جوہری تنصیبات، سیاحت اور خودکشیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوہری حملے سے دفاع کی تیاری ملک کے خفیہ ادارے پچھلے کچھ مہینوں سے جوہری تنصیبات پر دہشت گردوں کے حملے کے ممکنہ منصوبے کے بارے میں حکومت کو آگاہ کرتے رہے ہیں۔ کسی ممکنہ حملے کو روکنے کے لیئے جوہری پلانٹوں پرنہ صرف پہرے بڑھا دیئے گئے ہیں بلکہ بعض اہم تنصیبات کو کمانڈوز کی نگرانی میں دے دیا گیا ہے۔ دہشت گردی کےبڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظرجوہری حملے کے اندیشے کو بہت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ ہندوستان پر جوہری حملے، دہشت گردوں کے حملے یا کسی جوہری حادثے کا سامنا کرنے کے لیئے اٹھارہ مراکز قائم کیئے گئے ہیں۔ انہیں ’ریڈیئیشن ریسپانس سینٹر‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ان مراکز پر ریڈیائی تابکاری کا اندازہ اور تجزیہ کرنے والے جدید ترین آلات لگائے گئے ہیں اور یہاں تربیت یافتہ سائنس داں اور ہنگامی حالات کے ماہرین ہر وقت تعینات ہوں گے۔ گزشتہ دنوں اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین نے بنگلور میں اس طرح کے پہلے سینٹر کا افتتاح کیا۔ ملک میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیئے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے اور آئندہ برسوں میں متعدد جوہری بجلی گھر کی تعمیر کے منصوبے ہیں۔ ماہرین ایک عرصے سے کہہ رہے تھے ہندوستان میں کسی جوہری سے حادثے سے نمٹنے کی کوئی تیاری نہیں کی گئی ہے۔ایٹمی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان اٹھارہ ہنگامی مراکز کے قیام کے بعد ملک اب کسی جوہری ناگہانی سے نمٹنے کا اہل ہوگیا ہے۔
آر ایس ایس کا بول بالا ہندوستان میں ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس پر کسی طرح کی پابندی عائد نہیں ہے۔ وہ دیگر تنظیموں کی طرح اپنے نظریات کی تبلیغ کرتی رہی ہے۔ اس کے لیئے اس نے ایک انوکھا طریقہ اختیار کر رکھا ہے جسے ’شاکھا‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ شاکھائیں عموماًصبح سورج نکلنے سے پہلے پارکوں یا سکولوں میں لگائی جاتی ہے۔ ان شاکھاؤں مین تنظیم کے ارکان آر ایس ایس کی یونیفارم، پہن کر حصہ لیتے ہیں۔ اس میں ورزش اور نظریاتی تبلیغ کے ساتھ ساتھ لاٹھی چـلانا اور اپنے دفاع کے گر بھی سکھائے جاتے ہیں۔ انتظامیہ کے غیرجانب دار رہنے کے تصور کے تحت سرکاری ملازمین پر سیاسی یا نظریاتی تنظیموں کی سرگرمیوں میں فعال حصہ لینے پر روک ہے۔ لیکن گزشتہ دنوں مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت نے ایک باقاعدہ حکم کے ذریعے اپنے ملازمین کو آر ایس ایس کی سرگرمیوں میں شرکت کی اجازت دے دی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس ایک ’سماجی وثقافتی‘ تنظیم ہے اس لیئے ملازمین اس کے پروگراموں میں شریک ہوسکتے ہیں۔ کانگریس کی حکومت نے 1981 میں آر ایس ایس کی شاکھاؤں میں شرکت پر روک لگائی تھی۔ لیکن عملی طور پر اس کا کبھی نفاذ نہیں ہوا۔ اب حزب اختلاف میں ہونے کے بعد پارٹی نے ریاست کے سرکاری ملازمین کو متنبہ کیا ہے کہ وہ شاکھاؤں میں شرکت سے گریز کریں۔ پارٹی نے کہا ہے کہ وہ یہ نہ بھولیں کہ آج بھلے ہی کانگریس حزب اختلاف میں ہے لیکن کل وہ پھر اقتدار میں آئے گی اور اس صورت میں ایسے سبھی ملازمین کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ لیکن ملازمین کو یہ پتہ ہے کہ جب ماضی میں کبھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو اب کیا ہوگی۔
امریکہ کے سفیر ڈیوڈ سی ملفورڈ نے گزشتہ بدھ کو ہند امریکہ چیمبر آف کامرس کی ایک میٹنg سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہندوستان میں نجکاری کا عمل رک گیا ہے اور سیاسی حقیقت یہ ہے کلیدی شعبوں اور پالیسیوں میں اصلاح کے عمل میں اس سے زیادہ وقت لگے گا جتنا پہلے سوچا گیا تھا‘۔ حکومت کی طرف سے تو اس کا یہ کہہ کر جواب دے دیا گیا کہ ’اصلاح ایک مسلسل عمل ہے۔ لیکن ملک کے کمیونسٹ اچھل پڑے۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما پرکاش کرت نے کہا ’ہمارے ملک میں ہماری ایک پارلیمینٹ اور ایک حکومت ہے اور باہر سے کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ کوئی ہماری پالیسیوں کی سمت اور اس کے نفاذ کا تعین کرے‘۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکی سفیر کے بیانات سے تنازعہ پیدا ہوا ہے۔ اس سے قبل جنوری میں ان کے اس بیان پر شدید ردعمل ہوا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کا کہ اگر ہندوستان نے ایران کے جوہری پروگرام کی مخالفت نہیں کی تو ہند امریکہ جوہری معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔ ان کے اس بیان سے کمیونسٹ اتنے برہم ہوئے تھے کہ وہ مسٹر ملفورڈ کو ناپسندیدہ شخص قرار دے کر انہیں واپس امریکہ تک بھیجنے کا مطالبہ تک کر بیٹھے تھے۔ بنگلور- خودکشوں کی جنت بنگلور کو ہندوستان کا آئی ٹی دارالحکومت کہا جاتا ہے۔ لیکن اب یہ تیزی سے ’خودکشی کی راجدھانی‘ بنتا جا رہا ہے۔ یہاں اوسط ہر روز تین سے زیادہ لوگ خودکشی کرتے ہیں۔ نیمہینس کے شعبہ جرائم کے سربراہ پروفیسر گرو راج نے بنگلور میں خود کشی کے بڑھتے ہو ئے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ہر برس 1200 افراد خودکشی کر رہے ہیں۔
پروفیسر گروراج کا کہنا ہے کہ ’انسان اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں مختلف بحرانوں سے گزرتا ہے۔ اور بعض انسان یہ سوچنے لگتے ہیں کہ زندگی بے معنی ہو چکی ہے اور وہ خود کشی کر لیتے ہیں‘۔ خود کشی کی تعداد کے لحاظ سے ریاست کرناٹک، کیرالہ اورمہاراشٹر کے بعد تیسرے نمبر پر ہے لیکن بنگلور شہر میں خودکشی کے واقعات میں متواتر اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خود کشی کے واقعات شدید اعصابی تناؤ کے نتیجے میں ہوتے ہیں۔ یہ تناؤ اونچی امیدیں وابستہ کرنے اور کڑی مسابقت کے خطرے ، آسانی سے قرض ملنے، کم عمر میں بڑی بڑی تنخواہیں ملنے اور آسائش کے ہر سامان کی دستیابی اور نئی نسل کی امیدوں کے بڑھنے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی میں بھی ناکامی یا دھوکہ بعض لوگوں کے لیئے ناقابل برداشت بن جاتا ہے اور جو اکثر خود کشی کے رحجان میں بدل جاتا ہے۔ بنگلور کے حالات کو دیکھتے ہوئے گزشتہ دنوں ’زندگی جینے کے لیئے ہے ‘کے موضوع پر خودکشی کے خلاف مہم شروع کی گئی ہے۔ یہ خرچیلے ہندوستانی غیر ممالک کی سیاحت پر جانے والے ہندوستانیوں کی تعداد اب ستر لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور اس میں ہر برس مزید دس لاکھ کا اضافہ ہو رہا ہے۔ سیاحت کے لیے مشہور ممالک اب ہندوستان میں اپنے اپنے سیاحتی بورڈ قائم کر رہے ہیں۔
جمیکا سے لے کر ترکی اور سپین سے لے کر جرمنی اور فرانس تک دسیوں ممالک ہندوستانی سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیئے دلی اور دوسرے بڑے شہروں میں دفاتر کھول رہے ہیں۔ جس تیزی سے غیر ممالک جانے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اس کی بنیاد پر ورلڈ ٹورزم آرگنائزیشن نے تخمینہ لگایا ہے کہ آئندہ چھ برس میں ہندوستانی سیاحوں کی تعداد تین کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ لیکن بیرونی ممالک کی سیاحت میں دلچسپی کی ایک وجہ سے بھی ہے کہ ہندوستانی سیاح دوسرے سیاحوں کے مقابلے میں خریداری پر خوب خرچ کرتے ہیں۔ زیادہ خرچ کرنے کے سبب ہندوستانی دنیا کے سیاحتی شہروں میں کافی مقبول ہو رہے ہیں۔ ہندوستان میں آمدنی میں اضافے اور معیشت کی ترقی کا ایک اندازہ اس بات سے بھی لگتا ہے کہ لاکھوں سیاحوں کے ملک سے باہر جانے کے علاوہ کروڑوں ہندوستانی ملک کے طول و ارض میں سیاحت کے لیئے جاتے ہیں۔ سیاحت بہت تیزی سے ملازمت اور معیشت کا ایک اہم شعبہ بنتی جا رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||