائم نہیں رکھ سکتی، اس کے لیے بہتر اداکاری کی ضرورت ہے۔

گزشتہ کچھ دنوں سے ملکہ کے جلوے پھیکے پڑتے دکھے ہیں۔ عام طور پر وہ کسی نہ کسی وجہ سے سرخیوں میں رہتی ہیں لیکن فی الوقت وہ ایک ایسے تنازعے میں گھری ہیں کہ جواب دیتے نہیں بن پارہا۔ ملکہ اپنی عمر پچیس برس بتاتی ہیں لیکن حال ہی میں جب سے یہ پتہ چلا ہے کہ انیس سو پچانوے میں وہ ایک ایئرہوسٹس تھیں اور دلی کے ایک پائلٹ کیپٹن گل سے شادی بھی کی تھی تب سے ان کی عمر پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ شادی کے سرٹیفکٹ کے مطابق ان کی عمر اسی وقت بیس برس سے زائد تھی تو اب انکی عمر کیا ہوگی۔ آج کل ملکہ اپنے ہر انٹرویو میں اسی بات کی صفائی دیتی پھرتی ہیں۔

امکان ہے کہ ملکہ کی ویب سائٹ سے ان کے مداحوں کی رسائی ان تک آسان ہوجائیگی۔ ملکہ اس سے نہ صرف اپنی امیج درست کرنا چاہتی ہیں بلکہ اپنی فلمیں بھی پروموٹ کرینگی۔اس ویب سائٹ پر ان کی ذاتی زندگی، ان کے فلم کریئر اور مستقبل کے منصوبوں کا لیکھا جوکھا دستیاب ہے۔

دِلی ڈائری
انڈین سیاحت اور خفیہ رازوں کی چوری
دِلی ڈائری
جوہری تنصیبات، سیاحت اور خودکشیاں
دلی ڈائری
تاج محل، بابری مسجد اور طاقتور خواتین
 ونیشادلی ڈائری
وزیراعظم کے بھائی کو کیوں پکڑا گیا؟
دلی ڈائری
مشکل سفر،سست دفاعی تحقیق، شاہ رخ کا ٹیکس
بھکاریدلی ڈائری
نارائنن کا خط اور بھکاریوں کی چھٹی
 دہشت گرددلی ڈائری
دہشتگردی کی قیمت اور فیصلے کی گھڑی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد