علماء کی چاندی اور بالی وڈ کی کامیابی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وندے ماترم اور علماء کی چاندی ہندوستان میں شادی اور طلاق جیسے بعض معاملات کو چھوڑ کر علماء ایک طویل عرصے سے کسی نزاعی معاملے میں نہیں پڑے لیکن حال میں وزیر تعلیم ارجن سنگھ کی طرف سے وندے ماترم گائےجانے کے ایک حکم سے بقول شخصے علماء کی چاندی ہوگئی۔ کئی طرح کے علماء اس قومی گیت کےگانے کے خلاف فتوی دینے کے لیئے تیار بیھٹے ہیں۔ فضا بالکل گرم ہے اور شاید ماحول کے پیش نظر ہی مسلمانوں کے ایک ادارے دارالعلوم دیوبند نے یہ فتوی جاری کر دیا کہ زندگی کا بیمہ کرانا اور بینکوں میں لین دین اسلامی رو سے حرام ہے ۔ علماء تو فتوی دے کر بیٹھ گئے ہیں لیکن اس سے ملک کے ان لاکھوں مسلمانوں کے لیئے پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں جو دنیا کے دوسرے انسانوں کی طرح بیمہ اور بینک جیسی بنیادی سہولیات سے استفادہ کر رہے ہیں۔ جوہری شعبے کی بھی نج کاری ہندوستان نے ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیئے ملک میں جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کا کام اب نجی کمپنیوں کے ہاتھوں میں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہندوستان میں اس وقت 6800 میگاواٹ بجلی کی کمی ہے۔ امریکہ سے جوہری معاہدے کے بعد ہندوستان سنہ دو ہزار پچاس تک ملک کی 25 فی صد بجلی ایٹمی بجلی گھروں سے پورا کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
ملک میں مجموعی طور پر 124302 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے اور اس میں صرف 3360میگاواٹ ایٹیمی بجلی گھروں سے آتی ہے۔ آئندہ پانچ برسوں ميں نیو کلیر پلانٹوں سے 3000میگا واٹ اضافی بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ ہے۔ نج کاری کے فیصلے کے بعد جی ای، بیکٹیل، ہنی وال، امریکن ایلیکٹرک پاور۔ ٹینیس سی ویلی اتھارٹی اور ویسٹنگ ہاؤس جیسی غیرملکی کمپنیاں ہندوستان کے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ بالی ووڈ۔ کامیابی کا نیا راز فلم انڈسٹری کے لیئے یہ برس بڑا کامیاب ثابت ہوا ہے۔ رنگ دے بسنتی، کبھی الوداع نہ کہنا، کرش، فنا، گینگسٹر، ہیرا پھیری اور گول مال جیسی فلمیں باکس آفس پر سپر ہٹ ثابت ہوئی ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب فلموں کی کامیابی کا اندازہ ان کے سلور جوبلی ہونے سے لگایاجاتا تھا۔ اب فلموں کی کامیابی پہلے ہفتے میں ہی پتہ چل جاتی ہے۔
ملک میں 11500 سنگل سکرین والے فلم ہال ہیں جبکہ اس کے مقابلے صرف 300ملٹی پلیکسیز ہیں لیکن تیس فی صد آمدنی انہیں ملٹی پلیکسیز سے ہوتی ہے۔ آج کے دور میں فلم کی چالیس فی صد آمدنی ٹی وی، آن لائن اور ڈیجیٹل ڈاؤن لوڈنگ سے ہوتی ہے۔ فلم کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ اب امریکہ، برطانیہ اور دیگر ملکوں سے آ رہا ہے اور اب ایک فلم کی کامیابی میں پرڈیوسروں اور ڈائریکٹروں کو کبھی کبھی اربوں روپے کا فائدہ ہوتا ہے۔ رام مندر کی واپسی اتر پردیش میں چند مہینوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور بی جے پی ایک بار پھر ایودھیا کے رام مندر کی طرف لوٹنے کا اشارہ کررہی ہے۔
ہندوؤں کے ایک اعلیٰ مذہبی رہنما شنکر آچاریہ سوامی سوروپ آنند رام مندر کی تعمیر کے مطالبے کو یاد دلانے کے لیئے دو دسمبر کوایودھیا کے منہدم بابری مسجد کے متنازعہ مقام پر واقع عارضی رام مندر کا طواف کریں گے۔ ایل کے اڈوانی نے اعلان کیا ہے کہ اس موقع پر وہ بھی وہاں موجود ہوں گے۔ انہوں نے شنکر آچاریہ کے اعلان سے قبل ان سے بات چیت کی ہے۔ باور کیاجاتا ہے آگرہ کو عالمی ورثے کی حیثیت نہیں آگرہ کے مشہور زمانہ تاج محل، آگرہ کے قلعہ اور فتح پوری سیکری بھلے ہی ’عالمی ورثے‘ کی فہرست میں شامل ہوں لیکن آگرہ شہر عالمی ورثے کی حیثیت پانے کا اہل نہیں ہے۔ ہندوستان کی حکومت نے عالمی ورثہ کمپنی سے روم اور وینس کی طرح آگرہ کو بھی عالمی ورثہ کی حیثیت دینے کی سفارش کی تھی لیکن گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے ایک معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ آگرہ میں جس بے ہنگم اور غیر منصوبہ بند طریقے سے تعمیرات کی گئی ہیں اس سے شہر کی اصلی حالت باقی نہیں بچی ہے اس لیئے یہ سفارش ہی غلط ہے۔ آگرہ کو سب سے پہلے سکندر لودھی نے اپنا دارالسلطنت بنایا۔ بعد میں مغل شہنشاہ اکبر نے یہاں سے حکومت کی اور مشہور آگرہ فورٹ اور فتح پوری سیکری تعمیر کرایا۔
ہندوستان کی معشیت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ہندوستان عالمی سطح پر ترقی پسند ملک بننے کا طلبگار ہے۔ ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اس کے باشندے بھی عالمی سطح پر نام کما رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک عالمی میگزین فور بز نے دنیا کی 100 طاقتور عورتوں کی ایک فہرست شائع کی ہے جن میں سے پانچ خواتین ہندوستانی نژاد ہیں۔ اس فہرست کے مطابق جرمنی کی چانسلر انجیلا مریکل سب سے طاقتور عورت ہیں۔ ہندوستانی نژاد پیپسی کو چیف ايگزیکٹو اندرا نوئی تیسرے نمبر پر ہیں جبکہ یو پی اے کی چئرپر سن سونیا گاندھی تیرہویں نمبر پر ہیں۔ اس کے علاوہ آئی سی آئی سی آئی بینک کی للیتا گپتا اور کلپنا مورپریا 93 ویں نمبر پر ہیں اور جمبو گروپ کی صدر ودھیا چھابڑیا 95 ویں نمبر پر ہیں۔ |
اسی بارے میں دلی: ’اردو اور نیو میڈیا‘ سیمینار01 February, 2006 | انڈیا دلی میں گول میز مذاکرات شروع25 February, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ایک لاکھ روپے کی کتاب۔۔۔۔05 March, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: قونصل خانے میں تاخیر12 March, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ممبئی اور بنگلور میں بھی میٹرو09 April, 2006 | انڈیا دلی: جامع مسجد میں دھماکے14 April, 2006 | انڈیا اندھیر دلی،چوٹالہ راجہ اور انٹر نیٹ07 May, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: کشمیر میں جسم فروشی قانونی 14 May, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||