منموہن سنگھ کی مقبولیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس ہفتے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت والی یوپی اے حکومت نے اپنے دو برس مکمل کیے ہیں۔ شروع ہی سے منموہن سنگھ کے کام کرنے کے طور طریقو ں پرنکتہ چینی ہوتی رہی ہے لیکن اس موقع پر ایک جائزے سے پتہ چلا ہے کا فی الوقت وہ وہ عوام کی پہلی پسند ہیں۔ ایک نجی کمپنی کے جائزے کے مطابق وزیراعظم کے عہدے کے لیے عوام نے انہیں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور سونیا گاندھی پر بھی ترجیح دی ہے۔ لیکن بیشتر لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ منموہن سنگھ اب بھی کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے زیراثر کام کرتے ہیں۔ جائزے کے مطابق اسّی فیصد لوگ یہ مانتے ہیں کہ یوپی اے حکومت اپنی پانچ سال کی معیاد پورا کریگی۔ دو برس قبل جب منموہن سنگھ نے یو پی اے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تھی تو روایتی شاطر سیاست داں نہ ہونے کے سبب بہت سے لوگوں نے انہیں کٹھ پتلی وزیر اعظم کہا تھا۔ لیکن گزشتہ دو برس کی اپنی کارکردگی سے انہوں نے نہ صرف یہ ثابت کردیا ہے کہ ان میں پیچیدہ ترین مسائل حل کرنے کی صلاحیت ہے بلکہ مخلوط حکومت چلانے کا فن بھی آتا ہے۔ اللہ اور گاڈ کا جھگڑا کیرالہ میں بی جے پی کے نائب صدر مدھو پرمالا نےاپنی عرضی میں کہا ہے کہ آئین کی دفعہ 188 کے مطابق ارکان ’گاڈ‘ کے نام پرحلف لے سکتے ہیں یا کسی دوسری مذہبی علامت کےحوالے سے یقین دلایا جاسکتا ہے۔ لیکن ’گاڈ‘ کے علاوہ ذاتی پسند کے دوسرے نام کا استعمال درست نہیں ہے۔ مدھو نے اپنی حمایت میں اس نوعیت کے ایک دوسرے کیس کا حوالہ دیا ہے جس میں کیرالہ کے ایک سابق رکن اسمبلی امیش چلّیل نےریاست کے ایک مصلح اور فلسفی ’سری نائراینہ گرو‘ کے نام پر حلف لیا تھا۔ کیرالہ میں ایک طبقہ سری نائرینہ گروکی پوجا کرتا ہے لیکن ہائی کورٹ نے امیش کے اس عمل کو غیر آئینی بتاکر انہیں اسمبلی کی کارروائی میں حصہ لینے سے منع کیا تھا اور ان پر جرمانہ عائد کیا تھا۔ چند روز قبل کیرالہ کےگیارہ نومنتخب مسلم ارکان نے اللہ کے نام پر حلف لیا تھا۔ انکا تعلق حکمراں بائیں محاذ اور کانگریس کے زیر قیادت یو ڈی ایف محاذ سے ہے۔ مفاد عامہ کی عذرداری میں ان ارکان کو دی جارہی تمام سہولیات کو روکنے دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جانوروں کی جنسی حقوق کی لڑائی جانوروں کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم نے ایسے جانوروں کی زبوں حالی کی شکایت سپریم کورٹ سے کی تھی جسکے بعدعدالت نے سرکار سے جواب طلب کیا ہے۔ تنظیم نے چڑیا گھر کے بعض قوانین کاحوالہ دیا ہے جس کے مطابق جانوروں کو انکے سماجی گروپ میں رکھنے کی ہدایات ہیں اور اور بغیر کسی خاص وجہ کے انہیں انکے ساتھی سے تنہا رکھنے سے منع کیا گيا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مختلف چڑیا گھروں میں جانور اس طرح رکھے گیے ہیں کہ پانچ سو سے زیادہ جانور اپنے ساتھی سے جدا تنہا زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔ سپریم کورٹ نے جنگلات اور ماحولیات کی وزارت سمیت چڑیا گھر کے بہت سے حکام سے اس معاملے میں وضاحت طلب کی ہے۔ بہار کے وزراء کے لیۓ اسکورپیو بہار کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ریاست کے سبھی چھبیس وزراء کو یہ نئی ماڈل کاریں جلد ہی پیش کی جائیں گی حکومت کو اس کے لیے تقریباً نو کروڑ روپے خرچ کرنے ہونگے۔ بہار ابھی تقریباً بیالیس ہزار کروڑ کے خسارے میں ہے لیکن سرکار کا کہنا ہے کہ ’ائیر کنڈیشن کاروں میں چلنا آج کل کوئی لگژری نہیں اور یہ تبدیلی سیکیورٹی کے سبب بھی کی جارہی ہے‘۔ چلو نئی سرکار یہ بھی کر کے دیکھ لے ہو سکتا ہے لگزری کاروں میں سفر کر کے بہار کے منسٹر ریاست کے لیئے کچھ بہتر کام کر نا شروع کر دیں۔ کاسٹنگ کی پریشانی فلم ’دا سگنل‘ کے لیئے بھنڈار کر کو ایک ایسے اداکار کی تلاش ہے جو ایک ہم جنس پرست کا کردار نبھا سکے۔ بھنڈارکرفلم میں ایک خوبصورت اور صحت مند ’گے‘ پیش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کئی فلم اور ٹی وی اداکاروں کو اس رول کی پیش کش کی ہے لیکن تقریباً سبھی نے ہچکچاہٹ کے سبب رول ٹھکرا دیا ہے۔ فلم میں ’کونکنا سین‘ ایک جسم فروش خاتون کا کردار نبھا رہی ہیں اور انکے ساتھ ہی ایک میل ہم جنس پرست بھی جسم فروشی کا دھندہ کرتا ہے۔ | اسی بارے میں دلی ڈائری: ملا کی سیاست اور مونسون کی آمد21 May, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: کشمیر میں جسم فروشی قانونی 14 May, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ممبئی اور بنگلور میں بھی میٹرو09 April, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: قونصل خانے میں تاخیر12 March, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ایک لاکھ روپے کی کتاب۔۔۔۔05 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||