دکن ڈائری: خواب دیکھنا مت چھوڑ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خواب دیکھنا مت چھوڑنا کچھ عرصہ قبل حیدرآباد کی مصروف سڑک پر ایک پاگل نے تیزدھار ہتھیار سے کئی لوگوں پر حملہ کردیا تھا اور اس کی زد میں آنے والوں میں ایک غریب میوہ فروش بھی تھا جس کا ایک ہاتھ پاگل نے کاٹ دیا۔ یہ واقعہ اس غریب خاندان پرایک قیامت بن کر ٹوٹا کیونکہ محمد برہان اپنے خاندان کے لیے روٹی کمانے کا واحد ذریعہ تھے۔ اس کا سب سے برا اثر ان کی ان دو بیٹیوں پر پڑا جنہیں اچھی تعلیم دلانے کا وہ خواب دیکھ رہے تھے۔ حادثہ کے بعد بھی برہان نے ہمت نہیں ہاری اور بچیوں کی تعلیم جاری رکھی اور ان کی سخت محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی بڑی بیٹی رخسانہ نے انجینئرنگ کورس کے داخلے کے امتحان میں امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کی ہے۔ رخسانہ کو کالج میں ایک سیٹ تو مل گئی لیکن بڑا سوال یہ کھڑا ہوگیا کہ انجینئرنگ کی اس تعلیم کا خرچ کہاں سے آئےگا۔ جب یہ کہانی مقامی اخبارات میں شائع ہوئی تو بہت سے لوگ مذہب اور فرقہ کی حدوں سے اوپر اٹھتے ہوئے اس لڑکی مدد کے لیے آگے آئے اور اسے 27 ہزار روپے کی امداد دی ہے۔ کئی افراد نے اس لڑکی کو نصابی کتابیں فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔ اس ہمدردی اور مدد کے جذبہ سے متاثر رخسانہ نے کہا کہ اب اس کا حوصلہ اور بھی بلند ہوگیا ہے اور وہ اپنے مددگاروں کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے اور بھی زیادہ محنت کرے گی۔ کانگریس کا اندرونی تضاد اور مسلمانوں کی پریشانی
لیکن یہ مسئلہ خود ریاست کی کانگریسی حکومت کے لیے پشیمانی اور ندامت کا باعث بن گیا ہے۔ جس کانگریس نے ریاست آندھراپردیش میں مسلم اقلیت کے لیے پانچ فیصد ریزرویشن کا وعدہ کیا تھا اسی کانگریس کی حکومت نے مرکز میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کسی فرقے کو تحفظات فراہم کرنا آئین کے منافی ہے۔ مرکزی حکومت نے یہ بات سپریم کورٹ میں ایک اور مقدمہ میں داخل کیے گئے حلف نامے میں کہی ہے۔ اس صورتحال نے ریاست کی کانگریسی حکومت پر اپوزیشن کے حملوں کا دروازہ کھول دیا ہے۔ حزب اختلاف کی اصل جماعت تلگودیشم کا کہنا ہے کہ اب یہ ثابت ہوگیا ہے کہ کانگریس پارٹی تحفظات کا وعدہ کرکے اصل میں مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کررہی تھی۔ ٹی ڈی پی کا کہنا ہے کہ کانگریس کو روز اول سے معلوم تھا کہ مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے راستے میں کئی آئینی اور قانونی رکاوٹیں آئیں گی، اس کے باوجود اس نے پانچ فیصد ریزرویشن کا وعدہ کیا تھا۔ ٹی ڈی پی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نےمسلمانوں سے تین فیصد تحفظات کا وعدہ اسی لیے کیا تھا کہ اس میں کوئی دستوری رکاوٹ حائل نہ ہوتی۔ دوسری طرف کانگریس کی ریاستی حکومت ابھی بھی یہ کہہ رہی ہے کہ وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گی اوراس سے انحراف کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن ریاست اور مرکز کی حکومتوں میں جو تضاد ہے اس نے مسلمانوں کو ایک الجھن میں ڈال دیا اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اس تضاد کا کیا مطلب ہے۔ سابق ’ملکہ‘ کے لیے محلات کے دروازے بند
اس کا مطلب یہ ہے کہ 14 کروڑ روپے معاوضے کی ادائیگی کا جو حکم زیریں عدالت نے جاری کیا ہے اس پر ابھی عمل نہیں ہوگا اوریہ رقم فوری طور پر منولیا کو نہیں ملے گی۔ سابق مِس ترکی کو دوسرے محاذوں پر بھی پشیمانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ نظام کے محلات کے دروازے اب پوری طرح سے منولیا کے لیے بند ہوگئے ہیں۔ اس کا احساس انہیں اس وقت ہوا جبکہ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ چومحلہ پیلیس پہنچیں۔ سکیورٹی عملے نے نہ صرف انہیں اندر آنے سے روک دیا بلکہ باب الداخلہ کے قریب کھڑے رہنے کی بھی اجازت نہیں دی۔ منولیا وہ دن یاد کرکے رو پڑیں جب انہوں نے انہیں محلات میں اپنے شوہر کے ساتھ کئی خوشگوار دن گزارے تھے۔ اس سلوک سے سب سے زیادہ صدمہ نیلوفر کو ہوا جو پہلی مرتبہ یہ محلات دیکھنے آئی تھیں۔ شاید اسی صدمے کے ازالے کے لیے دونوں ماں بیٹیوں نے ایک یتیم خانہ میں بھی کچھ وقت گزارا اور وہاں رہنے والے معصوم بچوں کے ساتھ کھانا کھایا۔ |
اسی بارے میں آندھرا تقسیم ہوگا یا کانگریس؟23 April, 2006 | انڈیا کروناندھی کے چاول بمقابلہ جیہ للیتا کے چاول29 April, 2006 | انڈیا سیاسی بزرگوں کا راج13 May, 2006 | انڈیا ’خدا کی زمین‘ پرکمیونسٹ حکمران20 May, 2006 | انڈیا خوشی کے ساتھ ساتھ تکلیفیں بھی27 May, 2006 | انڈیا شمال و جنوب کا فرق، مفت ٹی وی اور پھلوں کا بادشاہ03 June, 2006 | انڈیا فٹبال کا عالمی بخار اور حیدرآباد کا دکھ10 June, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||