BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 November, 2006, 11:23 GMT 16:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لسانی ریاستوں کے 50 برس، لیکن تلخیاں برقرار

ہندوستان میں ایک تقریب میں ناچ
اس ہفتہ جنوبی ہند کی دو ریاستوں نے اپنے قیام کی پچاسویں ویں سالگرہ منائی
1956 ء میں لسانی بنیادوں پر ہندوستانی ریاستوں کی تشکیل جدید کے حصے کے طور پر تلگو اور کنٹرا زبانیں بولنے والوں کے لیے آندھراپردیش اور کرناٹک کا قیام عمل میں آیا تھا لیکن جن حالات میں دونوں ریاستوں نے اپنی سالگرہ منائی ہے اس سے صاف ظاہر تھا کہ جن مختلف علاقوں کو ملا کر یہ ریاستیں تشکیل پائی تھیں وہ ابھی بھی باہم شیرو شکر نہیں ہوسکی ہیں اور وہاں کے لوگ تہذیبی، ثقافتی، معاشی اور دوسری بنیادوں پر ابھی بھی آپس میں بٹے ہوئے اور تنازعات کا شکار ہیں۔

چنانچہ جب یکم نومبرکو آندھراپردیش کی گولڈن جوبلی منائی گئی تو اس دن ریاست کے علاقہ تلنگانہ میں بڑے پیمانے پر ہڑتال تھی کیونکہ اس علاقہ کے لوگ ایک الگ ریاست تلنگانہ کا مطالبہ کررہے ہیں- تلنگانہ راشٹر سمیتی نے یہ کہہ کر سرکاری تقاریب کا بائیکاٹ کیا کہ تلنگانہ کے عوام نے علاقہ آندھرا کے ساتھ اپنے انضمام کو کبھی قبول ہی نہیں کیا ہے اور گزشتہ 50 برسوں میں تلنگانہ کے عوام کو سوائے ناانصافی کے کچھ حاصل نہیں ہوا-

بات دراصل یہ ہے کہ ساحلی آندھرا کے زیادہ خوشحال طبقہ کو ہمیشہ ہی ریاست پر سیاسی اور معاشی برتری حاصل رہی ہے اور تعلیم ، سرکاری ملازمتوں اور سرکاری فنڈز کا ایک بڑا حصہ انہیں کے حق میں جاتا رہا ہے اوریہ بات وقفہ وقفہ سے علیحدہ تلنگانہ ریاست کے مطالبہ کو ہوا دیتی رہی ہے-

شہروں کے ناموں کی تبدیلی کا جنون
دوسری طرف پڑوسی ریاست کرناٹک میں بھی 50 ویں یوم تاسیس کی تقاریب پر لسانی اور علاقائی عصبیت کے سائے منڈلاتے دکھائی دیئے۔ چنانچہ ریاست کے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارا سوامی نے دارالحکومت بنگلور کے بشمول ریاست کے کئی بڑے شہروں کے پرانے ناموں کو تبدیل کرتے ہوئے انہیں کنٹرا رنگ میں رنگنے کا اعلان کیا- چنانچہ بنگلور اب بنگالورو، میسور، میسورو، ٹمکور، ٹمکورو کہلائے گا یعنی شہر کے نام کا تلفظ کنٹرا زبان کے مطابق ادا کرنا پڑے گا-

اردو داں طبقہ کے لیے زیادہ مایوسی کا باعث تاریخی شہر گلبرگہ کے نام کی تبدیلی رہی ہے جسے اب حکومت نے کلبرگی کا نام دیا ہے- مشہور صوفی حضرت خواجہ بندہ نواز کی سرزمین گلبرگہ کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ اسے یہ نام اس کی سرسبزی و شادابی کی بنا پر حاصل ہوا تھا لیکن اب اس نام کو بھی بخشا نہیں گیا ہے۔

ویسے ہندوستان میں شہروں کے ناموں کی تبدیلی کی تاریخ کافی لمبی ہے اور آزادی کے بعد سے ہی کئی شہروں کے ناموں کو تختہ مشق بنایا گیا ہے۔ چنانچہ جو کبھی بمبئی تھا وہ ممبئی بن گیا- مدراس کے نام سے مشہور شہر چینائی کہلایا اور بڑودہ ، وڈودرا میں تبدیل ہوگیا- ابھی ایسے کئی شہر ہیں جن کے ناموں کی تبدیلی مختلف حلقوں کے ایجنڈوں میں شامل ہے-

اردو تہذیب کا نقصان
دراصل لسانی بنیادوں پر ریاستوں کی تشکیل جدید کے عمل میں سب سے اردو زبان اور تہذیب کو ہی نقصان پہنچا ہے کیونکہ اس عمل کے حصے کے طور پر سلطنت آصف جاہی، حیدرآباد دکن، کے تین ٹکڑے کیئے گئے تھے جس میں ایک تلنگانہ آندھراپردیش میں ضم کیا گیا، مرہٹواڑہ مہاراشٹرا کو دیا گیا اور گلبرگہ اور اس کے اطراف و اکناف کا علاقہ کرناٹک میں ضم کیا گیا- حالانکہ یہ علاقے ابھی بھی اردو زبان اور تہذیب کے اہم مراکز ہیں لیکن ان کی شناخت بتدریج ختم ہوتی جارہی ہے۔

ان علاقوں کے لوگوں میں پائی جانے والی بے چینی وقفہ وقفہ سے سر اٹھاتی رہتی ہے- چنانچہ تلنگانہ ہی کی طرح گلبرگہ اور بیدر شریف کے عوام بھی کرناٹک سے علیحدہ ہوکر اپنی ریاست بنانا چاہتے ہیں-

پہلی مسلم خاتون میئر
وجے واڑہ ، آندھراپردیش کا تجارتی دارالحکومت اورایک اہم شہری مرکز ہے جہاں پہلی مرتبہ مسلم خاتون ملکہ بیگم کو میئر منتخب کیا گیا ہے- وہ کانگریس کی امیدوار کی حیثیت سے اس عہدہ کے لیے منتخب ہوئی ہیں- وجے واڑہ کی مجلس بلدیہ پر کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی کا مشترکہ کنٹرول ہے اور یہ دونوں پارٹیاں یکے بعد دیگرے یہ عہدہ سنبھال رہی ہیں- چنانچہ اب تک سی پی آئی کی شکنتلا اس عہدہ پر فائز تھیں اور اب اگلے دو سال کے لیے ملکہ بیگم کو چنا گیا ہے اوراس کے بعد ایک اور خاتون رتنا بندو کی باری ہوگی۔ اس طرح یہ عہدہ صرف خواتین تک محدود رہے اور مردوں کو اس میں کوئی حصہ نہیں ملے گی۔ ملکہ بیگم پہلی مسلم خاتون ہیں جو وجے واڑہ کی 125 سالہ بلدیاتی تاریخ میں اس عہدہ کے لیے منتخب ہوئیں-

ملکہ بیگم نےجو سرپر اسکارف باندھتی ہیں اور بنا نقاب برقعہ پہنتی ہیں کہا کہ وہ تعلیم کے فروغ کو اولین اہمیت دیں گی-

گھریلو تشدد مرکز توجہ
خواتین کی بات چلے اور انسداد گھریلو تشدد قانون اور 2005 ء کا ذکر نہ ہو ایسا ممکن نہیں ہے- چنانچہ گزشتہ دنوں جیسے ہی یہ قانون نافذ ہوا تقریباً ہر ریاست سے ان رپوٹوں کا سیلاب آگیا کہ وہاں اس قانون کے تحت پہلے مقدمہ کا سامنا کرنے کا اعزاز کسے حاصل ہوا- چنانچہ آندھراپردیش میں بھی ایسے کیسس کا ایک سیلاب امڈ آیا ہے اور قانون نافذ ہوتے ہی کئی بیویاں اپنے شوہروں اور سسرالی رشتہ داروں کے خلاف شکایتیں لے کر پولیس سٹیشن پہنچ گئی ہیں- آندھراپردیش میں ایسا پہلا کیس ایک خوفناک شکل میں سامنے آیا جبکہ بیوی کے بجائے ایک شیر خوار بچی گھریلو تشدد کا شکار ہوگئی-

ورنگل میں ایک بینک کے ملازم ستیش کمار نے حالت نشہ میں اپنی 10 ماہ کی بیٹی کو اس بے دردی کے ساتھ ٹھوکر ماری کے اس کی موت ہوگئی- ستیش کی بیوی مہیشوری کی شکایت پر پولیس نے ستیش کے خلاف اس نئے قانون کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے اور بینک نے بھی اس کی درندگی کے پیش نظر اسے نوکری سے برطرف کردیا ہے-

مہیشوری کا کہنا ہے کہ اس کے شوہر نے یہ ظالمانہ حرکت اس لیے کی کہ وہ مزید جہیز نہ ملنے کی وجہ سے ناراض تھا اور اسے مسلسل زدوکوب کیا کرتا تھا لیکن عجیب بات یہ ہے کہ بیوی کے بجائے معصوم بچی کو اپنی جان دے کر اس کی قیمت چکانی پڑی- ویسے اس سوال پر رائے بٹی ہوئی ہے کہ یہ قانون تشدد اور ہراسانی کا شکار خواتین کو کس حد تک تحفظ فراہم کرسکے گا- کچھ کہتے ہیں کہ خود خواتین بھی اس قانون کا اسی طرح استحصال کرسکتی ہیں جس طرح اس سے پہلے انسداد جہیز قانون کا ہوچکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد