لسانی ریاستوں کے 50 برس، لیکن تلخیاں برقرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
1956 ء میں لسانی بنیادوں پر ہندوستانی ریاستوں کی تشکیل جدید کے حصے کے طور پر تلگو اور کنٹرا زبانیں بولنے والوں کے لیے آندھراپردیش اور کرناٹک کا قیام عمل میں آیا تھا لیکن جن حالات میں دونوں ریاستوں نے اپنی سالگرہ منائی ہے اس سے صاف ظاہر تھا کہ جن مختلف علاقوں کو ملا کر یہ ریاستیں تشکیل پائی تھیں وہ ابھی بھی باہم شیرو شکر نہیں ہوسکی ہیں اور وہاں کے لوگ تہذیبی، ثقافتی، معاشی اور دوسری بنیادوں پر ابھی بھی آپس میں بٹے ہوئے اور تنازعات کا شکار ہیں۔ چنانچہ جب یکم نومبرکو آندھراپردیش کی گولڈن جوبلی منائی گئی تو اس دن ریاست کے علاقہ تلنگانہ میں بڑے پیمانے پر ہڑتال تھی کیونکہ اس علاقہ کے لوگ ایک الگ ریاست تلنگانہ کا مطالبہ کررہے ہیں- تلنگانہ راشٹر سمیتی نے یہ کہہ کر سرکاری تقاریب کا بائیکاٹ کیا کہ تلنگانہ کے عوام نے علاقہ آندھرا کے ساتھ اپنے انضمام کو کبھی قبول ہی نہیں کیا ہے اور گزشتہ 50 برسوں میں تلنگانہ کے عوام کو سوائے ناانصافی کے کچھ حاصل نہیں ہوا- بات دراصل یہ ہے کہ ساحلی آندھرا کے زیادہ خوشحال طبقہ کو ہمیشہ ہی ریاست پر سیاسی اور معاشی برتری حاصل رہی ہے اور تعلیم ، سرکاری ملازمتوں اور سرکاری فنڈز کا ایک بڑا حصہ انہیں کے حق میں جاتا رہا ہے اوریہ بات وقفہ وقفہ سے علیحدہ تلنگانہ ریاست کے مطالبہ کو ہوا دیتی رہی ہے- شہروں کے ناموں کی تبدیلی کا جنون اردو داں طبقہ کے لیے زیادہ مایوسی کا باعث تاریخی شہر گلبرگہ کے نام کی تبدیلی رہی ہے جسے اب حکومت نے کلبرگی کا نام دیا ہے- مشہور صوفی حضرت خواجہ بندہ نواز کی سرزمین گلبرگہ کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ اسے یہ نام اس کی سرسبزی و شادابی کی بنا پر حاصل ہوا تھا لیکن اب اس نام کو بھی بخشا نہیں گیا ہے۔ ویسے ہندوستان میں شہروں کے ناموں کی تبدیلی کی تاریخ کافی لمبی ہے اور آزادی کے بعد سے ہی کئی شہروں کے ناموں کو تختہ مشق بنایا گیا ہے۔ چنانچہ جو کبھی بمبئی تھا وہ ممبئی بن گیا- مدراس کے نام سے مشہور شہر چینائی کہلایا اور بڑودہ ، وڈودرا میں تبدیل ہوگیا- ابھی ایسے کئی شہر ہیں جن کے ناموں کی تبدیلی مختلف حلقوں کے ایجنڈوں میں شامل ہے- اردو تہذیب کا نقصان ان علاقوں کے لوگوں میں پائی جانے والی بے چینی وقفہ وقفہ سے سر اٹھاتی رہتی ہے- چنانچہ تلنگانہ ہی کی طرح گلبرگہ اور بیدر شریف کے عوام بھی کرناٹک سے علیحدہ ہوکر اپنی ریاست بنانا چاہتے ہیں- پہلی مسلم خاتون میئر ملکہ بیگم نےجو سرپر اسکارف باندھتی ہیں اور بنا نقاب برقعہ پہنتی ہیں کہا کہ وہ تعلیم کے فروغ کو اولین اہمیت دیں گی- گھریلو تشدد مرکز توجہ ورنگل میں ایک بینک کے ملازم ستیش کمار نے حالت نشہ میں اپنی 10 ماہ کی بیٹی کو اس بے دردی کے ساتھ ٹھوکر ماری کے اس کی موت ہوگئی- ستیش کی بیوی مہیشوری کی شکایت پر پولیس نے ستیش کے خلاف اس نئے قانون کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے اور بینک نے بھی اس کی درندگی کے پیش نظر اسے نوکری سے برطرف کردیا ہے- مہیشوری کا کہنا ہے کہ اس کے شوہر نے یہ ظالمانہ حرکت اس لیے کی کہ وہ مزید جہیز نہ ملنے کی وجہ سے ناراض تھا اور اسے مسلسل زدوکوب کیا کرتا تھا لیکن عجیب بات یہ ہے کہ بیوی کے بجائے معصوم بچی کو اپنی جان دے کر اس کی قیمت چکانی پڑی- ویسے اس سوال پر رائے بٹی ہوئی ہے کہ یہ قانون تشدد اور ہراسانی کا شکار خواتین کو کس حد تک تحفظ فراہم کرسکے گا- کچھ کہتے ہیں کہ خود خواتین بھی اس قانون کا اسی طرح استحصال کرسکتی ہیں جس طرح اس سے پہلے انسداد جہیز قانون کا ہوچکا ہے۔ | اسی بارے میں آندھرا: غیر مسلم سیاستدانوں کی نمازیں 21 October, 2006 | انڈیا آندھرا پردیش فرقہ وارانہ تشدد کی زد میں07 October, 2006 | انڈیا دکن ڈائری: مفت کلچر، سکیورٹی اور سیاح19 August, 2006 | انڈیا دکن ڈائری : بد ترین سیلاب، کوک کو جھٹکا12 August, 2006 | انڈیا دکن ڈائری: خواب دیکھنا مت چھوڑ29 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||