 | | | پولیس اب عام کارکنوں کی بجائے تنظیم کے بڑوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ |
نکسلی رہنماؤں کی ہلاکتیں آندھرا پردیش میں پولیس کے ہاتھوں بائیں بازو کی ممنوعہ انتہا پسند تنظیم سی پی آئی ماؤسٹ کے چوٹی کے رہنماؤں کی ہلاکت کا سلسلہ برابر جاری ہے اور جو بچے ہوئے ہیں ان پر بھی پولیس کا شکنجہ کستا جا رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں اس سب سے بڑی ماؤسٹ تنظیم کے دس بڑے رہنما مارے جا چکے ہیں۔یکے بعد دیگرے بڑے لیڈروں کا مارا جانا اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ پولیس نے اپنی حکمت عملی تبدیل کردی ہے اور وہ عام کارکنوں کو مارنے کی بجائے تنظیم کے بڑوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ تازہ سنسنی خیز واقعہ میں ہی تنظیم کا ایک مرکزی لیڈر پولیس سے بال بال بچا ہے۔ سدھاکر عرف ٹی ایل این چلم آندھرا۔اڑیسہ سرحدی کمیٹی کا ریاستی سیکریٹری اور چوٹی کے ماؤسٹ رہنما ہیں۔ پولیس کے مطابق وزیانگرم ضلع کے ایک گاؤں میں ایک چھاپے میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران سدھاکر ان کی گرفت میں آ گیا لیکن بعد میں وہ بچ نکلا جبکہ ماؤسٹوں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پولیس نے سدھاکر کو زخمی حالت میں گرفتار کیا ہے اور اب وہ انہیں ایک فرضی جھڑپ میں مارنے کی سازش تیار کر رہی ہے۔ وزیر داخلہ اور پولیس تردید کررہے ہیں کہ سدھاکر ان کی تحویل میں نہیں ہیں۔ سدھاکر کی والدہ نے ریاستی ہائی کورٹ میں پولیس کے خلاف حبس بے جا کی ایک درخواست دی ہے اور ہائیکورٹ نے پولیس سے کہا ہے کہ اگر اس نے سدھاکر کو گرفتار کیا ہے تو وہ اسے عدالت میں پیش کرے۔ سدھاکر وہی رہنما ہیں جنہوں نے اکتوبر 2004 ء میں ریاستی حکومت کے ساتھ امن بات چیت میں حصہ لیا تھا۔ انٹیلجنس کی کامیابی یا کچھ اور  | | | پولیس ماؤسٹ رہنماؤں کے خلاف معلومات کا پورا فائدہ اٹھا رہی ہے | ریاستی پولیس کے سربراہ سورنجیت سین ان دنوں بہت خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح سی پی آئی ماؤسٹ کے بڑے لیڈر پولیس کے ہاتھوں مارے جا رہے ہیں یہ پولیس کی انٹیلی جنس مشینری کی کامیابی ہے کیونکہ ان لیڈروں کے ٹھکانوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے بعد ہی یہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ تاہم اس کے برعکس یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعات صرف پولیس انٹیلی جنس کی کامیابی کی وجہ سے نہیں بلکہ خود سی پی آئی ماؤسٹ کی اندرونی گڑبڑ اور اقتدار کی کشمکش کا نتیجہ ہے اور کوئی شخص اپنے مخالفین کے خلاف پولیس کو اطلاعات فراہم کر رہا ہے۔ بہرحال وجہ کچھ بھی ہو ایسا لگتا ہے کہ پولیس کو ماؤسٹ رہنماؤں کے خلاف معلومات کا ایک خزانہ مل گیا ہے اور وہ اس کا پورا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ڈاونچی کوڈ۔ تاحال ایک معمہ  | | | مشتعل ہجوم نے سنیما میں تھوڑ پھوڑ بھی کی | ہالی ووڈ کی مشہور اور متنازعہ فلم ’ڈاونچی کوڈ‘ ابھی بھی آندھرا پردیش کے شائقین کی دسترس سے باہر ہے حالانکہ ریاست کی ہائیکورٹ نے اس فلم پر لگائی گئی حکومتی پابندی ختم کر دی ہے لیکن اس جمعہ بھی یہ فلم ریلیز نہیں ہو سکی۔ اس مرتبہ یہ فلم حیدرآباد کے ایک ہی سنیما گھر میں ریلیز ہونے والی تھی لیکن فلم شو کے آغاز سے کچھ ہی دیر قبل عیسائی احتجاجیوں کا ایک ہجوم تھیٹر میں گھس گیا اور وہاں توڑ پھوڑ کا بازار گرم کر دیا۔ فلم کو عیسائیت کے دشمنوں کی سازش قرار دیتے ہوئے احتجاجیوں نے کہا کہ اگر دوبارہ یہ فلم ریلیز کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ تھیٹر کو ہی آگ لگا دیں گے۔ عیسائی تنظیمیں ریاستی حکومت سے ناراض ہیں کہ اس نے یہ مقدمہ ہائی کورٹ میں اچھی طرح سے کیوں نہیں لڑا اور وہ کیوں پابندی برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔مفت ٹیلی ویژن بھی ’مہنگے‘
 | | | تمل ناڈو حکومت کو انتخابی وعدہ نبھانا مہنگا پڑ رہا ہے | اب کچھ بات تمل ناڈو کے مفت ٹیلی ویژن سیٹ کی۔ ریاستی حکومت نے کچھ دن پہلے دو ہزار روپے فی سیٹ کے حساب سے 14 انچ کے رنگین ٹیلی ویژن سیٹس کی فراہمی کے لیئے جو عالمی ٹینڈر جاری کیا تھا اس کا ٹیلی ویژن بنانے والی کمپنیوں سے کچھ زیادہ حوصلہ افزا جواب نہیں ملا ہے کیونکہ ان کے حساب سے دو ہزار روپے فی سیٹ قیمت بہت کم ہے چنانچہ اب ریاستی حکومت یہ قیمت بڑھا کر تین ہزار روپے کرنے پر غور کر رہی ہے لیکن ٹی وی بنانے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ قیمت بھی کم ہوگی اور اس قیمت پر ٹی وی تیار کیا گیا تو اس کا معیار خراب ہوگا۔ تاہم حکومتی عہدیدار کہہ رہے ہیں کہ جس کمپنی کو بھی یہ ٹھیکہ ملے گا اسے آئندہ دو برسوں میں پچاس لاکھ سیٹ تیار کرنے ہوں گے اور اتنے بڑے پیمانے پر ٹی وی سیٹوں کی پیداوار سے نہ صرف لاگت کم آئے گی بلکہ اس کمپنی کو اچھا خاصا منافع بھی ملے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایک انتخابی وعدے کی تکمیل کے لیئے کروناندھی حکومت کو ابھی کتنے نشیب و فراز سے گزرنا پڑے گا اور اس سکیم کے خد و خال میں اور کتنی تبدیلیاں آئیں گی۔ |