وقف کردہ زمینوں پر بڑے پراجیکٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آندھراپردیش میں وقف جائیداد اور اراضیات کا تحفظ ہمیشہ ہی مسلم اقلیت کا ایک بہت بڑا مسئلہ رہا ہے- محکمہ وقف کی جانب سے ماضی میں کروائے گئے ایک سروے کے مطابق ریاست بھر میں پھیلی ہوئی وقف جائیدادوں اور زمینوں کی کل مالیت 50 ہزار کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہے لیکن ان میں سے اکثر قیمتی جائیدادیں اور زمینیں دوسروں کے ناجائز تصرف میں ہیں یا قانونی تنازعات میں الجھی ہوئی ہے- اسی ہفتہ اقلیتی بہبود سے متعلق ریاستی اسمبلی کی ایک کمیٹی نے حیدرآباد کے اطراف و اکناف سینکڑوں ایکڑ پھیلی اس زمین کا معائنہ کیا جو وقف جائیداد کا حصہ تھی لیکن اب مختلف نجی اور سرکاری اداروں کے قبضہ میں ہے- کمیٹی نے یہ کہہ کر ایک ہلچل مچادی ہے کہ شمس آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ ، انڈین سکول آف بزنس ، مائیکرو سافٹ کیمپس ، مولانا آزاد اردو یونیورسٹی ، ہارڈ ویر پارک اور فیاب سٹی جیسے پراجیکٹوں کے لیے وقف اراضی کو غیر قانونی طور پر استعمال کیا گیا ہے- کمیٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ ایک مذہبی تعلیمی ادارے جامعہ نظامیہ کی 490 ایکڑ زمین پر حیدرآباد اربن ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے قبضہ کرلیا ہے- اسی طرح درگاہ حسین شاہ ولی کی 1654 ایکڑ اراضی مختلف اداروں نے آپس میں بانٹ لی ہے- اس میں سے 250 ایکڑ زمین انڈین سکول آف بزنس کو ، 200 ایکڑ زمین مولانا آزاد یونیورسٹی اور 660 ایکڑ زمین ریاستی انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کو دے دی گئی ہے- کمیٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ ان تمام جائیدادوں کے وقف املاک ہونے کا مکمل ثبوت اور ریکارڈ خود حکومت کے پاس موجود ہے- انہوں نے ان جائیدادوں کی واپسی کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے- کریم نگر میں جنگ کا میدان تیار آندھراپردیش کے کریم نگر لوک سبھا حلقہ میں آئندہ مہینے ہونے والے ضمنی
کانگریس پارٹی نے اپنے ایک سینئر رکنِ اسمبلی جیون ریڈی کو، تلگو دیشم نے اپنے سابق رکنِ پارلیمنٹ ایل رمنا کو اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے سابق مرکزی وزیر سی ایچ ودیا ساگر راو کو میدان میں اتارا ہے- یوں تو سبھی اپنی اپنی کامیابی کا یقین ظاہر کررہے ہیں لیکن اس دوڑ میں بی جے پی ابھی سے چوتھے مقام پر ہے جبکہ باقی تین امیدواروں میں کانٹے کا مقابلہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے- یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ چندر شیکھر راؤ نے کریم نگر لوک سبھا نشست سے اس وقت استعفی دے دیا جب کانگریس پارٹی نے انہیں چیلنج کیا تھا کہ وہ عوام میں اپنی تائید ثابت کرکے دکھائیں- چندر شیکھر راو علحیدہ ریاست تلنگانہ کے نعرے پر یہ الیکشن لڑ رہے ہیں- اور انہیں یقین ہے کہ کریم نگر کے عوام تلنگانہ کے حق میں انہیں ووٹ دیں گے- کانگریس پارٹی نے اس اہم مسئلہ پر اب تک کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا ہے لیکن اس کے لیڈروں کو امید ہے کہ ان کی ریاستی حکومت کی کارکردگی کی بنیاد پر عوام کانگریس ہی کو ووٹ دیں گے- تلگودیشم جو ریاست کی تقسیم اور تلنگانہ ریاست کے قیام کی مخالف ہے امید کررہی ہے کہ کانگریس کی پالیسیوں سے ناراض عوام اب کی بار اس کے نامزد امیدوار کی تائید کریں گے- کریم نگر میں کوئی ایک لاکھ 40 ہزار مسلم ووٹ ہیں اور ہر پارٹی مسلمانوں کی تائید کے حصول کی کوشش کررہی ہے- لیکن کانگریس کو اس بات سے بڑا سہارا ملا ہے کہ ایک اہم مسلم سیاسی جماعت مجلس اتحاد المسلمین نے کریم نگر میں اس کی تائید کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ وہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد کسی سیکولر امیدوار کی تائید کا اعلان کرے گی- جنوبی ہند کے بندر ’زیادہ مہذب اور با اخلاق‘ سیاستدانوں کے بعد اب کچھ ذکر بندروں کا۔ جنوبی ہند اور شمالی ہند کی
یونیورسٹی آف نیویارک کے علم نفسیات کے پروفیسر لیونارڈ روزن بام نے شمالی اور جنوبی ہند کے بندروں پر تحقیق کے بعد یہ سند دی ہے کہ جنوبی ہند کے بندر زیادہ مہذب اور با اخلاق ہوتے ہیں- اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی ہند میں اگر کوئی بندریا اپنا چھوٹا بچہ چھوڑ کر مرجاتی ہے تو اس جھنڈ کے دوسرے بندر اس بچے کو اپنا لیتے ہیں جبکہ شمالی ہند میں اس بچے کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے- اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی ہند کے بندر ہمیشہ ایک جھنڈ کی شکل میں رہتے ہیں جبکہ شمالی ہند میں ہر بندر سن بلوغت کو پہنچنے کے بعد جھنڈ چھوڑ کر اپنی راہ لیتا ہے- دلت انگریزی زبان کے علمبردار حیدرآباد کی تاریخی عثمانیہ یونیورسٹی میں آج کل زبان کے مسئلہ پر ایک بڑا
اس کشمکش نے ذات پات کا رنگ لے لیا ہے کیونکہ تلگو کی مخالفت اور انگریزی کی حمایت کرنے والے زیادہ تر نچلی ذاتوں کے لوگ یا دلت ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ تلگو کو فروغ دے کر اونچی ذات کے لوگ انہیں انگریزی سیکھنے اور ترقی حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں- دلتوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والے مشہور مصنف اور یونیورسٹی کے پروفیسر کانچا ایلیا کا کہنا ہے کہ نام نہاد اعلی ذات درجہ اول سے سکولوں میں انگریزی رائج کرنے کی اس لئے مخالفت کررہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ انگریزی تعلیم کو دوسروں تک پہنچنے دینا نہیں چاہتے۔ ایلیا کا کہنا تھا کہ سرکاری سکولوں میں تلگو پڑھانے کی وکالت کرنے والے اونچی ذات کے لوگ اپنے بچوں کو ان نجی اسکولوں میں پڑھاتے ہیں جن کا ذریعہ تعلیم انگریزی ہے- اس طرح وہ درج فہرست قبیلوں ، پسماندہ ذاتوں اور اقلیتوں کے بچوں کو جو سرکاری مدرسوں میں پڑھتے ہیں انگریزی سے دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں- | اسی بارے میں سیاستدانوں میں زمین کی کشمکش30 September, 2006 | انڈیا کرناٹک میں بی جے پی کا کھیل14 October, 2006 | انڈیا آندھرا: غیر مسلم سیاستدانوں کی نمازیں 21 October, 2006 | انڈیا لسانی ریاستوں کے 50 برس، لیکن تلخیاں برقرار04 November, 2006 | انڈیا دکن ڈائری: بادشاہ گر خطرات میں11 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||