بزنس مشکل، سیاحت میں آگے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بزنس مشکل، سیاحت واہ واہ ہندوستان کو دنیا کے چوتھے سب سے اچھے سیاحتی ملک کا درجہ دیا گیا ہے۔ تین برس قبل سیاحت کے اعتبار سے وہ دسویں نمبر پر تھا۔ کونڈی نیسٹ ٹریویلر یو کے رسالے نے پوری دنیا میں اپنے قارئین کے سروے کے بعد اپنے جائزے میں لکھا ہے سیاحت کے شعبے میں ہندوستان تیزی سے آگے جا رہا ہے۔ میگزین کے مطابق اٹلی، نیو زی لینڈ اور آسٹریلیا پہلے تین مقام پر ہیں۔ ہندوستان میں جنوری سے اب تک آٹھ مہینوں میں اٹھائیس لاکھ غیر ملکی سیاح آچکے ہیں اور آئندہ چار مہینوں میں مزید اتنے ہی سیاح آنے کی توقع ہے ۔ سیاحت بہت تیزی سے ملک کی معیشت کا ایک اہم حصہ بنتی جا رہی ہے۔ عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد اصلاحی اقدامات کے باوجود عدالتوں کی سست روی اور لیبر قوانین بزنس کی راہ مین بڑی رکاوٹ ہیں ۔ بزنس کے ماحول کے اعتبار سے ہندوستان کو 175 ملکوں میں 134 ویں مقام پر رکھا گیا ہے۔ جاسوسی کا مقدمہ دلی پولیس نے وزیر اعظم کی قومی سلامتی کی سیکرٹیریٹ کے اہم راز مینہ طور پر امریکہ کے حوالے کرنے کے الزام میں دو اعلیٰ اہلکاروں کے خلاف گزشتہ دنوں فرد جرم داخل کی۔
اس معاملے کے ایک تیسرے ملزم اوجول داس گپتا جاسوسی کے ادارے ’را‘ کے ایک اعلی اہلکار ہیں۔ پولیس نے عدالت کو بتایا ہے کہ ان کے خلاف ابھی تفتیش مکمل نہیں ہوئی ہے۔ دو ملزموں کے قبضے سے سلامتی سے متعلق ہزاروں صفحات پرمشتمل انتہائی اہم خفیہ دستاویزات برآمد ہوئی تھیں۔ یہ پن ڈرائیو کی شکل میں تھیں۔ اس طرح کی کئی پن ڈرائیوز ایک کنوئیں سے برآمد کی گئیں۔ تفتیش کار اسے جاسوسی کا ایک اہم معاملہ تصور کرتے ہیں۔ اب یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ملزموں نے کتنا نقصان پہنچایا ہے۔ دلچسپ پہلویہ ہے کہ ملک کے اخبارات نے یہ اہم خبر اندر کے صفحات میں شائع کی ہیں اور ٹی وی چینلون پر یہ خبر نہ ہونے کے برابر تھی۔ ہندو گوشت مسلم گوشت ہندوستان میں حالیہ برسوں میں مذبح خانوں کی مخالفت میں شدت آئی ہے۔ مخالفت کی وجہ کبھی مذہبی تو کبھی مذبح خانوں سے جڑی گندگی رہی ہے۔ بڑی مشکلوں کے بعد دلی کے لیئے یو پی دلی سرحد پر ایک جدید طرز کے مذبح خانے کو منظوری ملی۔ یہ سلاٹر ہاؤس رفتہ رفتہ تکمیل کے مراحل میں ہے۔
سپریم کورٹ کے جج اس درخواست پر حیران رہ گئے۔ ججوں نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اول تو دودروازے تعمیر کرنے کے لیے اب کافی دیر ہو چکی ہے اور دوسرے یہ کہ صدیوں تک ساتھ رہنے کے بعد کم از کم اتنی رواداری توپیدا ہو جانی چاہیئے کہ ایک دوسرے کی ضروریات کو سمجھ سکیں۔ آزادی کے پچاس برس بعد تو ’ہندو پانی‘ اور ’مسلم پانی‘ کی بات نہیں ہونی چاہیئے۔ سیلاب میں شادیاں بھی بہہ گئیں کشمیر وادی میں ان دنوں شادیوں کا موسم ہے۔ لیکن زبردست سیلاب نے صرف روز مرہ کی زندگی ہی متاثر نہیں کی بلکہ اس کی وجہ سے متعدد شادیاں بھی ملتوی کرنی پڑیں۔ ایک اندازے کے مطابق چار، پانچ اور چھ ستمبر کو وادی میں کم ازکم پانچ ہزار شادیاں ہونی تھیں، لیکن متعدد علاقوں کے پانی کی زد میں آجانے سے آخری وقت میں شادیاں ملتوی کرنی پڑیں۔ سیلاب کی وجہ سے بکرے اور مرغ کا گوشت بھی دستیاب نہیں تھا۔ اطلاع کے مطابق کئی لوگوں نے مہمانوں اور دعوت کے بغیرہی سادگی کے ساتھ صرف گواہوں کی موجودگی میں نکاح پڑھا دیا۔ پیر کے روز مقامی اخبار شادیوں اور ولیموں کے التوا کی اطلا عات سے بھرے ہوے تھے۔ مافیا ڈان انتخاب میں
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مجرمانہ پس منظر کے لوگوں نے انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش کی ہو۔ ریاست میں ہری شنکر تیواری اور مختار انصاری اور پارلیمنٹ میں تسلیم الدین اور شہاب ا لدین جیسے نامی گرامی حضرات مختلف نوعیت کے کیسوں کے ساتھ قانون ساز کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انتخابات میں مجرمانہ بیک گراؤنڈ کے امیدواروں کی تعداد ایک مرحلے پر اتنی بڑھ گئی تھی کہ پارلیمنٹ کو ایسے عناصر کو قانون ساز اداروں میں آنے سے روکنے کے لیے عوامی نمائندگی کے قانون میں ترمیم کرنی پڑی تھی۔ اتر پردیش کے ایک دیگر ڈان ببلو شریواستو بھی پہلے ہی جیل سے انتخاب لڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ ببلو نے حال میں داؤد ابراہیم پر ایک کتاب لکھی ہے اور وہ خود کو ایک وطن پرست ڈان کے طور پر خود کو پیش کر رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||