وزیراعظم کے بھائی کو کیوں پکڑا گیا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعظم کی سادگی گزشتہ دنوں وزیراعظم کی رہائش گاہ پر اسپیشل پروٹیکشن گروپ کے کمانڈوز نے ایک بزرگ سکھ وزیٹر کوحراست میں لے لیا۔ یہ بزرگ ایک آٹو رکشا کے ذریعے ہاتھوں میں بیگ لیئے ہوئے وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر پہنچـے تھے اور خود کو وزیراعظم کا بھائی بتا رہے تھے۔ حیران و پریشان کمانڈو پنـجاب میں سیکیورٹی فورسز سے ان کی تفصیلات حاصل کرنے کی کو شش کر رہی تھیں۔ اس دوران وزیراعظم کے مشیروں کو بھی خبر دی گئی کہ ایک شخص کو حراست لیا گیا ہے اور وہ خود کو وزیراعظم کا بھائی بتا رہا ہے۔ وزیراعظم منموہن سنگھ سے جب اس کا ذکر کیا گیاتو پتہ چلا کہ وہ واقعی ان کے بھائی تھے۔ دراصل مسٹر سنگھ نے انہیں لینے کے لیئے ریلوے اشٹیشن کار بھیجنی تھی لیکن وہ بھول گئے اور رہائش گاہ کے استقبالیہ کو بھی اس کی کوئی خبرنہیں دی۔ صدی کی سب سے شاہانہ شادی پچھلے دنوں عالمی میگزین ’فوربس‘ نے اس صدی کی سب سے شاہانہ شادیوں کی فہرست پیش کی۔ اس میں ہندوستانی نژاد سٹیل کے بادشاہ لکشمی متل کی بیٹی کی شادی سب سے اوپر تھی۔ متل نے اپنی بیٹی ونیشا کی شادی کی میزبانی میں امریکہ، فرانس اور روس کے تین ارب پتیون کو بھی مات دے دی۔
میگزین کے مطابق متل نے 2004 میں ونیشا کی شادی پر چھ کروڑ ڈالر یعنی تقریبا 270 کروڑ روپے خرچ کیئے تھے۔ مہمانوں کو چاندی کے ڈبے میں بیس صفحات کا دعوت نامہ بھیجا گیا تھا۔ ایک ہزار مہمانون کو پیرس کے ایک شاندار ہوٹل میں پانچ دنوں کی تقریب کے لیئے ٹھہرایا گیا اور تقریبا دس کروڑ روپے کی بہترین شراب پیش کی گئی ۔ مہمانوں کو واپسی کے وقت یادگار کے طور پر کچھ زیورات وغیرہ دیئے گئے تھے۔ جدید تاریخ میں اس طرح کی شادی کی ایک مثال دبئی کےموجودہ امیرشیخ محمد بن رشید المخدوم کی شادی کی دی جاتی ہے۔ ان کی شادی 1981 میں ہوئی تھی اور اس وقت تقریبا ساڑھے چار کروڑ ڈالر خرچ کیئے گئے تھے۔ جو آج کے دس کروڑ ڈالر کے برابر خیال کیئے جاتے ہیں۔گنیس بک آف ریکارڈز میں یہ دنیا کی سب سے شاہانہ شادی کے طور پر آج بھی درج ہے۔ اربوں کی دولت، کوئی وارث نہیں ہندوستان کے بینکوں میں تقریبا دس ارب روپے ایسے پڑے ہوئے ہیں جن کا کوئی دعوے دار نہیں ہے۔ یہ رقم ان کھاتوں میں پڑی ہوئی ہے جو دس برس یا اس سے زیادہ عرصے سے استعمال میں نہیں ہیں اوران کے بارے مین بینکون نے بھی جاننے کی کوشش نہیں کی ہے یہ کھاتے دار کہاں گئے۔ ان میں سے تقریبا ساڑھے آٹھ ارب روپے سرکاری ملکیت کے بینکوں میں ہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے بینکوں کو یہ ہدایت کی ہے کہ اگر کوئی کھاتہ ایک سال تک استعمال میں نہیں رہتا تو کھاتے دار کا پتہ لگایا جائے۔ سرکاری بینکون کو ابھی تک اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی تھی کہ کوئی کھاتے دار اپنا اکاؤنٹ استعمال کیوں نہیں کر رہا۔ الٹے وہ کئی طرح کے چارجز بھی وصولتے رہے ہیں۔ بابری مسجد اور جودہ سالہ تحقیحقات بابری مسجد کے انہدام کے دس دن بعد 16 دسمبر 1992 کو جسٹس ایم ایس لبرہن کی قیادت میں ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کیا گیا۔ مسجد کے انہدام کے بارے میں اس کمیشن کو اپنی رپورٹ تین مہینے کے اندر، مارچ 1993 تک پیش کرنی تھی لیکن چودہ برس گزرنے کے بعد اب بھی اس کمیشن کی رپورٹ مکمل نہیں ہو سکی ہے۔
اس کمیشن کی مدت میں کم ازکم 39 بار توسیع کی گئی ہے۔ اس طویل عرصے میں مرکز میں پانچ حکومتیں بدلیں اور اتنے ہی وزیراعظم آئے لیکن یہ کمیشن اپنی رفتار میں اضافہ نہ کر سکا۔ اب کہا جا رہا ہے کہ یہ کمیشن اپنی رپورٹ اس برس31 دسمبرتک پیش کر دے گا۔ کمیشن کے ایک ریٹائرڈ سیکریٹری ممبر کا کہنا ہے تاخیر کا بنیادی سبب وہ قانونی رکاوٹیں تھیں جو متعلقہ افراد کی طرف سے کھڑی کی گئیں۔اتر پردیش کے سابق وزیراعلیٰ کلیان سنگھ کو کمیشن کے روبرو آنے میں بارہ برس سے زیادہ کا عرصہ لگ گیا۔ کمیشن نے دو وزرائے اعظم متعدد سرکردہ سیاسی رہنماؤں اور سو سے زیادہ گواہوں کے بیانات قلم بند کیئے ہیں۔ کمیشن کی رپورٹ ایک ایسے وقت میں آ رہی ہے جب اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہونگے۔ اگر ماضی کی روایت کو سامنے رکھیں تو کمیشن کی رپورٹ پر عمل ہونے کی کوئی امید تو نہیں کی جا سکتی لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس سے یو پی کی انتخابی فضا ضرور گرم ہو جائے گی اور شاید وہ دن دور نہیں جب سیاسی جماعتیں اس بات کا کریڈٹ حاصل کرنے کی کوشش کریں کہ منہدم بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کا عمل ان کی کوششوں سے ہی ممکن ہوا۔ گجرات فسادات اور فون کالز کے ثبوت بی جے پی نے گجرات فسادات کی تحقیقات کرنے والے ناناوتی کمیشن سے کہا ہے کہ وہ فسادات کے دوران ریاستی وزراء، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل اور اعلی پولیس افسروں کے درمیان موبائل فون پر بات چیت کی تفصیلات کے تجزیے کے خلاف ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ایک اعلی پولیس افسر کے ذریعے کمیشن میں پیش کی گئي دو سی ڈی کوئی اہمیت نہیں رکھتیں کیوں کہ اس میں صرف کی اور موصول کی گئی کالزکے نمبر دیے گئے ہیں اور اس میں بات چیت کی تفصیل نہیں ہے۔ فسادات سے متاثرہ لوگوں کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کالز سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ریاستی انتظامیہ فسادیوں کی مدد کر رہی تھی جب کہ بی جے پی کا کہنا ہے کہ وزراء پولیس افسروں اور بلوائیوں کے درمیان کالز کے اس کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ سے کچھ نہین ثابت ہوتا کیونکہ فسادات کے دوران یہ موبائل فون ان کے رشتے داروں کے پاس تھے۔ ناناوتی کمیشن نے ریاستی حکومت سے کہا ہے وہ اس سی ڈی کے تجزیے کے لیئے ماہرین کی ایک فہرست پیش کرے آر ایس ایس پر سیریل شدت پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس اور اس کی کامیابیوں پر ایک ٹی وی سیریل تیار کیا جا رہا ہے۔ اس سیریل میں بعض ایپیسوڈ رام جنم بھومی کی تحریک پر مشتمل ہونگے۔ ار ایس ایس کے ترجمان اخبار ’آرگنائزر‘ کے مطابق اس سیریل کا نام ’ماتر بھومی‘ (مادر وطن) ہوگا اور اس میں 70 ایپیسوڈ ہونگے۔ اخبار کے مطابق سنگھ کا یہ سیریل نومبر سے ایک ٹی وی چینل پر نشر ہو گا۔ |
اسی بارے میں دلی ڈائری: کشمیر میں جسم فروشی قانونی 14 May, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: قونصل خانے میں تاخیر12 March, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||