خط نہیں دیں گے:راشٹرپتی بھون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راشٹرپتی بھون کے دفتر نے گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات کے متعلق سابق صدر کے ایک خط کو ناناوتی کمیشن کو دینے سے انکار کردیا ہے۔ سابق صدر کے آر نارائنن نے اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کو خط لکھ کرگجرات میں فسادات پر قابو پانے کے لیے تاخیر سے فوج کی تعیناتی پر تشویش ظاہر کی تھی ۔ گجرات کے فرقہ وارانہ فسادات کی تفتیش ایک عدالتی کمیشن کر رہا ہے۔ اس کمیشن کی قیادت جج جی ٹی نانا وتی اور شاہ کررہے ہیں۔ کمیشن نے صدارتی دفتر سے اس خط کی نقول دینے کی گزارش کی تھی۔ لیکن کمیشن کا کہنا ہے کہ راشٹرپتی بھون کے ایک سیکریٹری نے وہ دستاویزات یہ کہ کر دینے سے منع کردیا ہے کہ یہ صدر کی مرآعات کے خلاف ہوگا۔ گزشتہ مارچ کے مہینے میں ایک میگزین میں سابق صدر کے آرنارئنن کے حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ انہوں نے فسادات کے دوران اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کو خط لکھ کر تیزی سے فوج تعینات کر نے کو کہا تھا۔ میگزین کے مطابق مسٹر نارئنن نے کہا تھا کہ اگر فسادات سے متاثرہ علاقوں میں وفاقی حکومت فوج کو جلدی تعینات کرتی تو بہت سی جانوں کو بچایا جاسکتا تھا۔ میگزین میں اس انکشاف کے بعد کمیشن نے سابق صدر کے آر نارائنن کو پوچھ گچھ کے لیے دعوت دی تھی۔ مسٹر نارئنن نے میگزین میں اپنے حوالے سے شائع بیانات کو تقریبا صحیح قرار دیا تھا۔ لیکن کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا تھا۔ اسکے بعد فسادات سے متاثرہ مسلمانوں کے وکلاء نے اس خط کی نقول پیش کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||