BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 June, 2006, 07:46 GMT 12:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرناٹک حکومت کوخطرہ

دیوی گوڑا
سابق وزیراعظم دیوی گوڑا کی پارٹی جنتادل ایس نے منصوبے کو سرکاری کنٹرول میں لینے کی بات کی
نندی انفراسٹرکچر کاریڈور انٹرپرائز کا مختصر نام (NICE) نائس ہے لیکن کرناٹک میں اس منصوبے میں اب کچھ بھی نائس یعنی اچھا نہیں رہا ہے۔ کرناٹک کے دو بڑے شہروں بنگلور اور میسور کے درمیان ایک سو گیارہ کلومیٹر طویل ایکسپریس وے کا یہ منصوبہ نہ صرف خود ایک تنازعہ میں گھر گیا ہے بلکہ اس کی وجہ سے ریاست کی جنتادل (ایس) اور بی جے پی کی مخلوط حکومت بھی خطرے میں پڑگئی ہے۔

دو ہزار آٹھ سو پچاس کروڑ روپے کے اس منصوبے کا ٹھیکہ پچھلی کانگریسی حکومت نے ایک نجی کمپنی کو دیا تھا اور اب تک اس ایکسپریس وے کا صرف نو کِلومیٹر حصہ ہی مکمل ہوسکا ہے۔ منصوبے پر تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب کہ سابق وزیراعظم دیوے گوڑا کی پارٹی جنتادل ایس نے اس کو سرکاری کنٹرول میں لینے کی بات شروع کی تھی۔

دیوے گوڑا کے فرزند اور ریاست کے وزیراعلیٰ کمارا سوامی کو اس بات پر اعتراض تھا کہ اس منصوبے کے لیئے بیس ہزار ایکڑ زمین حاصل کی گئی اور اس طرح کسانوں کو نقصان پہنچایا گیا لیکن حکومت کے اس ارادے کو نظر انداز کرتے ہوئے نائس کے منیجنگ ڈائریکٹر اشوک کھینی نے اس شاہراہ کے ایک مختصر حِصّے کے افتتاح کا اعلان کردیا۔ ریاستی حکومت نے اسے روکنے کی ناکام کوشش بھی کی۔

اس پر دیوی گوڑا اور کمارا سوامی دونوں بہت ناراض ہیں لیکن ان کے لیئے مشکل یہ ہے کہ حکومت میں شریک بی جے پی اس منصوبے کو سرکاری کنٹرول میں لینے کی مخالفت کررہی ہے۔ نائب وزیراعلیٰ اور بی جے پی کے رہنما یدیورپا نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے منصوبے پر ہاتھ ڈالا تو بی جے پی حکومت سے علیحدہ ہوجائے گی لیکن معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہوا کیونکہ گوڑا اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں اور وہ کبھی بھی کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

سرمایہ کار بھی ناراض
تنازعہ سے اٹھنے والے گرد و غبار نے ریاست کی مخلوط حکومت کا تاثر اور بھی خراب کردیا ہے اور اس کے مستقبل کے بارے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ خود وزیر اعلیٰ یہ کہنے لگے ہیں کہ انہیں نہیں معلوم کہ وہ مزید کتنے دن وزیراعلیٰ رہیں گے۔

اس تنازعہ نے کاروباری حلقوں میں بھی ہلچل مچادی ہے اور اس سے صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں میں دیوے گوڑا اور ان کی پارٹی کے خلاف ناراضگی بڑھی ہے اور عام طور پر دیوے گوڑا پر یہ الزام لگ رہا ہے کہ وہ بنگلور کی ترقی سے متعلق منصوبے کے راستے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ اس سے پہلے دیوے گوڑا نے بین الاقوامی ہوائی اڈّے کے لیئے اور نجی شعبہ کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی انفوسس کو زمین الاٹ کرنے کی بھی مخالفت کی تھی۔

زمین کے معاملہ میں دیوے گوڑا کا کہنا ہے کہ اس پر کسانوں کا زیادہ حق ہے۔ لیکن کہا یہ جارہا ہے کہ وہ بنگلور میسور ایکسپریس وے کی مخالفت اس لیئے کررہے ہیں کہ ان کی اپنی زمینیں اس کی زد میں آرہی ہیں۔

بنگلور کو حیدر آباد کے بعد چنائی کا چیلنج
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ اور معاشی ترقی کی دوڑ میں ایک
دوسرے سے آگے نکلنے کے لیئے کرناٹک آندھراپردیش اور تمل ناڈو کے درمیان مسابقت سے ہر کوئی واقف ہے۔ کرناٹک میں صنعتی حلقوں اور نجی کمپنیوں کی ناراضگی سے پہلے آندھرا پردیش نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو اب تمل ناڈو بھی یہی کوشش کررہا ہے۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ ایم کرونانیدھی نے اس ہفتہ بنگلور کا دورہ کیا اور آئی ٹی کی دو بڑی کمپنیوں انفوسس اور وپرو کو دعوت دی کہ وہ چنائی میں اپنے کیمپس تعمیر کریں۔ انفوسس نے اس دعوت کو قبول کرلیا ہے- حیدرآباد ہی کی طرح اب چنائی میں بھی انفوسس اپنا ایک بڑا کیمپس بنائے گی جو 125 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہوگا اور اس میں پانچ ہزار سے زیادہ سافٹ ویئر انجینئر کام کریں گے۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اس بات سے بھی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں کہ مرکز میں انفارمیشن ٹکنالوجی کے وزیر ان ہی کے نواسے دیانیدھی مارن ہیں۔

چندر بابو نائیڈو
تلگو دیشم اور ‏مارکسی پارٹی کا اِتحاد کانگریس کے لیئے خطرہ
حیدرآباد میں سیاسی اٹھا پٹخ شروع ہوگئی ہے۔ پنچایتوں یعنی مجالس مقامی کے انتخابات کے لیئے دو پرانے دشمن تلگودیشم اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی ایک ہوگئے ہیں۔ اسے ریاست میں اور قومی سطح پر ایک نئی سیاسی صف بندی کے آغاز کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ 2004 کے ریاستی اسمبلی کے انتخابات اور قومی سطح پر پارلیمانی انتخابات میں بائیں بازو کی جماعتیں کانگریس کی حلیف تھیں۔ انتخابات کے بعد مرکز میں انہوں نے حکومت میں شامل ہوئے بغیر ہی کانگریس کی زیر قیادت یو پی اے کی مخلوط حکومت کی تائید کی لیکن اب کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان دوری پیدا ہونی شروع ہوگئی ہے اور اس کا آغاز آندھراپردیش سے ہوا ہے۔

ماضی میں تلگو دیشم اور سی پی آئی ایم کے درمیان اختلافات کی دو وجوہات تھیں۔ ایک تو بی جے پی سے تلگودیشم کے دوستانہ تعلقات اور دوسری طرف تلگو دیشم کی عالمی بینک کو خوش کرنے والی معاشی پالیسیاں-

2004 کے انتخابات میں اپنی شکست کے بعد چندرا بابو نائیڈو نے بی جے پی سے تعلقات منقطع کرلیئے تھے اور اب انہوں نے معاشی پالیسی بھی تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نائیڈو اپنے دور اقتدار میں معاشی اصلاحات کے سب سے بڑے وکیل اور عالمی بینک کے پوسٹر بوائے کی حیثیت سے مشہور تھے- لیکن اب انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ معاشی اصلاحات کو ایک انسانی چہرہ دینا ضروری ہے یعنی معاشی اصلاحات کے فائدے غریبوں ، کسانوں اور مزدوروں کو بھی ملنے چاہیں۔

اس طرح تلگو دیشم اور مارکسی پارٹی کے درمیان سمجھوتے کا راستہ ہموار ہے لیکن اس سے کانگریس کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔ ایک طرف تو اس سمجھوتے سے تلگو دیشم میں ایک نئی جان پڑی ہے تو دوسری طرف قومی سطح پر بھی بائیں بازو اور چھوٹی علاقائی جماعتوں کا نیا محاذ بننے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں اور یہ بات کانگریس اور یو پی اے کے لیئے ایک بری خبر ہوسکتی ہے-

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد