پرامن عید،مادام تساؤ ممبئی میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر میں عید الفطر اس بار مکمل طور پر پرسکون ماحول میں منائی گئی۔ عید کی نماز کے لیے سب سے زیادہ بھیڑ حضرت بل کی درگاہ پر تھی جہاں تقریبًا ڈیڑھ لاکھ لوگوں نے عید کی نماز ادا کی۔ سری نگر کی جامع مسجد پر بھی نمازیون کی زبر دست بھیڑ تھی۔ عید کے دن پوری وادی میں تشدد کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ عید اور عید کے دوسرے دن بھی پوری وادی میں عید کا روایتی ماحول نظر آیا اور لوگ رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس ایک دوسرے سے ملنے کے لیے باہر نکلے۔ شورش زدہ وادی میں حالات پہلے سے کافی بہتر ہوئے ہیں اور شہری علاقوں میں اب لوگ رات گئے تک گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ شہری حدود میں سکیورٹی کا ماحول بھی بہتر نظر آتا ہے۔ شہر میں نیم فوجی دستوں کے اہلکاروں کی تعداد بظاہر کم ہوئی ہے۔ تلاشیوں اور ناکہ بندیوں کے معاملے میں بھی کچھ کمی آئی ہے۔ لیکن دیہی علاقے اب بھی پہلے جیسی حالت میں ہیں ۔ وہاں اب بھی خوف وہراس کا وہی عالم ہے جو پہلے تھا ۔ دیو بند کے طلبہ کی جانچ بنیاد پرستی اور مذہبی انتہا پرستی کو فروغ دینے کے ا لزامات کے بعد اب ملک کے باوقار مذہبی ادارے دارالعوم دیو بند نے طلبہ کے داخلے سے پہلے ان کی ذاتی تفصیلات کی جانچ کا عمل تیز کر دیا ہے۔ داخلے کے نئے ضابطوں کے تحت غیر ملکی طلبہ کو ہندوستانی سفارتخانے سے ’ایجوکیشن ویزا‘ لینا ہو گا۔ اب محض ’سٹوڈنٹ ویزا‘ لینے سے داخلہ نہیں ملے گا۔ بنگلہ دیش اور بعض دیگر ممالک سے آنے والے طلبہ کو پہلے وہاں کے بعض مقامی علماء سے منظوری کی سفارشات حاصل کرنی ہوں گی۔ یہ عمل کیرالہ سمیت ہندوستان کی بعض ریاستوں پر بھی نافذ ہو گا۔ مغربی بنگال اور آسام سے آنے والے طلبہ کو اپنی قومیت کا ثبوت دینا ہوگا۔ اس کے لیے سرکاری سکولوں کے سرٹیفیکٹس، راشن کارڈ، انتخابی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ وغیرہ کی مصدقہ نقول جمع کرانی ہوں گی۔ دارالعلوم دیوبند پر مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے کا الزام تو لگتا ہی رہا ہے، حالیہ مہینوں میں اپنے بعض متنازعہ فتوؤں کی وجہ سے بھی یہ خبروں میں رہا ہے۔ مادام توساؤ کا میوزیم ممبئی میں
لندن میں معروف شخصیات کے موم کے مجسموں کا مادام توساؤ میوزیم اب ممبئی میں بھی اپنی ایک شاخ کھولنے جا رہا ہے۔ اس میں بالی ووڈ اور کرکٹ کی دنیا کی مشہور ہستیوں کے علاوہ دوسری فیلڈ کے نامور لوگوں کے مجسمے لگائے جائیں گے۔ ان میں امیتابھ بچن اور سچن تندولکر کے نام سب سے اوپر ہیں۔ مادام توساؤ میوزیم کی ملکیت دبئی کی ایک فرم کے پاس ہے۔ اس میوزیم کی شاخیں نیو یارک ، لاس ویگاس ،ایمسٹرڈم اور شنگھائی میں کھل چکی ہیں۔ ’لندن کے میوزیم میں ہالی ووڈ اسٹار بریڈ پٹ اور جینیفر لوپیز کے نزدیک ہی امیتابھ بچن اور ایشوریہ رائے کے مجسمے نصب ہیں اور وہ ہندوستان ہی نہیں ہر جگہ کے بالی ووڈ کے شائقین کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ گوشت خوروں کی تعداد بڑھی ہے عام تصور کے برعکس ہندوستان میں پیسے آنے کے ساتھ ساتھ گوشت خوروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن کے ایک جائزے کے مطابق اس وقت ہندوستان کے 64 فی صد لوگ گوشت خور ہیں۔ 1990 کی دہائی میں یہ تناسب 46 فی صد تھا۔ جائزے کے مطابق فی کس آمدنی میں اضافے سے دلی، ممبئی، بنگلور اور کلکتہ جیسے شہروں میں بیشتر لوگ باہر کھانے کو ترجیح دیتے ہیں اور ریسٹورنٹ میں عموماً گوشت والے کھانوں کا آرڈر کرتے ہیں۔ سانبر اور اڈلی کے لیے مشہور جنوبی ہندوستان کے 92 فی صد لوگ گوشت خور ہیں ۔ تمل ناڈو کے بعض علاقوں میں یہ تناسب 98 فی صد ہے ۔ گجرات کو چھوڑ کر مغربی خطہ گوشت خوری میں دوسرے نمبر پر ہے ۔ تیسرے مقام پر شمال مشرقی ریاستیں ہیں۔ لیکن شمالی ہندوستان میں سبزی خوروں کی اکثریت ہے ۔ وہاں صرف 40 فی صد لوگ ہی گوشت خور ہیں۔ بائیس برس بعد ایف آئی آر درج 1984 میں سکھ مخالف فسادات کے دوران دلی کے گاندھی نگر علاقے کے نرمل سنگھ حفاظت کی غرض سے کہیں اور چلے گئے تھے۔ حالات معمول پر آنے پر چند دنوں بعد جب واپس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے گھر پر کچھ لوگوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنے مکان کی بحالی کے لیے پولیس اسٹیشن میں جب رپورٹ لکھانے کی کوشش کی تو پولیس نے ان کی ایک نہیں سنی۔ گزشتہ منگل کو 22 برس بعد نرمل سنگھ کی ایف آئی آر درج کر لی گئی۔ ایف آئی آر میں 13 لوگوں کے نام ہیں ۔ ان میں اصل ملزم کے، جو اب مر چکے ہیں، پانچ بیٹوں کے علاوہ پولیس کمشنر، ایک ڈپٹی پولیس کمشنر اور ایک جوائنٹ پولیس کمشنر کا نام بھی شامل ہے۔ نرمل سنگھ کو انصاف ملنے میں اتنی دیر ہو چکی ہے اب اگر ملتا بھی ہے تو وہ نہ ملنے کے برابر ہے ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||