حیدرآباد: راشٹرپتی نیلائم میں ہلچل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حیدرآباد کے شمالی مضافات میں بولارم کے مقام پر ایک سفید رنگ کی خوبصورت عمارت سب ہی کی توجہ کا مرکز ہے۔ نوّے ایکڑ کے سرسبز و شاداب علاقے سے گھری یہ عمارت ’راشٹرپتی نیلائم‘ ہے جہاں ماضی میں ہندوستان کے صدر ہر برس ایک مرتبہ کچھ روز کے لیۓ قیام کرتے تھے اور اسے’سدرن سجرن‘ (southern sojourn ) کہا جاتا تھا۔ صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام پہلی مرتبہ اس عمارت میں قیام کے لیۓ حیدرآباد آئے ہیں اور تقریباً چھ برس کے وقفے کے بعد اس صدارتی محل میں زندگی کی ہلچل واپس لوٹی ہے۔ اس سے پہلے سنہ 2000 میں کے آر نارائنن اپنی شریک حیات کے ساتھ یہاں آئے تھے۔ ان کے پیشرو شنکر دیال شرما اور ان سے بھی پہلے آر وینکٹ رامن نے اس تاریخی عمارت میں وقت گزارا تھا۔ ایسی ہی ایک عمارت شملہ میں بھی ہے اور وہاں بھی وقفے وقفے سے مختلف صدور نے قیام کیا ہے- یہ دونوں عمارتیں اور ان میں صدر جمہوریہ کا قیام بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ راشٹرپتی بھون کے عہدیدار کہتے ہیں کہ یہ رسم اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صدر جمہوریہ کا عہدہ قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ عبدالکلام کی آمد اور قیام سے راشٹرپتی نیلائم میں ایک نئی ہلچل تو ہے لیکن اس عمارت کے عہدیداروں کو اس بات پر بڑا اچنبھا ہے کہ ڈاکٹر عبدالکلام جو پروگرام لیکر آئے ہیں وہ ان کے پیشروؤں سے مختلف ہے۔ ماضی میں مختلف صدور زیادہ تر آرام کرنے اور مختلف تفریحی اور رسمی پروگراموں میں شرکت کے لیۓ کئی دنوں کے دورے پر یہاں آتے تھے۔ لیکن اپنی مسلسل مصروفیت کے لیۓ مشہور عبدالکلام صرف دو دن کے لیۓ آئے ہیں۔ وہ جمعہ اور ہفتے کو کئی پروگرامز میں شرکت کرینگے۔ راشٹرپتی نیلائم کےایک چھوٹے سنیما ہال کو ایک میٹنگ ہال میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں عبدالکلام نے ’بائیو ڈیزل‘ کے موضوع پر ایک ورکشاپ میں حصہ لیا ہے۔ اس میں ملک بھر سے کئی سائنسدان اور ماہرین شریک ہوئے ہیں۔ وہ صنعت کاروں کی ایک تنظیم ’انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹکنالوجی‘ اور ایک مشہور تلگو فلم اسٹار چرنجیوی کے چیریٹیبل ٹرسٹ کے اجلاس سے بھی خاطب کرینگے۔ صدر جمہوریہ بھلے ہی آرام نہ کریں لیکن ان کے اس دورے کے بہانے اس شاندار عمارت کی مرمت و تزئین نو کا کام ہوگیا ہے جس پر ساٹھ لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ راشٹرپتی نیلائم کی عمارت نظام دکن کے کئی محلات میں سے ایک تھی۔ یہ 1860 میں سکندر آباد میں برطانوی فوجی افسران کے قیام کے لیۓ بنائی گئی تھی۔ اس میں گیارہ کمرے، ایک دربار ہال اور کئی دوسری سہولتیں موجود ہیں۔ لیکن اس کے کم استعمال سے عمارت کے آس پاس اچھا خاصا جنگل اگ آیا ہے۔ صدر عبدالکلام نے ہدایت دی ہے کہ چونکہ وہ جنوبی ہند کی سادی غذا زیادہ پسند کرتے ہیں اس لیے انکے لیے انواع اقسام کے پکوان نہ تیار کیے جائیں۔ نئی دلی میں شاندار راشٹرپتی بھون پر بھی اپنی سادگی کی چھاپ چھوڑنے کے بعد غیر شادی شدہ صدر جمہوریہ راشٹرپتی نیلائم پر بھی ایسی ہی چھاپ چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔ | اسی بارے میں خط نہیں دیں گے:راشٹرپتی بھون17 June, 2005 | انڈیا پردہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں 21 March, 2006 | انڈیا پاکستانی اشیاء نے دکن کا دل جیت لیا11 February, 2006 | انڈیا حیدرآباداردوسمینار، کمپیوٹر لِٹریسی 05 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||